مدینہ کے مسافر
مدینہ کے مسافر
جب مدینے کے سفر کی نیت باندھو
تو دل کا لباس بدل لینا
ہر سانس میں درود، ہر
دھڑکن میں شوق بھر لینا
قدم قدم پہ اپنے آنسوؤں سے
مٹی کی پیاس بجھانا
ممکن ہے راستے تمھیں اس
مسافر کی یاد دلائیں
کہ جو حبشہ کی بستی سے
بے سرو ساماں نکلا
چند سکوں میں بکا،
مگر رب نے چن لیا
مدینے نے اس کی صدا کو فلک
تک اوج بخشا
غلامی کی اذان کو اس بلندی
سے نوازا
جوعرش کے کنگروں تلک پہنچی
مدینے کے مسافر
یہ سفر صرف راستہ نہیں
یہاں ہوا بھی درود پڑھتی ہے
اور پتھر بھی دعا کرتے ہیں
اپنے پاؤں میں ادب کی چاپ رکھنا
دل کے قفل کھول کر
اور آنکھوں کو جھکا کر رکھنا
کیونکہ
مدینہ ہر مسافر
کو نئی حیرت میں ڈھالتا ہے
#نوریات
مزید ایسا کلام پڑھنے کے لئے ۔۔ نیچے کلک کریں


0 Comments