شام کی زرد روشنی اب کمرے کی دیواروں پر لکیریں سی بنا رہی تھی، جیسے وقت خود اپنا حساب لکھ رہا ہو۔ میز پر پڑی چائے سے بھاپ اٹھنا بند ہو چکی تھی، مگر ہمارے درمیان پھیلی خاموشی میں ایک ارتعاش تھا۔۔وہ سوال جو ادھورا رہ گیا تھا۔
میں نے ایک گہرا سانس لیا اور کھڑکی سے باہر دور نظر آنے والے ایک بوڑھے نیم کے درخت کی طرف اشارہ کیا۔ "اس درخت کو دیکھو۔ اس کا اختیار کیا ہے؟ کیا یہ ہواؤں کا رخ بدل سکتا ہے؟ نہیں! اس کا اصل اختیار یہ ہے کہ یہ اپنی جڑوں میں کتنا گہرا ہے اور کن شاخوں کو اسے جھاڑ دینا ہے۔ ہم انسان اختیار کو 'تسخیر' سمجھتے ہیں، حالانکہ اختیار اصل میں 'انتخاب' کا نام ہے۔"
میں تھوڑا سا آگے جھکا اور لہجے میں دھیمے پن کے ساتھ تسلسل پیدا کیا۔ "دیکھو، ہم سب ایک ایسی منڈی میں کھڑے ہیں جہاں ہر کوئی 'ہاں' خریدنے آیا ہے۔ معاشرہ، رشتے، نوکریاں، یہاں تک کہ ہماری اپنی خواہشات بھی ہمیں ایک ایسی ہاں کی طرف دھکیلتی ہیں جو اندر سے کھوکھلی ہوتی ہے۔ جب ہم کسی بڑے فائدے یا کسی بڑے دباؤ کے سامنے 'نا' کہتے ہیں، تو اس لمحے ہم کائنات کے سب سے طاقتور مقام پر ہوتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اس وقت ہمارا 'انکار' کسی خوف سے نہیں، بلکہ اس شعور سے نکل رہا ہوتا ہے کہ ہم نے خود کو کسی کے ہاتھ بیچنے سے انکار کر دیا ہے۔"
وہ الجھ گیا تھا۔ "مگر فیصلے تو زندگی کو ترتیب دیتے ہیں۔ اگر تم انکار کرتے رہو گے، تو تمہارے پاس باقی کیا بچے گا؟"
"باقی 'میں' بچوں گا،" میں نے جواب دیا۔ "فیصلہ دراصل ایک تراشنے کا عمل ہے۔ جیسے ایک مجسمہ ساز پتھر کے ایک بے شکل ٹکڑے سے وہ سب کچھ کاٹ کر الگ کر دیتا ہے جو 'مجسمہ' نہیں ہے، بالکل اسی طرح زندگی میں ہمارے فیصلے وہ آری ہیں جو فضول بوجھ کو ہم سے الگ کرتے ہیں۔ ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے انکار کر دیا تو ہمارے ہاتھ خالی ہو جائیں گے۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ ہاتھ خالی ہوں گے تبھی تو ان میں کچھ نیا تھامنے کی جگہ بنے گی۔"
اس نے چائے کا ٹھنڈا گھونٹ بھرا اور تلخی سے مسکرایا۔ "تمہاری باتیں کتابی لگتی ہیں۔ عملی زندگی میں، جب تم کسی عہدے، کسی تعلق یا کسی فائدے کو ٹھکراتے ہو، تو تم اکیلے رہ جاتے ہو۔ کیا تنہائی کا خوف تمہیں نہیں ستاتا؟"
"تنہائی اور خلوت میں فرق ہوتا ہے،" میں نے دہرایا۔ "تنہائی وہ ہے جب تم دوسروں سے کٹ جاؤ، خلوت وہ ہے جب تم خود سے جڑ جاؤ۔ میرا یہ فیصلہ، میرا یہ انکار، مجھے تنہا نہیں کر رہا بلکہ مجھے اس ہجوم سے نکال رہا ہے جہاں میں اپنی آواز بھی نہیں سن پا رہا تھا۔ اختیار کا سب سے بڑا امتحان تب ہوتا ہے جب تمہارے پاس 'ہاں' کہنے کی تمام مراعات موجود ہوں، مگر تمہارا ضمیر 'نا' کی دہلیز پر کھڑا ہو۔"
میں نے بات جاری رکھی، "ہم اکثر فیصلے نہیں کرتے، ہم سمجھوتے کرتے ہیں۔ فیصلہ وہ ہوتا ہے جس کی قیمت آپ اپنی مرضی سے ادا کرنے کو تیار ہوں۔ اگر آپ نے کسی کے ڈر سے یا کسی لالچ میں آ کر راستہ بدلا، تو وہ فیصلہ نہیں تھا، وہ حالات کی جبریت تھی۔ حقیقی اختیار وہ ہے جہاں آپ نتائج سے باخبر ہوں، آپ کو معلوم ہو کہ اس 'نا' کے بعد راستے کٹھن ہو جائیں گے، لوگ ساتھ چھوڑ دیں گے، شاید سرد مہری کا ایک طویل موسم آئے گا۔۔ اور پھر بھی، آپ مسکرا کر اس راستے کا انتخاب کریں کیونکہ وہ آپ کے اندر کی سچائی سے میل کھاتا ہے۔"
کمرے میں اندھیرا بڑھنے لگا تھا۔ میں نے میز پر پڑے ایک چھوٹے سے چراغ کو روشن کیا۔ اس کی لو ہلکی سی لرز کر سنبھل گئی۔
"انکار کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ آپ کو واضح (Clear) کر دیتا ہے،" میں نے لو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ "جب ہم ہر بات پر سر ہلاتے ہیں، تو ہماری اپنی شخصیت کے رنگ مدھم پڑ جاتے ہیں۔ ہم ایک ملغوبہ بن جاتے ہیں۔ انکار ہمیں ایک شکل دیتا ہے۔ یہ ہماری سرحدیں طے کرتا ہے۔ اور جس شخص کی کوئی سرحد نہ ہو، اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔"
وہ دیر تک خاموش رہا۔ ایسا لگا جیسے وہ اپنے اندر کے کئی بند کواڑوں کو دستک دے رہا ہو۔ پھر اس نے پوچھا، "تو کیا تم یہ کہہ رہے ہو کہ زندگی میں 'نا' کہنا 'ہاں' کہنے سے زیادہ اہم ہے؟"
"نہیں،" میں نے نفی میں سر ہلایا۔ "میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ایک سچی 'ہاں' تک پہنچنے کے لیے ہزاروں جھوٹی 'ہاں' کو 'نا' کہنا ضروری ہے۔ ہم تب تک صحیح فیصلے کے اہل نہیں ہوتے جب تک ہم میں انکار کرنے کی ہمت پیدا نہ ہو جائے۔ جس دن تم یہ سیکھ لو گے کہ اپنی انا، اپنی ضرورت اور دوسروں کی توقعات کو کب 'نا' کہنا ہے، اس دن تمہارا ہر فیصلہ تمہارا اپنا ہوگا۔ ورنہ تم صرف ایک سکرپٹ پر عمل کر رہے ہو جو کسی اور نے لکھا ہے۔"
میں نے کھڑکی بند کر دی، باہر رات کا سناٹا گہرا ہو چکا تھا۔
"اختیار، انکار اور فیصلہ ۔۔۔۔ یہ تینوں ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ اختیار تمہاری بیداری ہے، انکار تمہاری ڈھال ہے، اور فیصلہ تمہاری منزل۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ بڑے فیصلے وہ ہوتے ہیں جو دنیا بدل دیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ بڑا فیصلہ وہ ہے جو تمہیں تمہارے اپنے سامنے شرمندہ نہ ہونے دے۔"
اس نے اٹھتے ہوئے میرا کندھا تھپتھپایا۔ اس کی آنکھوں میں اب وہ حیرت نہیں تھی، بلکہ ایک گہری سوچ تھی۔ وہ بغیر کچھ کہے دروازے کی طرف بڑھ گیا، مگر دہلیز پر رک کر مڑا اور پوچھا، "اگر یہ راستہ بہت مشکل ہوا تو؟"
میں نے مسکرا کر جواب دیا، "مشکل تو وہ راستہ بھی ہے جس پر تم اپنی روح کو کچل کر چل رہے ہو۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس راستے کی تھکن تمہیں بوڑھا کر دے گی، اور اس (انکار کے) راستے کی تھکن تمہیں کندن بنا دے گی۔"
وہ چلا گیا۔ میں نے چراغ گل کیا اور اس اندھیرے میں بیٹھ گیا جہاں اب کوئی شور نہیں تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ سب سے مشکل فیصلہ کسی دوسرے کو جواب دینا نہیں ہوتا، بلکہ خود کو اس سچ کے ساتھ قبول کرنا ہوتا ہے جسے ہم اکثر بھیڑ میں گم کر دیتے ہیں۔
کبھی کبھی، کچھ نہ پانا ہی سب کچھ پا لینا ہوتا ہے۔


0 Comments