Skip to main content

مدینہ کے مسافر

  


مدینہ کے مسافر



مدینہ کے مسافر

جب مدینے کے سفر کی نیت باندھو

 تو دل کا لباس بدل لینا

 ہر سانس میں درود، ہر دھڑکن میں شوق بھر لینا

 قدم قدم پہ اپنے آنسوؤں سے مٹی کی پیاس بجھانا

 ممکن ہے راستے تمھیں اس مسافر کی یاد دلائیں

 کہ جو حبشہ کی بستی سے

بے سرو ساماں نکلا

 چند سکوں میں بکا،

 مگر رب نے چن لیا

 مدینے نے اس کی صدا کو فلک تک اوج بخشا

 غلامی کی اذان کو اس بلندی سے نوازا

 جوعرش کے کنگروں تلک پہنچی

 مدینے کے مسافر

یہ سفر صرف راستہ نہیں

 یہاں ہوا بھی درود پڑھتی ہے

اور پتھر بھی دعا کرتے ہیں

 اپنے پاؤں میں ادب کی چاپ رکھنا

 دل کے قفل  کھول کر

اور آنکھوں کو جھکا کر رکھنا

کیونکہ

 مدینہ ہر مسافر کو نئی حیرت میں ڈھالتا ہے

#نوریات

مزید ایسا کلام پڑھنے کے لئے ۔۔ نیچے کلک کریں





Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ