Skip to main content

تجلیِ ہو کا استعارہ, وادیِ سون


 وادیِ سون: تجلیِ ہو کا استعارہ



وادیِ سون کی وسعتوں میں کسی قدیم دعا کا لمس ہے
یہاں کی خاموشی محض سکوت نہیں
ازل کے گیتوں کی بازگشت ہے
جہاں پہاڑ بادلوں کے ساتھ مل کر ذکرِ جلی کرتے ہیں
اور مٹی کے بدن میں دفن چراغ، کائنات کو راستہ دکھاتے ہیں
انگہ کی ابدی کوکھ سے وہ آفتابِ فقر طلوع ہوا
جس کے 'ھُو' کے ایک نعرے نے زمان و مکاں کی طنابیں کھینچ دیں
باہوؒ کی روح کا یہ اصل مسکن، علمِ لدنی کا وہ سرچشمہ ہے
جہاں سے نکلنے والی لہروں نے دلوں کے زنگار دھو ڈالے
فلسفہِ ولایت کی تفہیم کرنی ہو تو بھناکہ کی خاک کو چھو کر دیکھو
جہاں سلطان مہدیؒ کی خاکِ پاک، معرفت کے اسرار کھولتی ہے
اور دھدھڑ کے ویرانوں میں سخی محمد خوشحالؒ کی سخاوت
آج بھی روح کے قحط زدہ لوگوں کو دسترخوانِ نور پر بلاتی ہے
اوچھالہ کے سلطان حاجی احمدؒ اور شاہ شرف قلندرؒ کا رتبہ وادی کے ماتھے پر وہ جھومر ہے
جو فقیر کو بادشاہی سکھاتا ہے
جہاں پیروں کی جنبش سے مٹی سونا اور کنکر موتی بن جاتے ہیں
اور بندہ اپنے رب کی مرضی میں گم ہو کر 'حی و جاوید' ہو جاتا ہے
کھبیکی کے ساکت پانیوں میں پیر محبوب عالمؒ کا عکسِ جمیل ہے
اور سرکی کی ہواؤں میں میاں حفیظ ماہیؒ کے عشق کا سوز
یہ وہ تانے بانے ہیں جن سے وادیِ سون کا روحانی لباس بنا ہے
جہاں ہر سانس ایک تسبیح اور ہر قدم ایک طوافِ دل ہے
امب شریف کے قلعوں کے کھنڈرات میں چھپا ہے وہ جلالِ فقر
جہاں سلطان ابراہیمؒ اور سلطان ساڑھی والے کی ہیبت سے
وقت کے ظاہری جاہ و حشم آج بھی لرزہ براندام نظر آتے ہیں
کہ یہ فقیروں کی وہ بستی ہے جہاں موت زندگی کا دیباچہ ہے
یہ زمین علم کے پیاسوں کے لیے ایک مقدس دبستان رہی ہے
کورڈھی کے وہ طاق اور وہ منبر
جہاں نورِ دانش تقسیم ہوتا تھا
جہاں بنگال کی جھیلوں سے اٹھنے والے طالبِ صادق
علم کے سمندر میں غوطہ زن ہونے کے لیے کوسوں کا سفر کرتے تھے
اسی خاکِ شفا سے شاہِ گولڑہ پیر مہر علیؒ نے وہ پیالہ بھرا
جس کی خوشبو نے چرخِ نیلوفری پر حقانیت کے نقش ثبت کیے
اور صدیق آباد کے آستانوں پر خواجہ قمرالدین سیالوی کے روشن کردوہ ستاروں نے
بندگی کے ادھورے تصورات کو کمالِ معرفت عطا کیا
وادیِ سون پر اللہ کی یہ عنایتِ خاص
ابدی ہے اور لافانی ہے
یہاں کی مٹی میں سجدہ کرنا
اپنے آپ کو پا لینے کا عمل ہے
یہ اولیاء کا سایہ ہے
جو اس تپتی ہوئی دنیا میں ہماری پناہ گاہ بھی ہے
اور ہماری منزل کا نشان بھی

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ

پہلا روزہ

پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں  اپنا ایک ادبی  شاہکار  اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم  سے  عنائت کریں  اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔  پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ  بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔  پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔  گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی  کی صورت میں دیے تو  دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...