پیشی کی تھکن
عدالت کی طرف سے دی گئی ہر نئی تاریخ
روح کے پاؤں میں ایک نیا چھالا ڈال دیتی ہے
پیشی کے انتظار میں
عدالت کے برآمدے میں پھیلی ہوئی خاموشی
وقت کے ضیاع کا ایک لمبا نوحہ ہے
یہاں عمریں بیت جاتی ہیں
مگر حق کی دہلیز تک فاصلہ کبھی ختم نہیں ہوتا
تھکن جب حد سے گزرتی ہے
تو انسان انصاف کی آرزو سے بھی دستبردار ہو جاتا ہے

0 Comments