Skip to main content

کچھ لمحے وقت سے زیادہ وزنی ہوتے ہیں

 کچھ لمحے وقت سے زیادہ وزنی ہوتے ہیں

وقت کے پاس اپنی کوئی ترازو نہیں ہوتی، وہ تو بس ایک ہموار رفتار سے گزرتا رہتا ہے ۔۔۔ جیسے ریت ہاتھ سے پھسلتی ہے یا جیسے کوئی خاموش دریا سمندر کی طرف بڑھتا ہے۔ لیکن انسانی حافظے کے پاس ایک عجیب پیمانہ ہے۔ کبھی کبھی ایک پوری دہائی گرد کی طرح اڑ جاتی ہے اور پیچھے کوئی نشان تک نہیں چھوڑتی، مگر کبھی کوئی ایک پل، کوئی ایک لمحہ اتنا بوجھل اور وزنی ہو جاتا ہے کہ وہ زندگی کے پورے تسلسل کو روک دیتا ہے۔
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جو کلاک کی سوئیوں کے مطابق تو صرف چند سیکنڈز پر محیط ہوتا ہے، مگر روح کے اندر وہ صدیوں جتنا پھیل جاتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب کوئی اپنا رخصت ہوتے ہوئے سامانِ سفر سے پہلے اپنا عذر تیار کر چکا ہوتا ہے، یا جب یادوں کی کسی گلی میں ایک پرانی خوشبو اچانک آپ کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دیتی ہے۔ تب گھڑی کی ٹک ٹک رکتی نہیں، مگر آپ کے اندر کی کائنات تھم جاتی ہے۔
ایسے لمحے وقت کے سینے پر ایک گہرا زخم چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ وہ لمحے ہیں جب آدمی کو پتہ چلتا ہے کہ خاموشی، آواز سے زیادہ بھاری ہو سکتی ہے اور دیواریں، انسانوں سے بہتر رازداں۔ ہم سالوں کا حساب تو کیلنڈر سے کر لیتے ہیں، مگر ان چند لمحوں کا حساب کہاں کریں جو ہمیں بدل کر رکھ دیتے ہیں؟
شاید زندگی وہ نہیں جو ہم نے گزاری، بلکہ زندگی وہ چند لمحے ہیں جن کا بوجھ ہم آج بھی اٹھائے ہوئے ہیں۔ اگر وہ لمحہ آپ کی بساط سے زیادہ وزنی تھا، تو کیا آپ نے اسے گزار دیا ہے یا آپ اب بھی وہیں کھڑے ہیں؟

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ

پہلا روزہ

پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں  اپنا ایک ادبی  شاہکار  اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم  سے  عنائت کریں  اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔  پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ  بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔  پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔  گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی  کی صورت میں دیے تو  دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...