Header Ads Widget

Responsive Advertisement

آج میں نے خود کو باہر سے دیکھا

 آج میں نے خود کو باہر سے دیکھا



رات کا پچھلا پہر تھا، جب کمرے کی دیواروں پر لرزتے سائے خاموشی کی زبان بول رہے تھے۔ عین اسی لمحے، میری روح کے کسی نہاں خانے سے ایک اجنبی جھانکنے لگا اور میں نے پہلی بار خود کو اپنے ہی وجود کے حصار سے باہر نکل کر دیکھا۔ سامنے بستر پر پڑا وہ شخص، جو دن بھر 'میں' کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے، اس وقت کتنا نہتا اور شکستہ معلوم ہوا۔
باہر سے دیکھنے پر مجھے اس کی ان کوششوں پر پیار آیا جو وہ اپنی ریزہ ریزہ ہوتی انا کو جوڑنے کے لیے کرتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ اس کے چہرے کی لکیریں کسی صلے کی تمنا نہیں کر رہی تھیں، بلکہ وہ تو بس تھوڑ سی قبولیت چاہتی تھیں۔ اس گہری تنہائی میں مجھے احساس ہوا کہ شکر گزاری صرف لفظوں کا ورد نہیں، بلکہ اس ٹوٹ پھوٹ کو تسلیم کر لینا ہے جس کے ساتھ ہم جی رہے ہیں۔ ہم کتنا وقت دوسروں کے لیے 'کامل' بننے میں ضائع کر دیتے ہیں، جبکہ ہماری اصل خوبصورتی تو ان دراڑوں میں ہے جہاں سے درد اندر اترتا اور نور باہر نکلتا ہے۔
وہاں کھڑے کھڑے مجھے محسوس ہوا کہ میں نے اسے (یعنی خود کو) برسوں سے گلے نہیں لگایا۔ ہم سب کے اندر ایک ایسا بچہ سسک رہا ہے جو صرف یہ سننا چاہتا ہے کہ "تم جیسے بھی ہو، کافی ہو"۔
جب میں واپس اپنے اندر لوٹا، تو آنکھیں نم تھیں مگر دل ہلکا تھا۔ خود کو سراہنے کی خوشی تسکین ایک لہر بن کر طرح میرے وجود میں دوڑ گئی ۔
کیا آپ نے کبھی خود کو اس نگاہ سے دیکھا ہے جس سے خدا اپنے گناہگار بندوں کو دیکھتا ہوگا؟۔۔ یعنی صرف محبت اور بے انتہا محبت سے۔

Post a Comment

0 Comments