بانسری کی تان اور خاموش دستک
دھوپ سروں سے ڈھل کر درختوں کے شانوں پر بکھر رہی تھی، جب مسافر نے جنگل کے دہانے پر قدم رکھا۔ اس کی پگڈنڈی ریتلی اور پیاسی تھی۔ شہر کا شور پیچھے رہ گیا تھا، اور اب ہر قدم کے ساتھ ایک نئی، گہری خاموشی اسے اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی۔ ہوا میں مٹی اور گیلی گھاس کی ملی جلی باس تھی، جو اسے برسوں پرانے کسی خواب کی یاد دلا گئی۔ وہ چلتا رہا، جب تک کہ مدھم بانسری کی ایک تان اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ تان ایسی تھی، جیسے کوئی پرندہ اپنی آخری اُڑان بھر رہا ہو۔
مسافر نے آواز کا پیچھا کیا۔ ایک چھوٹے سے ٹیلے پر، جہاں سبزہ ذرا زیادہ گہرا تھا، ایک ادھیڑ عمر چرواہا بیٹھا تھا، اس کی بھیڑیں اور بکریاں آس پاس چر رہی تھیں۔ چرواہے کا چہرہ دھوپ اور ہواؤں سے جھلسا ہوا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجب سی ٹھہراؤ تھا، جیسے اس نے زندگی کے بہت سے موسم اپنی آنکھوں میں بسائے ہوں۔ بانسری اس کے ہونٹوں سے جدا ہوئی تو اس نے مسافر کو دیکھا، ہونٹوں پر ایک تھکی ہوئی مسکراہٹ ابھری۔
"سلامتی ہو بھائی،" چرواہا بولا، اس کی آواز میں بھی بانسری کی سی نرمی تھی۔ "شہر کے لوگ کم ہی اس راستے آتے ہیں۔ کیا ڈھونڈتے ہو اس ویرانے میں؟"
مسافر نے ایک آہ بھری۔ "میں تو خود کو ڈھونڈتا ہوں، یا شاید خود سے بھاگ رہا ہوں۔ میرا نام فرید ہے، اور تم؟"
"میں جمال ہوں،" چرواہا نے جواب دیا، پھر ایک پتھر پر ہاتھ سے تھپکی دی، "بیٹھو فرید، یہاں وقت ذرا سست چلتا ہے۔ اسے پکڑنے کی کوشش نہ کرو تو اچھا ہے۔"
فرید بیٹھ گیا۔ "تم یہاں اکیلے نہیں ہوتے؟ یہ جنگل بہت گہرا لگتا ہے۔"
جمال نے دور ایک جھاڑی کی طرف اشارہ کیا۔ "کیا اکیلا؟ یہ بھیڑیں، یہ بکریاں، اور یہ ندی جو ہمارے قدموں کے پاس سے گزرتی ہے۔ کیا یہ کم ساتھی ہیں؟ بلکہ، سب سے بڑا ساتھی تو یہ جنگل خود ہے۔ یہ ہر صبح ایک نئی کہانی سناتا ہے، اور ہر شام ایک نیا راز اپنے سینے میں چھپا لیتا ہے۔"
"راز؟" فرید کی آواز میں تجسس تھا۔
"ہاں،" جمال نے بانسری کو ایک بار پھر ہونٹوں سے لگایا اور ایک ہلکی سی دھن چھیڑی۔ "اس جنگل میں ایسے بھی لوگ ہیں جو ان رازوں کی زبان سمجھتے ہیں۔" اس نے نظر اٹھا کر جنگل کے مزید اندرون کی طرف دیکھا، جہاں درختوں کی شاخیں ایک دوسرے سے لپٹ کر ایک تاریک گنبد بنا رہی تھیں۔ "ابھی کچھ دیر پہلے ہی، ایک جوگی بابا ادھر سے گزرے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سانپوں کی زبان میں حکمت چھپی ہے۔"
فرید حیران ہوا۔ "سانپ پکڑنے والا جوگی؟ یہاں؟"
"جی،" جمال نے سر ہلایا۔ "وہ اکثر یہاں آتا ہے، ایک ویران کچی کوٹھری ہے جنگل میں، وہاں رہتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں، اس نے اپنی آدھی عمر سانپوں کی سرسراہٹ میں گزاری ہے۔ اس کی باتیں عجیب ہوتی ہیں، مگر گہری۔"
فرید کو ایک نیا تجسس ہوا۔ "کیا وہ ابھی یہیں ہو گا؟"
"شاید،" جمال نے کندھے اچکائے۔ "رات ہوتے ہی وہ اپنی کوٹھری میں سمٹ جاتا ہے۔ تم چاہو تو جا سکتے ہو۔ ندی کے ساتھ ساتھ چلتے رہو، جب تک تمہیں پرانی، ہلکے سرخ رنگ کی چٹانیں نظر نہ آئیں، اس کے پاس ہی وہ کوٹھری ہے۔"
فرید کے دل میں ایک ان دیکھی کشش نے جنم لیا۔ اس نے جمال کا شکریہ ادا کیا اور ندی کے کنارے کنارے چل پڑا۔ جنگل اب گہرا ہوتا جا رہا تھا، درختوں کی شاخیں مسافر کی راہ میں رکاوٹ بن رہی تھیں۔ شام کی سرخی آہستہ آہستہ سیاہی میں بدل رہی تھی۔ دور کہیں سے اُلّو کی آواز آئی، جو خاموشی کو اور گہرا کر گئی۔
ندی کے موڑ پر، جہاں کنارے پرانے اور کائی زدہ پتھروں سے اٹے ہوئے تھے، اسے واقعی سرخ رنگ کی چٹانیں نظر آئیں جن پر وقت نے اپنی گہرے نقش چھوڑ دیے تھے۔ ان کے پیچھے ہی، درختوں کے جھنڈ میں چھپی ہوئی، ایک کچی کوٹھری تھی۔ اس کی چھت ٹوٹی ہوئی تھی، دیواریں مٹی سے بنی تھیں اور دروازہ بوسیدہ لکڑی کا ایک تختہ معلوم ہوتا تھا۔ کوٹھری کے اندر سے مدھم سی روشنی چھن کر باہر آ رہی تھی۔
فرید نے آہستہ سے دروازے پر دستک دی۔ کوئی جواب نہ آیا۔ اس نے ایک بار پھر، ذرا اونچی دستک دی۔ اندر سے ایک گہری، کھنکھناتی آواز ابھری۔ "کون ہے رات کے اس پہر؟"
"میں ایک مسافر ہوں، فرید،" فرید نے جواب دیا۔ "جمال چرواہے نے تمہارا پتہ دیا تھا۔"
دروازہ اندر سے چرچرا کر کھلا۔ سامنے ایک نحیف، مگر چمکتی آنکھوں والا بوڑھا آدمی کھڑا تھا۔ اس کے بال لمبے اور سفید تھے، اور چہرے پر گہری جھریاں تھیں۔ اس کی گردن میں سوکھی ہوئی لکڑی کے موتیوں کی مالا تھی اور ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی۔ جوگی کی آنکھیں ایسی تھیں جیسے اس نے صدیاں دیکھی ہوں۔
"آؤ،" جوگی نے خشک لہجے میں کہا اور ایک طرف ہٹ گیا۔ اندر ایک چھوٹا سا کمرہ تھا، جس میں ایک کونے میں چھوٹی سی آگ جل رہی تھی، اور اس کے گرد چند مٹی کے برتن اور کچھ پوٹلیاں پڑی تھیں۔ کمرے کے وسط میں ایک خالی جگہ تھی، جہاں جوگی بیٹھا تھا۔
فرید اندر داخل ہوا اور احتیاط سے جوگی کے سامنے بیٹھ گیا۔ "بابا، جمال نے تمہارے بارے میں بتایا تھا، کہ تم سانپوں کی زبان سمجھتے ہو۔"
جوگی کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے چمک سی آئی۔ "سانپوں کی زبان؟ ہاں، وہ بھی ایک زبان ہے۔ مگر انسانوں کی زبان سے کہیں زیادہ سچی۔ وہ دھوکہ نہیں دیتی۔"
"کیا تم نے کبھی سانپوں سے کوئی راز جانا ہے؟" فرید نے پوچھا۔
جوگی نے ایک ٹھنڈی سانس لی۔ "راز؟ وہ تو ہر ذرے میں چھپے ہیں۔ اہم یہ ہے کہ تم کس راز کو جاننا چاہتے ہو۔ سانپ کی سرسراہٹ میں تم اپنا خوف سنتے ہو، اس کے زہر میں زندگی کی کڑواہٹ، اور اس کی جلد بدلنے میں فطرت کا ابدی چکر۔"
"میں نے سنا ہے تم ان کو پکڑتے ہو؟"
جوگی نے مسکرا کر سامنے پڑی ایک پوٹلی کی طرف اشارہ کیا۔ "میں انہیں پکڑتا نہیں، ان سے سیکھتا ہوں۔ یہ جو زندگی ہے نا، یہ ایک بڑا سانپ ہے۔ کبھی رینگتا ہوا، کبھی کنڈلی مارے بیٹھا ہوا۔ جو اس کی چال کو سمجھ جائے، وہی اس پر قابو پا سکتا ہے۔"
فرید نے حیرت سے پوچھا۔ "تم کیا سیکھتے ہو؟"
"خاموشی،" جوگی نے دھیرے سے کہا۔ "اور انتظار۔ ایک سانپ کبھی جلد بازی نہیں کرتا۔ وہ صحیح وقت کا انتظار کرتا ہے۔ ہم انسان کیوں ہر چیز بھاگ دوڑ میں چاہتے ہیں؟"
"بابا، میں تو بہت بھٹکا ہوا ہوں،" فرید نے اپنے دل کا حال بیان کیا۔ "میں سکون کی تلاش میں ہوں۔"
جوگی نے فرید کی آنکھوں میں دیکھا۔ "سکون تمہیں اس وقت تک نہیں ملے گا جب تک تم اپنی بھاگ دوڑ کو آرام نہیں دو گے۔ یہ جو باہر کا سفر ہے نا، یہ دراصل اندر کا سفر ہے۔"
فرید سوچ میں پڑ گیا۔ "اور یہ ویران کوٹھری؟ یہاں کیا ہے؟"
جوگی نے چاروں طرف دیکھا۔ "یہاں خالی پن ہے۔ اور خالی پن میں ہی حقیقی آواز سنائی دیتی ہے۔ شہر کی گلیوں میں شور اتنا ہوتا ہے کہ انسان اپنی ہی دھڑکن نہیں سن پاتا۔ یہ کوٹھری مجھے اپنی دھڑکن سننے کا موقع دیتی ہے۔"
اچانک، جوگی نے فرید کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اس کا لمس ٹھنڈا اور پتھر جیسا تھا۔ "تمہیں معلوم ہے، فرید، جمال چرواہا اور میں، ہم دونوں ایک ہی کہانی کے دو مختلف کردار ہیں۔ وہ باہر کی زندگی کو سنبھالتا ہے، بھیڑ بکریاں اور جنگل۔ اور میں اندر کی زندگی کو، یعنی خاموشی اور سوچ کو۔"
فرید کو ایک لمحے کے لیے ایک عجیب سا خیال آیا۔ "کیا تم کبھی ایک دوسرے سے ملتے ہو؟"
جوگی نے ایک پراسرار مسکراہٹ دی۔ "ملتے ہیں، ہر روز۔ جب میری خاموشی اس کی بانسری کی دھن میں گُم ہو جاتی ہے۔ یا جب اس کی بانسری کی دھن میری خاموشی کا حصہ بن جاتی ہے۔ اصل زندگی تو یہیں ہے، ان دونوں کے بیچ۔"
جوگی نے اپنی بات ختم کی اور خاموش ہو گیا۔ فرید کے دل پر ایک عجیب سی کیفیت طاری تھی۔ اسے لگا کہ اس نے واقعی کسی گہرے راز کو چھو لیا ہے۔
"ایک بات کہوں، فرید؟" جوگی نے پھر سر اٹھایا۔ "کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس جنگل میں سب سے حیرت انگیز چیز کیا ہے؟"
فرید نے نفی میں سر ہلایا۔
"یہ کہ یہاں ہر کوئی خود سے ملنے آیا ہے۔ کوئی بھیڑ بکریاں چراتے ہوئے، کوئی بانسری بجاتے ہوئے، کوئی سانپوں کی زبان سمجھتے ہوئے، اور کوئی بھاگتے ہوئے مسافر کی طرح۔" جوگی نے اپنی بات ختم کی اور آگ کے مدھم ہوتے شعلوں کو دیکھنے لگا۔
فرید نے اٹھنے کی تیاری کی۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ جو ڈھونڈ رہا تھا، وہ اسے مل گیا ہے۔ وہ بھاگنا نہیں چاہتا تھا، بلکہ اب وہ ٹھہرنا چاہتا تھا۔ وہ کوٹھری سے باہر نکلا، جنگل مزید تاریک ہو چکا تھا، مگر اب اسے تاریکی سے ڈر نہیں لگ رہا تھا۔ اسے لگا، اس جنگل کی ہر چیز اس کے اندر اتر گئی ہے۔
جنگل سے باہر نکلتے ہوئے اسے جمال چرواہا کی بانسری کی مدھم دھن ایک بار پھر سنائی دی، جو ہوا میں تحلیل ہو رہی تھی۔ وہ مسکرایا۔ شاید، یہ دھن اس وقت اس کے اپنے اندر بج رہی تھی۔
#نوریات


0 Comments