Skip to main content

معراجِ الست

 معراجِ الست



کائنات نے سانس روک لی ہے
اور زمانوں کی طنابیں ایک ابدی لمحے کے گرد لپٹ گئی ہیں
آج رات وقت کی حرکت، بندگی کے تال پر رقص کر رہی ہے
یہ محض ایک سفر نہیں تھا
یہ خاک کا افلاک کی سمت وہ "سفرِ معکوس" تھا
جس نے مادے کی کثافت کو نور کی لطافت میں بدل دیا
جہاں ارادوں نے مسافتوں کو نگل لیا
اور جبرائیل کے پروں کی تھکن نے بتایا
کہ سدرہ، عقل کی آخری حد ہے، مگر عشق کی پہلی سیڑھی
بیت المقدس کے صحن میں
تاریخِ انسانی کے تمام صحیفے صف بستہ کھڑے ہیں
آج امامت کے مصلے پر وہ "حاصلِ کائنات" جلوہ گر ہے
جس کے اشارہِ ابرو پر غیب و شہود کی تقسیم مٹ گئی
وہاں سجدوں میں وہ تاثیر تھی کہ عرشِ بریں
فرشِ زمیں کی خوشبو ڈھونڈنے لگا۔
پھر وہ مقام آیا، جہاں 'کون و مکاں' کی سرحدیں ختم ہوئیں
جہاں 'سوچ' کی پرواز تھک کر گر گئی
اور 'کیف و کم' کے پیمانے ریزہ ریزہ ہو گئے
وہاں نہ کوئی رنگ تھا، نہ سمت، نہ کوئی پردہ
صرف ایک "خاموش گفتگو" تھی جو لفظوں کی محتاج نہ تھی
ایک "دیدار" تھا جس میں دیکھنے والا اور دیکھا جانے والا
محبت کے ایک ہی دائرے میں سمٹ آئے۔
آج کی رات، "کنزِ مخفی" کے تمام قفل ٹوٹ گئے
خدا نے اپنے "عبد" کو کائنات کی کنجیاں سونپ دیں
اور انسانیت کو وہ وقار بخشا کہ
فرشتے، مٹی کے اس پیکر کی عظمت پر ششدر رہ گئے۔
جب واپسی کے قدموں سے فضا مہکی
تو بستر کی گرمی اور کواڑ کی لرزتی زنجیر گواہ تھی
کہ وہ جو "لا مکاں" کا مہمان تھا
ابھی لمحوں کی قید سے آزاد ہو کر لوٹا ہے
وہ جو "ید اللہ" کی شرح بن کر گیا تھا
وہ اپنی آنکھوں میں عرش کا جلال اور سینے میں فرش کی تڑپ لایا ہے

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ

پہلا روزہ

پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں  اپنا ایک ادبی  شاہکار  اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم  سے  عنائت کریں  اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔  پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ  بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔  پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔  گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی  کی صورت میں دیے تو  دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...