دستک اور دھول
کچھ یادیں الماری کے آخری خانے میں پڑے اس لباس کی طرح ہوتی ہیں، جنہیں پہنا نہیں جا سکتا لیکن پھینکنے کا حوصلہ بھی نہیں ہوتا۔ ہم اکثر وقت کی کھردری ہوتی دیواروں پر اپنے لمس کے نشان چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ بھول کر کہ وقت کوئی دیوار نہیں، ایک بہتا ہوا دریا ہے جس کا پانی کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا۔
آج صبح جب دھوپ نے میرے کمرے کی کھڑکی پر خاموش دستک دی، تو مجھے محسوس ہوا کہ روشنی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔ وہ بولتی نہیں، بس چیزوں کے چہرے سے گرد ہٹاتی ہے۔ میں نے سوچا، کیا ہم سب بھی محض دھول کے ذرے نہیں ہیں جو کسی بڑی کائناتی کھڑکی سے آنے والی روشنی میں تھوڑی دیر کے لیے رقص کرتے ہیں اور پھر اندھیرے کے کسی گمنام کونے میں جا بیٹھتے ہیں؟
ہمارے دکھ بھی اب پرانے اشتہاروں کی طرح دیواروں سے جھڑنے لگے ہیں۔ پہلے پہل جو کرب ایک نوکیلی چٹان کی طرح سینے میں گڑتا تھا، اب وہ دریا کی تہہ میں پڑے کسی گول پتھر کی طرح چکنا ہو گیا ہے۔ تکلیف وہی ہے، مگر اس کی چبھن اب ایک مانوس ہمدم کی طرح محسوس ہوتی ہے۔
عجیب ہے یہ جینے کا عمل بھی! ہم پوری زندگی اس تلاش میں گزار دیتے ہیں کہ کوئی ہمیں مکمل طور پر سمجھ سکے، حالانکہ ہم خود بھی اپنے اندر کے کئی بند دروازوں کی چابیاں گم کر چکے ہوتے ہیں۔ شاید اصل سکون اس وقت ملتا ہے جب ہم خود کو سمجھنے کی ضد چھوڑ کر، اپنی ادھوری سچائیوں کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں۔

0 Comments