گم شدہ راز
دھوپ کے ریشمی لمس نے
منجمد خاموشی کی چادر تانی ہے
ٹیرس کی دیواروں پر
وقت ایک تھکی ہوئی انگڑائی کی طرح ٹھہرا ہوا ہے
سکوت کے اس ہالے میں
لفظ اپنی آواز کھو کر محض خوشبو بن گئے ہیں
نیلے آسمان کی وسعتیں
اب دل کے ویران گوشوں میں اترتی محسوس ہوتی ہیں
موسم کے اس ٹھہراؤ میں جیسے
کائنات اپنا کوئی گمشدہ راز سنانے لگی ہے
#نوریات

0 Comments