Header Ads Widget

Responsive Advertisement

سانحہ گل پلازہ

سانحہ گل پلازہ



راکھ میں دبی ہوئی سسکیاں
(سانحہ گل پلازہ کے نام)
شہر کی رگوں میں دوڑتے ہوئے ہجوم کے درمیان
ایک دیو قامت ڈھانچہ کھڑا تھا
جو خواب بیچتا تھا اور زندگی کے رنگوں کا سودا کرتا تھا
مگر کسی کو خبر نہ تھی
کہ اس کی بنیادوں میں غفلت کی دیمک لگی ہے
اور اس کی دیواروں میں ہوس کی چنگاریاں روپوش ہیں
پھر ایک دوپہر۔۔۔
آسمان نے دیکھا کہ دھویں کے کالے سانپ عمارت کی کھڑکیوں سے باہر لٹک رہے ہیں
وہ آگ نہیں تھی، وہ ان تمام وعدوں کی چتا تھی
جو ہم نے حفاظت کے نام پر کیے تھے
وہ ان معصوم خواہشوں کا ماتم تھا
جو تھان کے تھان کپڑوں، الیکٹرانکس کے ڈھیروں اور نوٹوں کی گڈیوں کے نیچے دبی رہ گئیں۔
کتنے ہی باپ تھے
جو شام کو گھر لوٹتے ہوئے پھل لانے کا وعدہ کر کے نکلے تھے
کتنے ہی بیٹے تھے جن کے ماتھے پر ماں کی دعاؤں کے تعویذ لکھے تھے
مگر اس روز۔۔۔
گل پلازہ کی سیڑھیاں جنت کا راستہ نہیں بنیں
وہ تو ایک تندور کا دہانہ ثابت ہوئیں
جہاں سانسیں، دھوئیں کے غبار میں گم ہوگئیں
اور آنکھیں، آخری بار اپنے پیاروں کا چہرہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے پتھرائی ہوئی راکھ بن گئیں۔
یہ سیاست تھی؟ یہ غفلت تھی؟
یا کسی فائل پر دستخط کرنے والے قلم کی بے حسی؟
سوال تو اب بھی عمارت کے جلے ہوئے ستونوں سے لپٹے ہوئے ہیں
مگر جواب دینے والے اب نئی عمارتوں کے نقشے بنا رہے ہیں
تم کہتے ہو کہ وہاں صرف کپڑے جلے تھے؟
صرف سامان خاک ہوا تھا؟
نہیں! وہاں وہ چراغ گل ہوئے ہیں
جن کی لو سے کئی گھر روشن تھے
وہاں ان خوابوں کا جنازہ اٹھا ہے
جو ابھی جوان بھی نہ ہوئے تھے
کراچی کی مٹی گواہ رہنا۔۔۔
کہ جب عمارتیں انسانوں سے زیادہ قیمتی ہو جائیں
تو پھر شہروں میں بستیاں نہیں
صرف قبرستان بسا کرتے ہیں
جس دن ضمیر کی آگ بجھ جائے
اس دن شہر کے بیچوں بیچ کھڑا پلازہ نہیں پورا سماج جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔

Post a Comment

0 Comments