Header Ads Widget

Responsive Advertisement

گم شدہ راز


گم شدہ راز


 دھوپ کے ریشمی لمس نے

 منجمد خاموشی کی چادر تانی ہے

 ٹیرس کی دیواروں پر

 وقت ایک تھکی ہوئی انگڑائی کی طرح ٹھہرا ہوا ہے

 سکوت کے اس ہالے میں

 لفظ اپنی آواز کھو کر محض خوشبو بن گئے ہیں 

نیلے آسمان کی وسعتیں 

اب دل کے ویران گوشوں میں اترتی محسوس ہوتی ہیں

 موسم کے اس ٹھہراؤ میں جیسے

 کائنات اپنا کوئی گمشدہ راز سنانے لگی ہے

#نوریات

Post a Comment

0 Comments