Skip to main content

دستک اور دھول

 دستک اور دھول

کچھ یادیں الماری کے آخری خانے میں پڑے اس لباس کی طرح ہوتی ہیں، جنہیں پہنا نہیں جا سکتا لیکن پھینکنے کا حوصلہ بھی نہیں ہوتا۔ ہم اکثر وقت کی کھردری ہوتی دیواروں پر اپنے لمس کے نشان چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ بھول کر کہ وقت کوئی دیوار نہیں، ایک بہتا ہوا دریا ہے جس کا پانی کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا۔
آج صبح جب دھوپ نے میرے کمرے کی کھڑکی پر خاموش دستک دی، تو مجھے محسوس ہوا کہ روشنی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔ وہ بولتی نہیں، بس چیزوں کے چہرے سے گرد ہٹاتی ہے۔ میں نے سوچا، کیا ہم سب بھی محض دھول کے ذرے نہیں ہیں جو کسی بڑی کائناتی کھڑکی سے آنے والی روشنی میں تھوڑی دیر کے لیے رقص کرتے ہیں اور پھر اندھیرے کے کسی گمنام کونے میں جا بیٹھتے ہیں؟
ہمارے دکھ بھی اب پرانے اشتہاروں کی طرح دیواروں سے جھڑنے لگے ہیں۔ پہلے پہل جو کرب ایک نوکیلی چٹان کی طرح سینے میں گڑتا تھا، اب وہ دریا کی تہہ میں پڑے کسی گول پتھر کی طرح چکنا ہو گیا ہے۔ تکلیف وہی ہے، مگر اس کی چبھن اب ایک مانوس ہمدم کی طرح محسوس ہوتی ہے۔
عجیب ہے یہ جینے کا عمل بھی! ہم پوری زندگی اس تلاش میں گزار دیتے ہیں کہ کوئی ہمیں مکمل طور پر سمجھ سکے، حالانکہ ہم خود بھی اپنے اندر کے کئی بند دروازوں کی چابیاں گم کر چکے ہوتے ہیں۔ شاید اصل سکون اس وقت ملتا ہے جب ہم خود کو سمجھنے کی ضد چھوڑ کر، اپنی ادھوری سچائیوں کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ

پہلا روزہ

پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں  اپنا ایک ادبی  شاہکار  اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم  سے  عنائت کریں  اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔  پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ  بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔  پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔  گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی  کی صورت میں دیے تو  دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...