Skip to main content

کہانیوں میں چھپے کردار

 کہانیوں میں چھپے کردار



کیا آپ نے کبھی اپنے آپ کو کسی اور کی کہانی میں ڈھونڈا ہے؟ شاید کسی ناول کے حاشیے میں، یا کسی اجنبی کی بات کے بیچ اچانک ٹھہر کر۔ یوں لگا ہو کہ یہ جملہ تو میں نے جیا ہے، یہ خاموشی تو میری اپنی تھی۔ لفظ کسی اور کے تھے، مگر درد، امید یا الجھن۔۔۔۔۔سب مانوس۔
کہانیاں شاید اسی لیے ہمیں اپنی طرف کھینچتی ہیں کہ وہ ہمیں آئینہ بن کر نہیں، دریچہ بن کر دکھاتی ہیں۔ ہم اس میں جھانکتے ہیں اور باہر کسی اور کی زندگی نظر آتی ہے، مگر اندر کہیں اپنا عکس بھی سانس لیتا محسوس ہوتا ہے۔ ایک معمولی سا منظر۔۔۔۔۔خالی کمرہ، ادھورا خط، رکی ہوئی گھڑی۔۔۔۔اچانک ہمارے اندر کی کسی بند یاد کو کھول دیتا ہے۔
ایسے لمحوں میں ہم یہ نہیں پوچھتے کہ یہ کہانی کس کی ہے، بلکہ یہ سوال آہستہ سے ابھرتا ہے کہ کیا میری کہانی بھی کسی اور کے لیے ایسی ہی ہوگی؟ کیا کوئی اور بھی کہیں بیٹھا، انہی لفظوں میں خود کو تلاش کر رہا ہوگا؟
شاید ہم سب اپنی مکمل کہانی کبھی نہیں لکھ پاتے۔ ہم ایک دوسرے کے لفظوں میں اپنی کمی پوری کرتے رہتے ہیں۔ اور جب کسی اور کی کہانی میں خود کو پہچان لیتے ہیں، تو یہ احساس جنم لیتا ہے کہ تنہائی اتنی تنہا نہیں جتنی ہم سمجھتے تھے۔۔۔۔۔بس مختلف آوازوں میں بولتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر