جھوٹا گواہ
اس کی زبان پر رکھے ہوئے حرف
زہر میں بجھے ہوئے تیر ہیں
اس نے چند سکوں کے عوض اپنا عکس ہی بیچ دیا
منصف کی سماعت اس کے جھوٹ کو مقدس صحیفہ سمجھ رہی ہے
اور سچی گواہی مقتول کے بند ہونٹوں میں دفن ہو چکی ہے
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی
جھوٹا گواہ
Comments
Post a Comment