Header Ads Widget

Responsive Advertisement

کچی چھتوں کا ساز اور روح کا سفر

 بارش کی دھن

کچی چھتوں کا ساز اور روح کا سفر
جب آسمان کی وسعتیں بوجھل ہو کر زمین کی پیاس کا مقدر بننے لگتی ہیں، تو فضا میں ایک ایسی خاموشی جنم لیتی ہے جو شور سے زیادہ گہری ہوتی ہے۔ موسلا دھار بارش محض پانی کی بوندوں کا گرنا نہیں، بلکہ زمان و مکاں کے درمیان ایک ٹوٹے ہوئے رابطے کی بحالی ہے۔ اس برستی رت کی اپنی ایک منفرد دھن ہے؛ یہ کوئی لرزہ خیز چیخ نہیں، بلکہ ایک ایسی مدھم اور مسلسل دستک ہے جو شعور کے بند کواڑوں کونفاست سے وا کرتی چلی جاتی ہے۔ ہر گرتی ہوئی بوند مٹی کے سینے پر ایک ایسا حرفِ راز لکھتی ہے جسے صرف وہ دل پڑھ سکتے ہیں جو خود ٹوٹ کر بکھرنے کے ہنر سے واقف ہوں۔
بارش کا یہ اصل سراپا اور اس کا حقیقی آہنگ آج بھی ان کچی چھتوں پر سنائی دیتا ہے جہاں ہر قطرہ ایک نیا ساز چھیڑتا ہے۔ جدید عمارتوں کے کنکریٹ تلے دبا ہوا انسان اس لمس سے محروم ہے، مگر کچی مٹی کی چھت پر بارش کی دستک کائنات کا وہ قدیم ترین نوحہ ہے جو مٹی کو اپنی اوقات یاد دلاتا ہے۔ وہاں بوندیں گرتی نہیں ہیں، بلکہ ایک مدھم رقص کرتی ہیں، اور ان کی ’ٹپ ٹپ‘ میں ایک ایسا تسلسل ہوتا ہے جو انسانی دل کی دھڑکن کو اپنے تال پر لے آتا ہے۔ قطرہ قطرہ گرتا ہوا پانی بتاتا ہے کہ شفافیت بذاتِ خود ایک حجاب ہے؛ جتنا زیادہ ہم باہر دیکھنا چاہتے ہیں، باہر کا منظر اتنا ہی دھندلا کر ہمیں اپنی ہی ذات کے اندر، اپنی یادوں کے دالان میں جھانکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
ان کچے مکانوں کی وہ مخصوص سوندھی خوشبو، جو بارش کے پہلے لمس سے بیدار ہوتی تھی، دراصل زمین کی وہ خاموش پکار ہے جو اس نے تپتی دھوپ کے تھپیڑے سہتے ہوئے اپنے اندر دبا رکھی تھی۔ یہ خوشبو ثابت کرتی ہے کہ درد جب حد سے گزرتا ہے تو وہ ماتم نہیں، ایک مسحور کن مہک بن جاتا ہے۔ جب بارش کا پانی کچی دیواروں کے رخساروں کو چھوتا ہوا گزرتا، تو محسوس ہوتا تھا کہ جیسے مکان سانس لے رہا ہے۔ اس مٹیالے پانی میں محض ریت نہیں ہوتی تھی، بلکہ اس میں گزرے ہوئے وقت کی معصومیت اور اپنوں کے پیار کا رنگ شامل ہوتا تھا۔
آنگن میں موجود درخت کی ٹہنیوں پر جب چڑیاں اپنے پروں کو جھاڑ کر بارش میں نہاتی تھیں، تو زندگی کی سادگی اپنے پورے عروج پر نظر آتی تھی۔ ان چڑیوں کا وہ بے ساختہ پن بتاتا ہے کہ فنا کا سفر کتنا خوبصورت ہو سکتا ہے۔ وہ کچی چھتیں بھلے ہی ٹپکتی تھیں، مگر ان سے گرنے والی بوندوں کو تھامنے کے لیے رکھے گئے برتنوں کا موسیقی جیسا شور، گھر کے افراد کو ایک جگہ اکٹھا کر دیتا تھا۔ وہ تنگیِ مکان کے باوجود دلوں کی وسعت کا دور تھا۔
آج جب یہ بارش ایک خاص نزاکت کے ساتھ برس رہی ہے، تو محسوس ہوتا ہے کہ کائنات ہمیں کچھ یاد دلا رہی ہے۔ شاید یہ کہ جینا صرف سانس لینے کا نام نہیں، بلکہ اس دھن میں تحلیل ہو جانے کا نام ہے جہاں وجود اور عدم کے درمیان لکیر مٹ جاتی ہے۔ اب بارش اکثر صرف ایک موسم بن کر رہ گئی ہے، جبکہ پہلے یہ ایک کیفیت تھی جو مٹی کی خوشبو اور چھت کے اس پرانے ساز کے ذریعے ہماری روح کو سیراب کرتی تھی۔

Post a Comment

0 Comments