شکر کی دھوپ اور ضمیر کا استفسار
بعض
اوقات صبح کا اجالا صرف کھڑکیوں کے شیشے ہی نہیں توڑتا، بلکہ ہمارے اندر جمی ہوئی
برف کو بھی پگھلانے کی کوشش کرتا ہے۔ آج کی یہ سرد صبح بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ جنوری
کے آخری ایام، کمرے میں پھیلی ہوئی مخصوص خنکی اور باہر کہرے کی وہ دبیز چادر جس
نے کائنات کے ہر منظر کو ایک پراسرار خاموشی میں لپیٹ رکھا ہے۔ لیکن اس دھند کے
پیچھے ایک سورج ہے، جو ابھی پوری طرح نمودار نہیں ہوا مگر اس کی تپش ہواؤں میں
محسوس کی جا رہی ہے۔ یہ جمعہ کی صبح ہے، اور جمعہ محض ایک دن نہیں، ایک کیفیت کا
نام ہے—ایک ایسی کیفیت جو آپ کو مجبور کرتی ہے کہ آپ اپنی دوڑتی بھاگتی زندگی کے
پہیے کو ذرا دیر کے لیے روک دیں اور خود سے ایک سوال کریں: "اس تمام ہنگامہ
آرائی کا حاصل کیا ہے؟"
ہماری
زندگی بھی ان سردیوں کی دھند کی طرح ہو گئی ہے۔ ہم چل تو رہے ہیں، مگر منزلیں
دھندلی ہیں۔ ہم بول تو رہے ہیں، مگر الفاظ میں تاثیر نہیں۔ ہم مانگ تو بہت کچھ رہے
ہیں، مگر جو ہاتھ میں ہے اس کی قدر نہیں۔ آج جب میں نے چائے کی پیالی تھامے اس
سنہری روشنی کو فرش پر پھیلتے دیکھا، تو مجھے احساس ہوا کہ ہم کائنات کے کتنے بڑے
احسان فراموش ہیں۔ ہم اس سورج کو ایک 'سائنسی حقیقت' سمجھ کر نظر انداز کر دیتے
ہیں، حالانکہ یہ اس رب کا وہ بن مانگا ہدیہ ہے جو اگر ایک دن بھی تاخیر کر دے تو
زمین کا نظام درہم برہم ہو جائے۔ لیکن صاحب، ہم تو وہ ہیں جو دریا کے کنارے بیٹھ
کر پیاس کا رونا روتے ہیں۔
آئیے
آج وہ باتیں کرتے ہیں وہ باتیں جو بظاہر عام ہیں مگر ان کی جڑیں ہمارے وجود
کی گہرائیوں میں پیوست ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ "ناشکری" نہیں، بلکہ
"عادت" ہو جانا ہے۔ ہمیں ہر نعمت کی اتنی عادت ہو گئی ہے کہ ہم اسے اپنا
استحقاق (Right) سمجھنے
لگے ہیں۔ یہ آنکھیں جو صبح بغیر کسی خرابی کے کھل گئیں، یہ سانس جو رات بھر بغیر
کسی مشین کے چلتی رہی، یہ جسم جو تمام تر کوتاہیوں کے باوجود ہمارا ساتھ دے رہا
ہے—کیا یہ سب ہمارا حق تھا؟ نہیں۔ یہ تو محض ایک کرم ہے جو بن مانگے ہو رہا ہے۔ ہم
ناشکری کے اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں ہم اللہ سے ان چیزوں کا حساب مانگتے ہیں جو
ہمیں نہیں ملیں، لیکن ان کروڑوں بلاؤں کا حساب نہیں دیتے جو اس نے ہماری طرف آنے
سے پہلے ہی موڑ دیں۔
انسان
کا محاسبہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ اپنے "میں" کے خول سے باہر نکل کر
دیکھتا ہے۔ ہم گلے شکووں کے اتنے عادی ہو گئے ہیں کہ ہماری گفتگو کا آغاز ہی
"کاش ایسا ہوتا" یا "فلاں چیز کیوں نہیں ملی" سے ہوتا ہے۔ ہم
نے اپنی محرومیوں کی ایک لمبی فہرست تیار کر رکھی ہے جسے ہم ہر وقت اپنے سامنے
رکھتے ہیں، مگر وہ 'خاموش نعمتیں' جو ہر لمحہ ہمارے گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہیں،
انہیں ہم نے "سرسری" سمجھ کر پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ آج کی یہ نرم گرم دھوپ
ہمیں بتاتی ہے کہ رب کی عطا ہماری خطا سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔ وہ ہماری بددیانتیوں
کو دیکھتا ہے، وہ ہماری منافقتوں سے واقف ہے، وہ جانتا ہے کہ ہم تنہائی میں کیا
ہیں اور جلوت میں کیا، مگر اس کے باوجود وہ صبح کا سورج طلوع کرنا نہیں بھولتا۔ وہ
ہماری بے وفائیوں کے باوجود رزق کے پرندوں کو ہمارے آنگن میں بھیجتا ہے۔ یہ اس کی
"ربوبیت" نہیں تو اور کیا ہے؟
آج جب
آپ مسجد کی طرف قدم بڑھائیں یا اپنے گھر کے گوشے میں تنہا بیٹھیں، تو ذرا سوچیے گا
کہ ہماری اوقات کیا ہے؟ ہم مٹی کے وہ ڈھیر ہیں جنہیں اس کے ایک "کن" نے
زندگی کی رمق عطا کر رکھی ہے۔ ہماری خامیاں اتنی زیادہ ہیں کہ اگر وہ پردہ پوشی نہ
کرے تو ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں۔ ہماری کوتاہیاں پہاڑ جتنی ہیں، مگر
اس کی رحمت سمندر جیسی۔ ہم ناشکری کے بیچ میں بھی اس کی نعمتوں سے فیض یاب ہو رہے
ہیں۔ یہ جمعہ کا دن دراصل ایک آئینے کی طرح ہے، جس میں ہم اپنے دھول سے اٹی ہوئی
روح کا چہرہ صاف کر سکتے ہیں۔
دھیمے
لہجے میں اگر بات کی جائے تو تشکر کوئی لفظ نہیں، ایک طرزِ حیات ہے۔ وہ انسان کبھی
ناخوش نہیں رہ سکتا جس نے شکر کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہو۔ اور وہ انسان
کبھی پرسکون نہیں ہو سکتا جس کا دامن شکووں سے بھرا ہو۔ آج کی اس پرتاثیر صبح میں،
جب ہوا میں ایک خنک مٹھاس ہے، آئیے اپنے رب سے صلح کر لیں۔ اس صلح کا راستہ
"شکر" کی گلی سے گزرتا ہے۔ ان تمام چیزوں کے لیے شکر ادا کیجیے جو آپ کو
ملی ہیں، اور ان کے لیے بھی جو نہیں ملیں، کیونکہ اس کے نہ دینے میں بھی وہی حکمت
ہے جو دینے میں ہے۔
ہماری
زندگی اسی طرح گزر جائے گی۔ ہفتے بیت جائیں گے، جمعہ آتے رہیں گے، اور بالآخر ایک
دن ہماری اپنی شام ہو جائے گی۔ لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ جب ہم اس دنیا سے رخصت ہوں
تو ہمارے لبوں پر شکوہ نہیں، بلکہ "الحمدللہ" کی مہک ہو۔ آج کی یہ سورج
کی نرم گرم کرنیں ہمیں ایک موقع دے رہی ہیں کہ ہم اپنی سرد مہریوں کو ختم کریں،
اپنی انا کے بت توڑیں اور اس خالقِ کائنات کے سامنے جھک جائیں جو ہماری شہ رگ سے
بھی زیادہ قریب ہے اور جو ہماری پکار کا منتظر ہے، باوجود اس کے کہ ہم اسے یاد
کرنے میں کتنی ہی دیر کیوں نہ کر دیں۔
جیسے
جیسے دن چڑھے گا، مصروفیت بڑھے گی، دنیا کا شور آپ کے کانوں میں پڑے گا، لیکن کوشش
کیجیے گا کہ اپنے اندر کے اس شکر کے چراغ کو بجھنے نہ دیں۔ یہ وہ روشنی ہے جو قبر
کی اندھیری رات میں بھی آپ کا ساتھ دے گی۔ آج کا دن محاسبے کا دن ہے، شکر کا دن
ہے، اور اس عہد کا دن ہے کہ ہم اپنی باقی ماندہ زندگی کو "ناشکری کی
دھند" سے نکال کر "عقیدت کی دھوپ" میں لے آئیں گے۔
Comments
Post a Comment