Skip to main content

وادیِ سون سکیسر

 وادیِ سون سکیسر: ازل کی بازگشت




سکیسر کی چوٹی پر جب وقت اپنی تھکن اتارتا ہے
تین ضلعوں کے افق پر ایک پر شکوہ سکوت اترتا ہے
کوہستان نمک کا سلسلہ محض مٹی اور نمک کا ڈھیر نہیں
صدیوں کے حافظے کی ایک کتاب ہے
جس کے ہر ورق پر جفاکش ہاتھوں نے وقار کی نئی داستان لکھی ہے
اوچھالی جھیل
سکیسر کے دامن میں گری ہوئی آسمان کی وہ آنکھ ہے
جس میں سائیبیریا کے مسافر پرندے اپنی ہجرتوں کا جواز ڈھونڈتے ہیں
اس کا نیلا پانی، وقت کے نمکین ذائقے کو اپنے اندر سموئے ہوئے
انسان کی داخلی تنہائی کا ایک خاموش استعارہ ہے
کھبیکی جھیل پر اتری معجزاتی مٹھاس بتاتی ہے
کہ فطرت بھی اپنے زخم بھرنے کا ہنر جانتی ہے
اس کے ٹھہرے ہوئے عکس میں
کائنات خود کو دیکھ کر حیران ہوتی ہے
اور جاہلرجھیل
وہ گمنام اور پر اسرار درویش جھیل
جو دنیا کے ہنگاموں سے دُور
پہاڑوں کی اوٹ میں تپسیا کر رہی ہے
اس کا پانی روح کے اس گوشے کی طرح ہے
جہاں پہنچنے کے لیے انسان کو خود سے ہجرت کرنی پڑتی ہے
کنہٹی باغ کی ہریالی
وادی سون کے سینے پر قدرت کا دستِ شفا ہے
جہاں چشموں کا موسیقی جیسا بہاؤ
زندگی کے ابدی تسلسل کی گواہی دیتا ہے
پرانے درختوں کا سایہ ہمیں کوئی بہت پرانا
بھولا ہوا سبق یاد دلاتا ہے
کہ نمو پانے کے لیے سنگلاخ راستوں سے گزرنا شرط ہے
امب شریف کے مندر
ماضی کے وہ ادھورے جملے ہیں
جنہیں وقت مکمل کرنا بھول گیا
قلعہ تلاجھا، بلندیوں پر بکھری ہوئی ایک ایسی حیرت ہے
جس کی دیواروں میں آج بھی کسی گمنام شہنشاہ کی سانسیں مقید ہیں
اور چامبل کے مندر
جہاں بوڑھ کے قدیم درختوں کی جڑیں
زمین کے سینے میں تاریخ کا پتہ ڈھونڈ رہی ہیں
اشنان گھاٹ کا وہ شفاف چشمہ، جو صدیوں سے تھکے ہوئے دیوتاؤں کے پاؤں دھوتا ہے
وادی سون کا سادہ منش انسان
سفید پگڑی کا شملہ بلند کیے
مشینوں کے اس دور میں بھی توکل کے قدیم چشمے سے سیراب ہوتا ہے
اس کی آنکھوں میں ماضی کا جلال اور مستقبل کا ملال ایک ساتھ رقص کرتے ہیں
وہ جانتا ہے کہ تہذیبیں محلوں میں نہیں
مٹی سے جڑے وقار میں بستی ہیں
وادیِ سون سکیسر
محض ایک جغرافیہ نہیں
یہ ہمہ وقت بہتی ہوئی ایک نثری نظم ہے
جس کا ہر منظر ایک سوال ہے، اور ہر خاموشی ایک ابدی جواب
ہرپتھر ایک علامت ہے، ہر جھیل ایک آنکھ
جو ماضی اور حال کے سنگم پر حیرت سے کھلی ہوئی ہے
محمد نور آسی

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ

پہلا روزہ

پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں  اپنا ایک ادبی  شاہکار  اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم  سے  عنائت کریں  اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔  پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ  بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔  پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔  گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی  کی صورت میں دیے تو  دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...