زمانوں کی ہجرت
ستاروں کی نبض تھم گئی ہے
اور کائنات نے اپنی آنکھیں موند لی ہیں
تاکہ وہ کچھ دیکھ نہ سکے
آج کی رات
وقت کی زنجیر میں ایک ایسا لمحہ جڑا ہے
جس کی نہ کوئی ابتدا ہے، نہ کوئی انتہا
ایک ایسا سفر، جہاں مسافتیں قدموں سے نہیں
دل سے طے ہوئیں
جہاں جبرائیل کے پروں کی تھکن، عشق کی پہلی منزل تھی۔
براق کی ٹاپوں نے فضا میں جو لکیر کھینچی ہے
وہ زمان و مکان کے درمیان آخری سرحد تھی
آج عرش کی محفل میں فرش کا تذکرہ نہیں
بلکہ فرش والے کی خوشبو سے سدرہ مہک رہا ہے۔
کتنے زمانوں کی طنابیں ایک دستِ مبارک میں سمٹ آئی ہیں
عقل حیران ہے کہ وضو کا پانی ابھی لرز رہا ہے
اور کائنات کے سارے بھید، ایک 'عبد' کی ہتھیلی پر رکھ دیے گئے ہیں
یہ سفر نہیں تھا، یہ تو "محبت کا اپنے مرکز کی طرف پلٹنا" تھا
خدا خود منتظر تھا، کہ آج اس کا محبوب غیب کے پردے اٹھا کر
'قاب قوسین' کی خلوت میں مسکرائے گا

0 Comments