Skip to main content

حرفِ اول کا بوجھ

 حرفِ اول کا بوجھ

لکھنے سے پہلے ایک ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے جس کا کوئی واضح نام نہیں۔
یہ نہ محض خاموشی ہے، نہ مکمل اضطراب ۔۔۔۔ بلکہ دونوں کے درمیان پھیلا ہوا ایک بوجھل توقف۔ جیسے ذہن کسی غیر مرئی دہلیز پر کھڑا ہو اور اندر جانے یا پلٹ آنے، دونوں سے یکساں خائف ہو۔
اس لمحے احساسات صاف نہیں ہوتے، وہ مبہم، نیم روشن سایوں کی طرح موجود رہتے ہیں۔ کچھ یادیں دل کے کونے میں جمے بیٹھے رہتی ہیں، جنہیں چھیڑنے سے خوف آتا ہے کہ کہیں سب کچھ بکھر نہ جائے۔ کچھ خیالات اپنی بے ترتیبی میں ہی سچ لگتے ہیں، مگر لفظوں کی ترتیب مانگتے ہیں۔ اور یہی مطالبہ سب سے زیادہ کٹھن ہوتا ہے۔
لکھنے سے پہلے انسان خود سے غیر معمولی ایمانداری کا مطالبہ کرتا ہے۔ سوال یہ نہیں ہوتا کہ کیا لکھنا ہے ۔۔۔۔ بلکہ یہ کہ کیا چھپانا ہے۔ کیونکہ ہر تحریر، شعوری یا لاشعوری طور پر، ایک انتخاب ہوتی ہے ۔کون سا سچ بولنا ہے، اور کون سا سچ خاموشی میں دفن رہنے دینا ہے۔
یہ کیفیت دراصل خود احتسابی کا لمحہ ہے، جہاں قلم اٹھانے سے پہلے دل لرزتا ہے۔ اس لرزش میں خوف بھی شامل ہے اور امید بھی ۔۔۔۔ کہ شاید لکھنے کے بعد ذہن کچھ ہلکا ہو جائے، یا شاید اور بھاری۔
شاید اسی لیے لکھنے سے پہلے کا لمحہ، خود تحریر سے زیادہ فکر انگیز ہوتا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں انسان لفظوں کو نہیں، خود کو ترتیب دینے کی کوشش کرتا ہے۔
اور اکثر اسی کوشش میں، سب سے گہرا سوال جنم لیتا ہے۔
کیا ہم سچ لکھیں گے، یا محفوظ الفاظ کی پناہ لیں گے؟
کیونکہ لکھنا شروع ہوتے ہی، خاموشی ٹوٹ جاتی ہے، اور پھر واپسی ممکن نہیں رہتی۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ

پہلا روزہ

پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں  اپنا ایک ادبی  شاہکار  اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم  سے  عنائت کریں  اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔  پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ  بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔  پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔  گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی  کی صورت میں دیے تو  دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...