Header Ads Widget

Responsive Advertisement

کائنات، خالق اور انسانی وجود

کائنات، خالق اور انسانی وجود: ایک ابدی و جذباتی مکالمہ

سکوتِ ازل اور حرفِ تمنا


کائنات کی اس طویل داستان کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں نہ کوئی رنگ تھا، نہ کوئی خوشبو، اور نہ ہی وقت کی کوئی لکیر۔ ایک ایسا مہیب اور گہرا سناٹا جو خود اپنے بوجھ سے دبا جا رہا تھا۔ عدم کے اس اتھاہ سمندر میں، اے میرے خالق! صرف تو ہی تھا جو اپنی وحدت کے جلال میں پوشیدہ تھا۔ پھر اچانک، تیری قدرت کے ماتھے پر ایک ارادہ چمکا، ایک ایسی خواہش جو ظہور کی متمنی تھی۔ تو نے چاہا کہ تو پہچانا جائے، تو نے چاہا کہ تیرے حسن کی تجلی کو کوئی دیکھنے والی آنکھ میسر آئے۔

اور پھر وہ لمحہ آیا جس نے عدم کی بنیادیں ہلا دیں۔ تیرے لبوں سے "کُن" کی وہ صدا نکلی جس نے سکوتِ ازل کے پرخچے اڑا دیئے۔ یہ صرف ایک لفظ نہیں تھا، یہ ایک ایسا انفجار (Explosion) تھا جس سے روشنی کے اربوں فوارے پھوٹے، زمان و مکان کی چادریں بنیں، اور ستاروں کی دھول فضاؤں میں رقص کرنے لگی۔ کہکشائیں وجود کے ساحل پر لہروں کی طرح بکھرتی گئیں اور کائنات نے اپنی پہلی سانس لی۔ لیکن اس مہیب وسعت میں، اس بے پناہ نور اور آگ کے کھیل میں، ایک ایسی کمی تھی جسے صرف مٹی کا ایک پتلا ہی بھر سکتا تھا۔

تخلیقِ آدم: مٹی اور نور کا سنگم

اے کائنات کے معمار! تو نے فرشتوں کے ہجوم میں مٹی کو پکارا، اس خاک کو جو پاؤں تلے روندی جاتی تھی، جو بے وقعت تھی اور جس کی کوئی اپنی پہچان نہ تھی۔ تو نے اس مٹی کو چنا، اسے اپنے دستِ قدرت سے ایک ایسی شکل دی جو تیرے ہی حسن کا پرتو بنی۔ فرشتوں نے حیرت سے دیکھا کہ اس حقیر مادے میں ایسا کیا ہے کہ اسے مسجودِ ملائک بنایا جا رہا ہے؟

لیکن راز تو اس وقت کھلا جب تو نے اس مٹی کے ڈھیر میں روح پھونکی۔ وہ لمحہ میری ہستی کا اصل آغاز تھا۔ جیسے ہی پھونک کی حرارت میرے خمیر میں اتری، مٹی کا وہ بے جان لوتھڑا ایک متلاطم سمندر بن گیا۔ میرے اندر احساس کی پہلی شمع جلی، میرے دل نے پہلی مرتبہ دھڑکنا سیکھا، اور میری روح نے اس کائنات کی وسعتوں کو دیکھ کر پہلی مرتبہ ایک ایسی پکار بلند کی جو "محبت" کہلائی۔ میں مٹی کی قبا پہنے ہوئے نور کا ایک ایسا شعلہ بنا دیا گیا جسے اب ابد تک بجھنا نہیں تھا۔

کائنات: میری روح کا وسیع آئینہ

جب میں نے پہلی بار آنکھ کھولی اور تیرے بنائے ہوئے اس جہاں کو دیکھا، تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ ستارے، یہ سیارے اور یہ دور دراز کی کہکشائیں مجھ سے جدا نہیں ہیں۔ اے میرے مالک! یہ نیلا آسمان دراصل میری اپنی وسعتِ تخیل کا ایک عکس ہے جسے تو نے باہر کہیں معلق کر دیا ہے تاکہ میں اپنی پرواز کی حدوں کو پہچان سکوں۔ یہ سمندروں کا جوار بھاٹا، یہ لہروں کا ساحلوں سے ٹکرانا اور یہ طوفانوں کی شورش ۔۔۔۔ یہ سب میرے ہی اندر کے ان جذبات کا اظہار ہے جو تیرے وصال کے لیے ہمہ وقت مچلتے رہتے ہیں۔

میں نے پہاڑوں کی ہیبت میں تیری عظمت کو دیکھا، اور پھولوں کی نزاکت میں تیری لطافت کو پایا۔ کائنات کا ہر ذرہ ایک زبان بن گیا جو مجھ سے کلام کرتا ہے۔ ہواؤں کی سرسراہٹ میں مجھے اپنی ہی وہ آہیں سنائی دیتی ہیں جو میں نے تنہائی کے عالم میں تیری یاد میں بھری تھیں۔ میں نے جانا کہ میں کائنات کا محض ایک حصہ نہیں ہوں، بلکہ میں وہ خلاصہ ہوں جس کے لیے یہ پوری بساط بچھائی گئی ہے۔ اگر میں نہ ہوتا، تو تیرے اس عظیم شاہکار کو سراہنے والا کون ہوتا؟ اگر میری آنکھ نہ ہوتی، تو ان رنگوں کی قیمت کیا ہوتی؟

انسانی احساس: درد کی مقدس کیمیا گری

تو نے مجھے "احساس" کی وہ دولت عطا کی جو کائنات کی تمام مادی دولت پر بھاری ہے۔ انسان ہونا دراصل ایک دائمی بے چینی کا نام ہے۔ تو نے میرے سینے میں ایک ایسا دل رکھا ہے جو کبھی مطمئن نہیں ہوتا، جو ہمیشہ ایک ایسی گمشدہ شے کی تلاش میں رہتا ہے جسے وہ خود بھی نہیں جانتا۔ یہ تڑپ، یہ اضطراب، اور یہ بے کلی ۔۔۔ یہ وہ زنجیریں ہیں جو مجھے تیری چوکھٹ سے باندھ کر رکھتی ہیں۔

میں نے درد کی گہرائیوں میں تجھے پایا ہے۔ جب میرا دل ٹوٹتا ہے، جب میں اپنوں کی بے وفائی یا زمانے کی بے رحمی سے چور ہو کر اکیلا رہ جاتا ہوں، تب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرے دل کے ان ہی دراڑوں سے تیری رحمت کا نور اندر داخل ہو رہا ہے۔ تو نے غم کو میرے لیے ایک بھٹی بنا دیا ہے، جس میں تپ کر میری روح کندن بنتی ہے۔ میرا رونا، میرا گڑگڑانا اور میرا اپنی کمزوری کا اعتراف کرنا ہی وہ راستہ ہے جو مٹی کے اس قیدی کو تیرے عرش تک لے جاتا ہے۔

اے میرے خالق! میرے آنسوؤں کا ہر قطرہ ایک ایسی عبارت ہے جسے صرف تو ہی پڑھ سکتا ہے۔ یہ وہ سیاہی ہے جس سے میں اپنے وجود کی داستان تیرے حضور لکھتا ہوں۔ میں جب ٹوٹتا ہوں، تو دراصل میں بنتا ہوں۔ میرا ہر دکھ ایک سیڑھی ہے، میرا ہر زخم ایک چراغ ہے، اور میری ہر آہ تیری طرف بڑھنے والا ایک قدم ہے۔

عقل کی درماندگی اور وسعتِ افلاک کا سحر

اے ازل کے مسافر! جب میں نے اپنے گرد و پیش پر غور کرنا شروع کیا، جب میری عقل نے اس کائنات کے سربستہ رازوں کو اپنی گرفت میں لینے کی سعی کی، تو مجھے معلوم ہوا کہ میں ایک ایسے سمندر کے کنارے کھڑا ہوں جس کی وسعتوں کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ میری عقل نے ستاروں کے فاصلے ناپے، سیاروں کی گردش کا حساب لگایا، اور روشنی کی رفتار کو پیمانہ بنایا؛ مگر جوں جوں میں نے اس طلسمِ کائنات کی تہوں کو کھولا، میری حیرت بڑھتی گئی اور میرا غرور خاک میں ملتا گیا۔

میں نے دوربینوں کی آنکھ سے ان کہکشاؤں کو دیکھا جو مجھ سے کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر رقص کر رہی ہیں، جہاں وقت خود اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔ وہاں، ان مہیب بلیک ہولز (Black Holes) کے دہانوں پر اور ستاروں کی ان آخری پناگاہوں میں، میری عقل نے محسوس کیا کہ وہ کتنی تہی دست ہے۔ اے میرے خالق! تیری کائنات کی ہیبت میرے تخیل سے زیادہ وسیع نکلی۔ جب میں خود کو اس لامحدود کائنات کے نقشے پر دیکھتا ہوں، تو میرا وجود ایک ریت کے ذرے سے بھی حقیر محسوس ہوتا ہے۔ لیکن پھر ایک خیال میری روح کو تھام لیتا ہے: اگر میں اتنا ہی حقیر ہوتا، تو تو مجھے اپنے ادراک کی تڑپ کیوں عطا کرتا؟ اگر میں محض ایک حادثہ ہوتا، تو مری عقل ان ستاروں کے نظام میں چھپی تیری ریاضی کو کیسے سمجھ پاتی؟

روح کی پکار اور مادے کا حجاب

انسان صرف مادہ نہیں، وہ ایک ایسی تڑپ کا نام ہے جس کا ایندھن خود اس کا وجود ہے۔ میری روح اس مٹی کے پنجرے میں اس لیے بے چین رہتی ہے کیونکہ اس کا اصل وطن یہ کائنات نہیں، بلکہ تیری قربت کا وہ مقام ہے جہاں زمان و مکان کا وجود نہیں رہتا۔ میں نے مادی آسائشوں میں سکون ڈھونڈا، میں نے علم کے انبار لگائے، میں نے زمین کی تہوں اور سمندروں کی گہرائیوں کو چھانا، مگر میرے اندر کا وہ خالی پن نہ بھر سکا۔

یہ خالی پن دراصل تیرا وہ مقام ہے جسے تو نے میرے اندر محفوظ کر رکھا ہے، تاکہ میں کبھی اس دنیا کو اپنی آخری منزل نہ سمجھ لوں۔ میری ہر بے نام اداسی، میری ہر وہ آہ جس کا کوئی ظاہری سبب نہیں ہوتا، دراصل میری روح کی وہ پکار ہے جو اپنے مرکز کی طرف لوٹنے کے لیے بے تاب ہے۔ اے میرے مالک! یہ مادے کا حجاب کتنا گہرا ہے، یہ جسم کی دیوار کتنی اونچی ہے کہ میں خود اپنے آپ سے کٹا ہوا محسوس کرتا ہوں۔ میں اپنے ہی اندر ایک اجنبی کی طرح رہتا ہوں، ایک ایسا مسافر جو اپنی منزل کا راستہ بھول کر سرائے کی رنگینیوں میں کھو گیا ہو، مگر جس کا دل اب بھی اپنے پرانے گھر کی خوشبو کو نہیں بھولا۔

سائنس، فلسفہ اور وجدان کا تضاد

عقل کہتی ہے کہ جو نظر نہیں آتا وہ موجود نہیں، مگر میرا وجدان پکارتا ہے کہ جو سب سے زیادہ موجود ہے وہی نظروں سے اوجھل ہے۔ میں نے ایٹم (Atom) کے اندر چھپی توانائی کو دیکھا، میں نے خلیوں کے ڈی این اے (DNA) میں لکھی ہوئی اس تحریر کو پڑھا جو حیات کی بقا کا ضامن ہے؛ مگر ان سب کے پیچھے جو عظیم ڈیزائنر (Designer) چھپا ہے، عقل اسے چھونے سے قاصر ہے۔ فلسفیوں نے دلیلوں کے انبار لگائے، منطق کے محل تعمیر کیے، مگر جب بات تیرے عشق کی آئی تو ان کی تمام دلیلیں لنگڑی ثابت ہوئیں۔

تیری معرفت کا راستہ عقل کی گلیوں سے نہیں، بلکہ دل کے اس نازک راستے سے گزرتا ہے جہاں انا کا بوجھ اتار کر چلنا پڑتا ہے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ جب میں بہت زیادہ "جان" لیتا ہوں، تو میں تجھ سے دور ہو جاتا ہوں؛ مگر جب میں "حیرت" میں ڈوبتا ہوں، تو تو میرے پاس آ جاتا ہے۔ یہ حیرت ہی تو وہ دروازہ ہے جہاں سے سچی بندگی شروع ہوتی ہے۔ میں تیرے شاہکار کو دیکھ کر جتنا زیادہ حیران ہوتا ہوں، میری روح اتنی ہی زیادہ سبک ہو کر تیرے عرش کی طرف پرواز کرتی ہے۔

تنہائی کا فلسفہ اور ہم کلامی کی تڑپ

اے میرے ہمدم! اس ہجومِ کائنات میں انسان کتنا اکیلا ہے، اور یہ تنہائی کتنی مقدس ہے۔ میں جب سب سے کٹ کر تنہا ہوتا ہوں، تبھی میں تیرے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہوں۔ یہ تنہائی دراصل وہ خلوت گاہ ہے جہاں میری روح تجھ سے ہم کلام ہوتی ہے۔ میں جب چپ ہوتا ہوں، تو میری خاموشی تیری ثناء خوانی بن جاتی ہے۔ میں نے پہاڑوں کی چوٹیوں پر، صحراؤں کی وسعتوں میں اور رات کے آخری پہر کی خاموشی میں تیری موجودگی کو ایسے محسوس کیا ہے جیسے رگوں میں خون گردش کرتا ہے۔

میری تنہائی کا کرب دراصل تیری تلاش کا ایک حصہ ہے۔ تو نے مجھے تنہا اس لیے چھوڑا تاکہ میں یہ جان لوں کہ تیرے سوا میرا کوئی سہارا نہیں۔ دنیا کے تمام رشتے، تمام دوستیاں اور تمام محبتیں دراصل تیرے ہی پیار کی ٹوٹی پھوٹی پرچھائیاں ہیں۔ میں نے جس سے بھی پیار کیا، دراصل اس کے اندر تیری ہی کسی صفت کو تلاش کیا۔ میری ہر محبت کا اختتام تیری ہی محبت پر ہوتا ہے۔ میں نے جس در پر بھی دستک دی، وہاں سے خالی ہاتھ لوٹا تاکہ آخر کار تیرے در کی خاک میرا مقدر بنے۔

فطرت کے مظاہر: تیرے جمال کے گواہ

اے کائنات کے مصور! تیری قدرت کے رنگ صرف افلاک کی بلندیوں تک محدود نہیں، بلکہ وہ میرے پیروں تلے بچھی خاک کے ایک ایک ذرے میں پوشیدہ ہیں۔ جب صبحِ صادق کا سپیدہ نمودار ہوتا ہے اور شبنم کے قطرے پھولوں کی پنکھڑیوں پر وضو کرتے ہیں، تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ پوری کائنات ایک خاموش عبادت میں مصروف ہے۔ یہ پرندوں کی چہچہاہٹ، یہ درختوں کا ہواؤں کے دوش پر جھومنا، اور یہ ندیوں کا پتھروں سے سر ٹکراتے ہوئے بہنا—یہ سب تیرے حضور پیش کی جانے والی وہ نعت ہے جس کے لیے کسی حروف و بیان کی ضرورت نہیں۔

میں نے دیکھا ہے کہ سورج کس طرح تیرے حکم کی اطاعت میں ہر روز ایک ہی سمت سے ابھرتا ہے، اور چاند کس طرح اپنی منزلیں طے کرتے ہوئے تیری تسبیح پڑھتا ہے۔ فطرت کا یہ توازن، یہ بدلتے ہوئے موسموں کی ترتیب، اور یہ بیج سے کونپل پھوٹنے کا معجزہ ۔۔۔ یہ سب مجھے بتاتے ہیں کہ کائنات کا کوئی بھی حصہ عبث نہیں۔ جب میں کسی کلی کو چٹختے دیکھتا ہوں، تو مجھے تیرے "خالق" ہونے کا وہ لطیف پہلو سمجھ آتا ہے جو عقل کی بڑی بڑی کتابوں میں درج نہیں۔ فطرت میرا وہ مدرسہ ہے جہاں میں نے بغیر کہے سنا اور بغیر دیکھے مانا۔

انسانی تضادات: مٹی کی پستی اور روح کی بلندی

اے میرے مالک! تو نے میرے خمیر میں تضادات کا ایک ایسا طوفان بھر دیا ہے جو مجھے ہر پل بے چین رکھتا ہے۔ میں ایک طرف تو فرشتوں سے بلند ہونے کا حوصلہ رکھتا ہوں، اور دوسری طرف میرا نفس مجھے اسفل السافلین کی گہرائیوں میں دھکیل دیتا ہے۔ میں محبت کا داعی بھی ہوں اور نفرت کا علمبردار بھی۔ میرے ایک ہاتھ میں امن کا سفید پرچم ہے تو دوسرے میں ہوس کی تلوار۔ یہ تضاد ہی تو میرا وہ امتحان ہے جس کے لیے مجھے زمین پر بھیجا گیا۔

میں نے اکثر محسوس کیا ہے کہ جب میں خیر کی طرف قدم بڑھاتا ہوں، تو کائنات کی تمام طاقتیں میرا ساتھ دینے لگتی ہیں؛ مگر جب میں شر کی وادیوں میں بھٹکتا ہوں، تو ستارے بھی مجھ پر ماتم کرتے ہیں۔ میری انا مجھے دیوتا بننے کا فریب دیتی ہے، مگر میری بھوک اور پیاس مجھے یاد دلاتی ہے کہ میں محض ایک محتاج بندہ ہوں۔ اے میرے خالق! میرے اندر کی یہ جنگ کب ختم ہوگی؟ میں کب تک اپنی مٹی اور اپنی روح کے درمیان پستا رہوں گا؟ یہ کشمکش ہی دراصل وہ تراش خراش ہے جو میرے جوہر کو نمایاں کرتی ہے۔ میں گرتا ہوں، سنبھلتا ہوں، توبہ کرتا ہوں اور پھر تیرے در پر آ جاتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تیرے سوا میرا کوئی ٹھکانہ نہیں۔

زندگی کا سفر: آزمائش کی ایک کٹھن راہ

زندگی میرے لیے کوئی آرام گاہ نہیں، بلکہ ایک ایسی مسافت ہے جہاں قدم قدم پر آزمائشوں کے کانٹے بچھے ہیں۔ تو نے مجھے دنیا میں بھیج کر یہ نہیں کہا کہ یہاں صرف خوشیاں ملیں گی، بلکہ تو نے مجھے "صبر" کا وہ ہتھیار دیا جس سے میں ہر مشکل کو سر کر سکوں۔ میں نے دیکھا ہے کہ کس طرح خوشیاں ڈھلتے سائے کی طرح گزر جاتی ہیں اور غم کسی بوڑھے درخت کی طرح جڑیں پکڑ لیتے ہیں۔ لیکن ان ہی غموں کی چھاؤں میں، میں نے وہ بصیرت پائی ہے جو دھوپ کی چمک میں اوجھل تھی۔

میری زندگی کا ہر حادثہ دراصل تیری طرف سے بھیجا گیا ایک پیغام تھا۔ جب کسی پیارے نے میرا ساتھ چھوڑا، تو تو نے مجھے سکھایا کہ ابدی ساتھ صرف تیرا ہے۔ جب میری محنت اکارت گئی، تو تو نے مجھے بتایا کہ نتائج کا مالک تو ہے، بندہ تو صرف کوشش کا مکلف ہے۔ میں نے جتنا زیادہ زندگی کو سمجھا، اتنا ہی زیادہ اسے ایک مختصر سرائے پایا۔ یہ رنگینیاں، یہ ہنگامے اور یہ رشتے—سب ایک پردہِ سیمیں کی طرح ہیں جو اصل حقیقت کو چھپائے ہوئے ہیں۔ میں اس اسٹیج پر اپنا کردار ادا تو کر رہا ہوں، مگر میری نظریں اس پردے کے پیچھے چھپے ہوئے اصل ڈائریکٹر پر جمی ہیں۔

موت کا تصور: ایک نئے جنم کی بشارت

اور پھر وہ مرحلہ آتا ہے جس کے نام سے ہی انسان تھرا اٹھتا ہے—موت۔ لیکن اے میرے خالق! تیرے عاشقوں کے لیے موت کوئی خاتمہ نہیں، بلکہ یہ تو اس قید خانے کی دیوار کا گرنا ہے جس نے روح کو صدیوں سے محبوس کر رکھا تھا۔ موت تو وہ پل ہے جو ایک بچھڑے ہوئے قطرے کو اس کے اصل سمندر سے ملا دیتا ہے۔ مٹی کی یہ قبا زمین کی امانت ہے، اسے زمین کو لوٹانا ہی پڑے گا؛ مگر وہ نور جو تو نے میرے اندر پھونکا تھا، وہ کبھی فنا نہیں ہو سکتا۔

میں نے موت کو ایک ہیبت ناک سائے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسی ماں کی آغوش کے طور پر دیکھا ہے جو تھکے ہوئے مسافر کو لوری سنا کر سلا دیتی ہے تاکہ وہ ایک نئی اور روشن صبح میں آنکھ کھول سکے۔ یہ مادی جسم جو بوڑھا ہوتا ہے، جو تھکتا ہے، جو بیمار پڑتا ہے—یہ محض ایک لباس ہے۔ جب یہ لباس تار تار ہو جاتا ہے، تو روح اسے اتار پھینکتی ہے اور اپنے اصلی اور ابدی سفر پر روانہ ہو جاتی ہے۔ موت تو وہ لمحہِ وصال ہے جس کا وعدہ تو نے ازل میں کیا تھا۔ یہ وہ دروازہ ہے جہاں سے گزر کر انسان اپنی کم مائیگی کی حدوں کو عبور کر کے تیری لامتناہی رحمتوں کے سائے میں پہنچ جاتا ہے۔

بے بسی کا اعتراف: عجز کی آخری سرحد

اے میرے مالک، اے زمان و مکان کے خالق! جب میں اپنے اس پورے سفر پر نظر دوڑاتا ہوں، تو مجھے اپنی اوقات ایک ایسے خواب سے زیادہ کچھ محسوس نہیں ہوتی جو آنکھ کھلتے ہی ہوا ہو جاتا ہے۔ میں نے جتنا بھی پایا، وہ تیری عطا تھی؛ میں نے جتنا بھی جانا، وہ تیرا القا تھا۔ میں اپنے علم پر اتراتا رہا، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ میں اپنے ہی وجود کے اس پرسرار نظام کو سمجھنے سے قاصر ہوں جو ہر لمحہ تیری قدرت کا معجزہ دکھاتا ہے۔ میری بے بسی کا یہ عالم ہے کہ میں ایک سانس لیتا ہوں تو دوسری کا مجھے اختیار نہیں، میں ایک قدم اٹھاتا ہوں تو دوسرے کی مجھے ضمانت نہیں۔

میری طاقت، میرا اختیار، میرا کمال—یہ سب ایک سراب ہیں۔ میں اس پتے کی مانند ہوں جو ہواؤں کے رحم و کرم پر ہے، مگر میرا غرور اتنا بلند تھا کہ میں نے خود کو کائنات کا محور سمجھ لیا۔ آج جب میں تیرے جلال اور تیری بے کراں وسعتوں کے سامنے کھڑا ہوں، تو مجھے اپنی کم مائیگی پر رونا آتا ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی ان مصلحتوں اور جھوٹے سہاروں کی نذر کر دی جو ریت کی دیوار سے زیادہ مضبوط نہ تھے۔ میں کتنا نادان تھا کہ میں نے اس مٹی کو اپنا گھر سمجھا، حالانکہ میں تو یہاں صرف ایک مسافر تھا جسے تیری پکار کا انتظار کرنا تھا۔

عقیدت اور شکر گزاری: ایک ممنون روح کا نذرانہ

لیکن اے رحیم و کریم! میری اس بے چارگی کے باوجود، تیرا احسان ہے کہ تو نے مجھے اپنی محبت کے لیے چنا۔ تو چاہتا تو مجھے پتھر بنا دیتا جس میں کوئی احساس نہ ہوتا، تو چاہتا تو مجھے وہ ستارہ بنا دیتا جو محض ایک حکم کی اطاعت میں جلتا رہتا؛ مگر تو نے مجھے "انسان" بنایا۔ تو نے مجھے وہ دل دیا جو تڑپ سکتا ہے، وہ آنکھ دی جو رو سکتی ہے، اور وہ شعور دیا جو تجھے پہچان سکتا ہے۔ میرا ذرہ ذرہ تیری اس کرم نوازی پر سجدہ ریز ہے۔

میں شکر گزار ہوں ان غموں کا، جنہوں نے مجھے دنیا کی ہوس سے آزاد کر کے تیرے قریب کیا۔ میں شکر گزار ہوں ان ناکامیوں کا، جنہوں نے میرا غرور توڑ کر مجھے عاجزی کا ذائقہ چکھایا۔ میں شکر گزار ہوں ان تنہائیوں کا، جہاں میرے اور تیرے سوا کوئی تیسرا نہ تھا۔ تیری نعمتوں کا شمار تو ممکن ہی نہیں؛ ہر وہ سانس جو میری سینے میں اترتی ہے، وہ تیری رحمت کا ایک نیا پیغام لے کر آتی ہے۔ تو نے مجھے اس وقت بھی تھاما جب میں خود کو چھوڑ چکا تھا، تو نے مجھے اس وقت بھی رزق دیا جب میں تیرا نافرمان تھا، اور تو نے میری پردہ پوشی اس وقت بھی کی جب میں گناہوں کی دلدل میں دھنسا ہوا تھا۔ تیری محبت کی وسعتوں کا تصور ہی میری عقل کو مفلوج کر دیتا ہے۔

فنا و بقا: بندگی کا حتمی عروج

اے ازلی نور! اب میں اس مقام پر ہوں جہاں لفظ ختم ہو جاتے ہیں اور صرف ایک خاموش سرشاری باقی رہ جاتی ہے۔ بندگی کا عروج یہ نہیں کہ میں تجھے پا لوں، بلکہ بندگی کا عروج یہ ہے کہ میں خود کو مٹا دوں۔ جب تک "میں" باقی ہوں، میں تجھ سے دور ہوں؛ جس دن یہ "میں" ختم ہو جائے گی، اسی دن وصال کی پہلی کرن پھوٹے گی۔ میں اپنی انا، اپنی خواہشات، اور اپنی ہستی کو تیرے حضور نذر کرتا ہوں۔ میں فنا ہونا چاہتا ہوں تاکہ تیری بقا کا حصہ بن سکوں۔

کائنات کے اس عظیم رقص میں، میں ایک ایسا ذرہ بننا چاہتا ہوں جو سورج کی روشنی میں اس طرح گم ہو جائے کہ اس کی اپنی کوئی پہچان باقی نہ رہے۔ میری بے بسی ہی میری طاقت بن جائے، اور میرا عجز میرا سب سے بڑا اعزاز۔ فنا کا یہ راستہ کتنا کٹھن لگتا تھا، مگر اب یہ کتنا سہل اور دلکش معلوم ہوتا ہے؛ کیونکہ میں جان گیا ہوں کہ مٹ جانا ہی دراصل ہمیشہ کے لیے جی اٹھنا ہے۔ بقا صرف تیری ذات کو ہے، اور میری بقا تیرے قدموں کی دھول بن جانے میں ہے۔

اختتامی دعا: ابدی التجا

اے میرے رب، اے روحوں کے محرم! اب جب کہ میرا یہ کلام اختتام کو پہنچ رہا ہے، میری صرف ایک ہی التجا ہے: مجھے اپنے سے کبھی جدا نہ کرنا۔ یہ دنیا مجھے اپنی رنگینیوں میں الجھانا چاہے گی، میرا نفس مجھے پھر سے خود پسندی کا سبق پڑھائے گا، مگر تو میرے دل پر اپنی یاد کی ایسی مہر لگا دے کہ کوئی بھی غیر وہاں داخل نہ ہو سکے۔ مجھے وہ آنکھ دے جو ہر شے میں تیرا جلوہ دیکھے، وہ کان دے جو ہر آواز میں تیرا حکم سنیں، اور وہ وجود دے جو تیری رضا پر ہر حال میں راضی رہے۔

میں اپنی کم مائیگی، اپنی تہی دست ہونے اور اپنی نادانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے تیرے دامنِ رحمت میں پناہ لیتا ہوں۔ میری اس تحریر کو میری عقیدت کا آخری نذرانہ قبول فرما۔ میں کچھ بھی نہیں ہوں، میں خاک ہوں، میں ایک گزرتا ہوا سایہ ہوں؛ جو کچھ ہے، وہ تو ہے، اور صرف تو ہے۔

"سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اور وہی ہے جس کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔"

#نوریات

Post a Comment

0 Comments