Header Ads Widget

Responsive Advertisement

جھوٹا گواہ

 جھوٹا گواہ

اس کی زبان پر رکھے ہوئے حرف
زہر میں بجھے ہوئے تیر ہیں
اس نے چند سکوں کے عوض اپنا عکس ہی بیچ دیا
منصف کی سماعت اس کے جھوٹ کو مقدس صحیفہ سمجھ رہی ہے
خدا کے نام پر اٹھایا گیا حلف، اس کے چہرے پر سیاہی بن چکا ہے
اور سچی گواہی مقتول کے بند ہونٹوں میں دفن ہو چکی ہے

Post a Comment

0 Comments