Skip to main content

آدھے قد کا دیوتا

 آدھے قد کا دیوتا



انسان کے اندر ایک ایسی کھڑکی ہمیشہ ادھ کھلی رہتی ہے، جس کا رخ اس گلی کی طرف ہے جہاں اب کوئی نہیں رہتا۔ ہم نے دنیا کی دھوپ میں چل کر اپنے وجود تو سخت کرلیے، لہجے میں منطق کی برف جما لی اور آنکھوں میں مصلحت کے جالے بن لیے، لیکن سینے کے ایک اندھیرے گوشے میں ایک بچہ اب بھی دبک کر بیٹھا ہے جو بالغ ہونے سے صاف انکاری ہے۔
وہ بچہ جو آج بھی ٹوٹے ہوئے کھلونے پر نہیں، بلکہ ٹوٹے ہوئے بھروسے پر اسی شدت سے سسکتا ہے جیسے پہلی بار گرنے پر رویا تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم نے بڑے ہو کر معاف کرنا سیکھ لیا، مگر وہ بچہ اب بھی پشیمانی کی گردن پکڑ کر اسے کونے میں کھڑا کر دیتا ہے۔ وہ خوشی کے ہر بڑے موقع پر ایک ایسی چھوٹی سی کمی ڈھونڈ لاتا ہے جو صرف ایک ناسمجھ ہی ڈھونڈ سکتا ہے۔ اسے اس بات سے غرض نہیں کہ آپ نے کتنی دولت کمالی، وہ تو آج بھی اس ایک ہاتھ کی تلاش میں ہے جو بھیڑ میں کہیں چھوٹ گیا تھا۔
کبھی کبھی آدھی رات کو جب شعور کی دنیا سے تعلق ٹوٹتا ہے، تو وہ بچہ اٹھ کر آپ کے ماتھے پر پڑی شکنوں کو حیرت سے چھوتا ہے اور پوچھتا ہے، "تم نے اتنے نقاب کیوں پہن رکھے ہیں؟" ہم اسے چپ کروانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ کہہ کر کہ دنیا ایسے ہی چلتی ہے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ ہماری تمام تر دانائی اسی ایک نادان بچے کے گرد طواف کرتی ہے۔
یہ بچہ کبھی بوڑھا نہیں ہوتا، بس زخمی ہوتا رہتا ہے۔ اور ہم؟ ہم اپنی بالیدگی کا ڈھونگ رچاتے ہوئے دراصل اسی بچے کی انگلی تھامے عمر کی ڈھلوان اتر رہے ہوتے ہیں۔ کیا آپ بتائیں گے کہ آپ کے اندر کا وہ بچہ آج کل کس بات پر ضد کر رہا ہے؟

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ

پہلا روزہ

پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں  اپنا ایک ادبی  شاہکار  اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم  سے  عنائت کریں  اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔  پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ  بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔  پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔  گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی  کی صورت میں دیے تو  دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...