نعتِ رسولِ مقبول ﷺ
پیکر ہے کہ اِک مظہرِ انوارِ الٰہی
زلفیں ہیں کہ والیل کے سانچے میں ڈھلی ہیں
سینہ ہے کہ اِک مطلعِ خورشیدِ حقیقت
ماتھا ہے کہ اک لوحِ ازل ، تابِ ابد ہے
ابرو ہیں کہ کعبین کی صورت میں کھلے ہیں
رخسار کہ "والشمس" کے پرتو کی ضیائیں
لب ہیں کہ عقیقِ یمن و خلد ڈھلے ہیں
قامت ہے کہ اک قامتِ اعجازِ پیمبرؐ
دستِ کرم ایسے کہ سخی ابنِ سخی ہیں
گردن ہے کہ مینارہِ پئےنورِ ہدایت
پلکیں ہیں کہ الفاظِ "الم نشرہ" کی لڑی ہیں
باتیں ہیں کہ خوشبوئے جِنان، شہد کا جھرنا
لہجہ ہے کہ الہام کی نوبت سی بجی ہے
خطبے ہیں کہ ہر تشنہ دہن کے لیے زمزم
قرات ہے کہ ہر دردِ نہاں کی وہ دوا ہے
یہ دانت کہ جوں گوہرِ نایاب کی مالا
یا لعل کی وادی میں کرن عکس نما ہے
خوشبو ہے کہ اِک قافلہِ گلِ سمن و یاس
ہے عرق کہ خوشبوئے دو عالم کا پتا ہے
یہ موجِ تبسم ہے کہ کِھلتا ہوا گلشن
یہ طرز متانت ہے کہ اِک طور کی خلوت
یہ سجدہِ گریہ ہے کہ رحمت کی گھٹائیں
یہ اشکِ ندامت ہے کہ تسکینِ جراحت
یہ ہاتھ کہ کُل عالمِ ہستی کے سہارے
یہ خط کہ نوشتہ ہے یہ معراجِ بشر کا
یہ پاؤں کہ جن کے لیے پلکیں ہیں ملائک
یہ نقشِ قدم، راستہ فردوسِ نظر کا
یہ رفعتِ دستار کہ مسجودِ ثریا
یہ بندِ قبا، غنچہِ توحید کی نکہت
یہ سایہِ داماں کہ پناہِ دلِ عالم
یہ صبحِ گریباں کہ تجلی کی مسرت
یہ دوش پہ کملی ہے کہ رحمت کی ردا ہے
یہ مہرِ نبوت ہے کہ اِک مہرِ منور
رخسار کی ضو ہے کہ سحر عیدِ ارم کی
چشمِ کرم ایسی کہ زمانے کی مقدر
ہر نقشِ بدنِ پاک سراپا ہے کرامت
تخلیقِ جہاں جس کے تصدق میں ہوئی ہے
ملبوسِ کہن زیبِ بدن ہونا وہ ایسا
جیسے کہ غریبی میں شہنشاہی چھپی ہے
رفتار میں ایثار کی رفعت کا تصور
کردار میں لاریب کہ اللہ کی رضا ہے
گفتار میں اِک موجِ حقیقت کا تلاطم
معیار میں وہ اَوج کہ افلاکِ عُلا ہے
وہ فکر کہ جِبریل بھی حیراں ہے وہاں پر
وہ فقر کہ شاہوں کو گدائی کا سبق دے
وہ شکر کہ معبود بھی فرمائے ستائش
وہ حسن کہ یوسفؑ کو بھی تابندگیِ حق دے
وہ علم کہ اِک بجرِ لامتناہی سراسر
وہ حِلم کہ جس حلم نے بخشا ہے عدو کو
وہ صبر کہ زین العباؑ جس کی ہے تصویر
وہ ضبط کہ تسلیم و رضا کی ہے نمو کو
Comments
Post a Comment