حرفِ اول کا بوجھ
لکھنے سے پہلے ایک ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے جس کا کوئی واضح نام نہیں۔
یہ نہ محض خاموشی ہے، نہ مکمل اضطراب ۔۔۔۔ بلکہ دونوں کے درمیان پھیلا ہوا ایک بوجھل توقف۔ جیسے ذہن کسی غیر مرئی دہلیز پر کھڑا ہو اور اندر جانے یا پلٹ آنے، دونوں سے یکساں خائف ہو۔
لکھنے سے پہلے انسان خود سے غیر معمولی ایمانداری کا مطالبہ کرتا ہے۔ سوال یہ نہیں ہوتا کہ کیا لکھنا ہے ۔۔۔۔ بلکہ یہ کہ کیا چھپانا ہے۔ کیونکہ ہر تحریر، شعوری یا لاشعوری طور پر، ایک انتخاب ہوتی ہے ۔کون سا سچ بولنا ہے، اور کون سا سچ خاموشی میں دفن رہنے دینا ہے۔
یہ کیفیت دراصل خود احتسابی کا لمحہ ہے، جہاں قلم اٹھانے سے پہلے دل لرزتا ہے۔ اس لرزش میں خوف بھی شامل ہے اور امید بھی ۔۔۔۔ کہ شاید لکھنے کے بعد ذہن کچھ ہلکا ہو جائے، یا شاید اور بھاری۔
شاید اسی لیے لکھنے سے پہلے کا لمحہ، خود تحریر سے زیادہ فکر انگیز ہوتا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں انسان لفظوں کو نہیں، خود کو ترتیب دینے کی کوشش کرتا ہے۔
اور اکثر اسی کوشش میں، سب سے گہرا سوال جنم لیتا ہے۔
کیا ہم سچ لکھیں گے، یا محفوظ الفاظ کی پناہ لیں گے؟
کیونکہ لکھنا شروع ہوتے ہی، خاموشی ٹوٹ جاتی ہے، اور پھر واپسی ممکن نہیں رہتی۔

0 Comments