Header Ads Widget

Responsive Advertisement

شہروں کی نیندیں اور ان کے خواب

 شہروں کی نیندیں اور ان کے خواب

شہر سوتے نہیں، بس آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔
اور آنکھیں بند کرنے کا ہنر وہ انسانوں سے بہتر جانتے ہیں۔
رات کے کسی پچھلے پہر میں، جب سڑکیں اپنے دن بھر کے قدموں سے تھک کر خاموش ہوتی ہیں، شہر کروٹ بدلتا ہے۔ بجلی کے کھمبے مدھم سانس لیتے ہیں، فٹ پاتھ اپنے زخم سمیٹتے ہیں، اور بند دکانوں کے شٹر ایسے لگتے ہیں جیسے پلکیں ہوں ۔۔ جن کے پیچھے خواب جاگ رہے ہوں۔
ہر شہر کی نیند الگ ہوتی ہے۔
کوئی شہر شور میں سوتا ہے، کسی کو خاموشی ڈراتی ہے۔
کہیں خواب اونچی عمارتوں کی چھتوں پر اٹکے رہ جاتے ہیں، کہیں نالیوں میں بہتے ہوئے مستقبل کی طرح بدبو دار مگر زندہ ہوتے ہیں۔
میں نے ایک شہر کو خواب میں روتے دیکھا۔
وہ خواب دیکھتا تھا کہ اس کے مکین رک گئے ہیں، بھاگنا چھوڑ دیا ہے، اور اس کے سینے پر سر رکھ کر سو رہے ہیں۔ مگر جیسے ہی وہ خواب گہرا ہونے لگتا، کسی فیکٹری کی سیٹی، کسی موبائل کی گھنٹی، یا کسی بھوکے بچے کی ہچکی اسے جگا دیتی۔
شہر اکثر وہ خواب دیکھتے ہیں جو ان کے باسی دیکھنے سے ڈرتے ہیں۔
وہ خواب، جن میں انصاف ہوتا ہے مگر شور نہیں۔
محبت ہوتی ہے مگر اشتہار نہیں۔
اور وقت کے پاس مہلت ہوتی ہے۔
صبح کے قریب، جب اذانیں اور الارم ایک دوسرے سے الجھتے ہیں، شہر جاگ اٹھتا ہے۔ آنکھوں میں نیند نہیں، صرف تھکن ہوتی ہے۔ خواب کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں ۔۔ پلوں کے نیچے، خالی بس اسٹاپس پر، یا کسی بند کھڑکی کے شیشے میں قید۔
شاید اسی لیے شہر دوبارہ سونے کی ضد کرتے ہیں۔
اس امید پر کہ اگلی نیند میں، کوئی خواب تعبیر بن جائے۔

Post a Comment

0 Comments