کچھ لمحے وقت سے زیادہ وزنی ہوتے ہیں
وقت کے پاس اپنی کوئی ترازو نہیں ہوتی، وہ تو بس ایک ہموار رفتار سے گزرتا رہتا ہے ۔۔۔ جیسے ریت ہاتھ سے پھسلتی ہے یا جیسے کوئی خاموش دریا سمندر کی طرف بڑھتا ہے۔ لیکن انسانی حافظے کے پاس ایک عجیب پیمانہ ہے۔ کبھی کبھی ایک پوری دہائی گرد کی طرح اڑ جاتی ہے اور پیچھے کوئی نشان تک نہیں چھوڑتی، مگر کبھی کوئی ایک پل، کوئی ایک لمحہ اتنا بوجھل اور وزنی ہو جاتا ہے کہ وہ زندگی کے پورے تسلسل کو روک دیتا ہے۔
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جو کلاک کی سوئیوں کے مطابق تو صرف چند سیکنڈز پر محیط ہوتا ہے، مگر روح کے اندر وہ صدیوں جتنا پھیل جاتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب کوئی اپنا رخصت ہوتے ہوئے سامانِ سفر سے پہلے اپنا عذر تیار کر چکا ہوتا ہے، یا جب یادوں کی کسی گلی میں ایک پرانی خوشبو اچانک آپ کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دیتی ہے۔ تب گھڑی کی ٹک ٹک رکتی نہیں، مگر آپ کے اندر کی کائنات تھم جاتی ہے۔
ایسے لمحے وقت کے سینے پر ایک گہرا زخم چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ وہ لمحے ہیں جب آدمی کو پتہ چلتا ہے کہ خاموشی، آواز سے زیادہ بھاری ہو سکتی ہے اور دیواریں، انسانوں سے بہتر رازداں۔ ہم سالوں کا حساب تو کیلنڈر سے کر لیتے ہیں، مگر ان چند لمحوں کا حساب کہاں کریں جو ہمیں بدل کر رکھ دیتے ہیں؟
شاید زندگی وہ نہیں جو ہم نے گزاری، بلکہ زندگی وہ چند لمحے ہیں جن کا بوجھ ہم آج بھی اٹھائے ہوئے ہیں۔ اگر وہ لمحہ آپ کی بساط سے زیادہ وزنی تھا، تو کیا آپ نے اسے گزار دیا ہے یا آپ اب بھی وہیں کھڑے ہیں؟

0 Comments