Header Ads Widget

Responsive Advertisement

بوڑھی اماں کا لافانی چرخہ

 بوڑھی اماں کا لافانی چرخہ



کچے گھر کی چھت، بکائن اور شہتوت کے پتوں سے چھنتی ہوئی ٹھنڈی ہوا اور بان کی چارپائی پر لیٹ کر گھنٹوں چاند کو تکنا ۔۔۔۔ یہ محض ایک مشغلہ نہیں، ایک پوری کائنات کا سفر تھا۔ اس وقت چاند ایک آسمانی جسم نہیں بلکہ ایک جادوئی کھڑکی تھی جس کے پار ایک پراسرار بوڑھی اماں اپنے چرخے پر بیٹھی خاموشی سے وقت کاتتی تھی۔ ایک معصوم لڑکا گھنٹوں ساکت پڑا اپنی ننھی سوچوں کے جال بنتا: "یہ اماں تھکتی کیوں نہیں؟ کیا اسے نیند نہیں آتی؟ کیا یہ میرے لیے کوئی ریشمی قمیض تیار کر رہی ہے؟" خیالوں ہی خیالوں میں وہ اس بڑھیا سے کلام کرتا، اپنے دن بھر کے گلے شکوے سناتا اور اسے یقین ہوتا کہ چاند کے گرد پھیلا ہوا ہالہ دراصل اس بڑھیا کی مسکراہٹ ہے۔
وہ بچپن کی ایسی 'محبت' تھی جس میں منطق نہیں، صرف والہانہ پن تھا۔ کبھی دل چاہتا کہ سیڑھی لگا کر اس نقرئی تھال تک پہنچ جائے اور بوڑھی اماں کے ہاتھ بٹائے، اور کبھی ان سیاہ دھبوں کو دیکھ کر اس کا معصوم دل بھر آتا کہ شاید اسے چوٹ لگی ہے۔ اسے کیا معلوم تھا کہ چاند کے یہ داغ دراصل مٹی کے وہ زخم ہیں جو اسے زمین سے جدائی کے وقت ملے تھے۔ چاند زمین کا وہ ٹکڑا ہے جو کٹ کر الگ تو ہو گیا، مگر یہ نشانات گواہی دیتے ہیں کہ مٹی سے بچھڑ جانے والے کبھی مکمل نہیں ہوتے۔
آج، جب وہ لڑکا زندگی کی تلخ حقیقتوں کی دھول میں اٹا ہوا ہے، تو وہ بوڑھی اماں اسے ایک نئے روپ میں نظر آتی ہے۔ اب وہ جان چکا ہے کہ وہ سوت نہیں، بلکہ انسانیت کے ادھورے خواب اور ٹوٹی ہوئی امیدوں کی پیوند کاری کر رہی ہے۔ جہاں چینی اساطیر میں ایک خرگوش لافانی بوٹیاں پیستا ہے اور مغرب اسے 'خاتونِ ماہ' کہتا ہے، وہاں اس دیہاتی لڑکے کے لیے وہ اب بھی وہی ہمدرد وجود ہے جو رشتوں کے ٹوٹے ہوئے ریشوں کو جوڑ رہی ہے۔
اب اسے سمجھ آیا ہے کہ کامل ہونا دراصل بے معنی ہونا ہے۔ چاند کے یہ سیاہ دھبے ہی اسے کائنات کے منظر نامے میں معانی عطا کرتے ہیں۔ روشنی تو صرف دیکھنے کے کام آتی ہے، محسوس کرنے کے لیے ان سیاہ گوشوں سے دوستی کرنی پڑتی ہے۔ وہ بڑھیا اب سوت نہیں، یادوں کا کفن بن رہی ہے تاکہ وہ دیہاتی راتیں، دادی کی کہانیاں اور کچے گھر کی وہ مہک کبھی فنا نہ ہو سکے۔

Post a Comment

0 Comments