راولپنڈی اور اسلام آباد کے ادبی منظرنامے پر مشاعرہ ایک ایسی 'سماجی واردات' ہے جس میں ملزم، گواہ اور منصف سب پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں۔ یہاں مشاعرہ شروع ہونا اتنی بڑی خبر نہیں، جتنی بڑی خبر یہ ہے کہ وہ بحالِ صحتِ جسمانی و ذہنی اختتام پذیر ہو جائے۔ ان جڑواں شہروں کے ادبی پروگراموں میں شرکت کے لیے جگر سے زیادہ 'پاؤں' اور 'سماعت' مضبوط ہونی چاہیے، کیونکہ یہاں کے شعرا کلام سنانے میں جتنے سست ہیں، اپنی باری کے بعد 'ہجرت' کرنے میں اتنے ہی برق رفتار ہیں۔
مشاعرے کا اصل 'کھلاڑی' نقیبِ محفل ہوتا ہے، جو مائیک سنبھالتے ہی ایک ایسی لغت کھول لیتا ہے جسے سن کر غالب بھی قبر میں کروٹیں لینے لگیں۔ نقیب کا کام شاعر کو اسٹیج پر بلانا نہیں، بلکہ اسے 'لانچ' کرنا ہوتا ہے۔ وہ کسی عام سے شاعر کو بلاتے ہوئے بھی ایسے القابات استعمال کرتا ہے جیسے کہ سامنے والا شخص براہِ راست آسمان سے نازل ہوا ہو۔ نقیب مائیک پر دہاڑتا ہے کہ "اب میں اس ہستی کو دعوتِ سخن دے رہا ہوں جس کے افکار کی خوشبو سے ہمالیہ کی برف پگھل جاتی ہے اور جس کے استعارے سمندر کی گہرائیوں میں زلزلہ پیدا کر دیتے ہیں"۔ یہ سن کر ہال میں بیٹھے لوگ ادھر ادھر دیکھنے لگتے ہیں کہ شاید 'جون ایلیا' واپس آگئے ہیں، مگر اسٹیج پر ایک صاحب شلوار سنبھالتے ہوئے تشریف لاتے ہیں جن کی پوری شاعری 'تیرے غم' اور 'میرے آنسو' کے گرد گھومتی ہے۔ نقیب کی ایک اور شرارت 'وقت کی قلت' کا راگ الاپنا ہے۔ وہ ہر شاعر کو بلانے سے پہلے نہایت معصومیت سے کہتا ہے کہ وقت کا دامن بڑا تنگ ہے، اس لیے گزارش ہے کہ صرف دو یا تین منتخب اشعار سنائیں۔ یہ اعلان سن کر شاعر ایسی مسکراہٹ دیتا ہے جیسے وہ نقیب کو کہہ رہا ہو کہ "میاں! تم نے اپنا کام کر دیا، اب مائیک میرا ہے اور رات تمہاری!"۔
مشاعرے کے آغاز میں اسٹیج ایسا بھرا ہوتا ہے جیسے کسی سیاسی جماعت کا کنٹینر۔ ہر کرسی پر ایک 'قبلہ' یا 'حضرت' براجمان ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کی کمر ٹھونک کر 'بڑے شاعر' ہونے کا سرٹیفکیٹ بانٹ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا ہے، اسٹیج پر "خلا" پیدا ہونے لگتا ہے۔ یہاں کے شاعر کی ایک مخصوص خصلت ہے؛ وہ اپنا کلام سنانے کے بعد ایسے غائب ہوتا ہے جیسے کسی مجرم نے پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے پہلے ٹینک فل کروا لیا ہو۔ وہ مائیک پر نہایت عاجزی سے کہتا ہے کہ "بڑی معذرت، مجھے جلدی گھر پہنچنا ہے، کوئی ضروری مہمان انتظار کر رہے ہیں"۔ حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ گھر جا کر انہوں نے صرف فیس بک پر اپنی 'سیلفی' کے لائکس گننے ہوتے ہیں۔ آخر میں اسٹیج پر صرف وہ میزبان بچتا ہے جس نے ہال بک کروایا ہوتا ہے، اور وہ "صاحبِ صدر" جو اپنی صدارت کے بوجھ تلے ایسا دبا ہوتا ہے کہ اسے اپنی ٹانگوں کا بھی ہوش نہیں رہتا۔
اسٹیج پر آکر ہر دوسرا شاعر ایک نہایت ہی پیشہ ورانہ جھوٹ بولتا ہے کہ "صاحبانِ ذی وقار! طبیعت کچھ بوجھل ہے، حافظہ جواب دے رہا ہے، بس دو چار اشعار سنا کر آپ کی سماعتوں سے رخصت چاہوں گا"۔ یہ سن کر ہال میں موجود بے گناہ سامعین کی آنکھوں میں امید کی کرن جاگتی ہے، مگر یہ کرن محض سراب ہوتی ہے۔ جوں ہی پہلا شعر "مکرر ارشاد" کی گونج میں آتا ہے، شاعر کی 'بوجھل طبیعت' اچانک 'پاور لفٹر' جیسی ہو جاتی ہے۔ پھر وہ "رخصت" مانگنا تو دور، مائیک کو ایسے جپھی ڈال لیتا ہے جیسے وہ اس کی موروثی جائیداد ہو۔ کچھ "مستند شعرا" تو ایسے ہوتے ہیں جن کی ایک ہی غزل پچھلے تیس سال سے ان کے ساتھ سفر کر رہی ہوتی ہے۔ وہ اس غزل کو ایسے پڑھتے ہیں جیسے ابھی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی ہو، حالانکہ ہال میں موجود آدھے سامعین کو وہ غزل زبانی یاد ہو چکی ہوتی ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ شاعر موصوف شعر پڑھ کر پورے ہال کا "ایکسرے" کرتے ہیں۔ ان کی نظریں ہر ایک شخص کے چہرے کا طواف کرتی ہیں، اور وہ باقاعدہ 'گھور' کر دیکھتے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں کہ "او میاں! داد دو، ورنہ اسٹیج سے نہیں اتروں گا"۔ اگر کوئی داد دینے میں دیر کر دے، تو وہ مصرعہ دوبارہ، سہہ بارہ اور بار بار پڑھتے ہیں یہاں تک کہ سامعین تنگ آ کر "واہ واہ" کی ایسی چیخ مارتے ہیں کہ شاعر کا کلیجہ ٹھنڈا ہو۔ یہ داد نہیں، دراصل شاعر سے جان چھڑانے کا 'تاوان' ہوتا ہے۔
مشاعرے کا ایک اور دلچسپ پہلو کسی اہم شخصیت کو 'مکھن' لگانا ہے۔ شاعر اسٹیج پر آ کر کسی سیٹھ یا صاحبِ صدر کو مخاطب کرتا ہے کہ "صاحبِ صدر! یہ شعر آپ کی نذر"۔ اب شعر ہوتا ہے "قناعت اور فقیری" پر، جبکہ جس شخصیت کی نذر کیا جا رہا ہوتا ہے، ان کی توند اور پروٹوکول دیکھ کر 'قناعت' خود شرما جائے۔ شعر میں "درویشی" کا ذکر ہو رہا ہوتا ہے اور جس کی نذر کیا جاتا ہے وہ اسلام آباد کے کسی مہنگے سیکٹر کا 'درویش' ہوتا ہے جس کی گاڑی بھی درویشانہ طور پر کروڑوں کی ہوتی ہے۔ مگر صاحب! مشاعرے میں سب چلتا ہے۔ شاعر کو 'نذرانہ' چاہیے اور صاحبِ صدر کو 'داد'۔ یہ ایک ایسی تجارت ہے جس میں صرف بے چاری "شاعری" کا نقصان ہوتا ہے۔
مشاعرے کے سامعین بھی ایک ایسی 'صابر نسل' ہیں جن پر ریسرچ کی جانی چاہیے۔ ان میں ایک قسم ان 'پیشہ ور سامعین' کی ہے جو ہر مشاعرے کی پہلی صف میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی 'واہ' اکثر غلط جگہ پر وارد ہوتی ہے۔ شاعر ابھی مصرعِ اولیٰ پڑھ کر سانس لے رہا ہوتا ہے کہ یہ "سبحان اللہ" کا نعرہ بلند کر دیتے ہیں۔ پھر کچھ وہ 'خاموش سامعین' ہوتے ہیں جو صرف اس لیے بیٹھے ہوتے ہیں کہ باہر بارش ہو رہی ہے یا پھر انہیں گھر میں جلدی کسی نے گھسنے نہیں دینا۔ ایک صاحب تو ایسے ملے جو ہر غزل کے بعد اپنی ڈائری میں گھر کا سودا سلف لکھ رہے تھے کہ "واپسی پر آدھا کلو دہی اور ہرا دھنیا لینا ہے"۔ اسلام آباد کے مشاعروں میں آدھے سامعین تو وہ ہوتے ہیں جو صرف یہ دیکھنے آتے ہیں کہ اسٹیج پر بیٹھا ہوا 'بڑا شاعر' کتنا بوڑھا ہو گیا ہے اور اس نے کونسے رنگ کا خضاب لگایا ہے۔
پوری محفل میں سب سے قابلِ رحم اور 'صابر و شاکر' شخصیت "صاحبِ صدر" کی ہوتی ہے۔ صدارت کا منصب بظاہر تو بڑا پُر وقار لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ایسی "قیدِ بامشقت" ہے جس میں شاعر کو داد بھی دینی پڑتی ہے اور ہنسنا بھی پڑتا ہے۔ صاحبِ صدر اس امید پر بیٹھے ہوتے ہیں کہ وہ محفل کے 'دولہا' ہیں، مگر دراصل وہ اس 'بکری' کی طرح ہوتے ہیں جسے ذبح کرنے سے پہلے سب سے آخر میں رکھا جاتا ہے۔ ہر دوسرا شاعر اسٹیج پر آ کر نہایت ہی معصومیت سے ان کی طرف مڑتا ہے اور پوچھتا ہے کہ "قبلہ صدر! اجازت ہے؟"۔ اب یہ سوال محض ایک تکنیکی ضرورت ہے؛ بیچارے صدر صاحب ابھی لب کشائی کا ارادہ ہی کر رہے ہوتے ہیں کہ شاعر کا پہلا مصرع ان کے کان کے پردے پھاڑ چکا ہوتا ہے۔ صاحبِ صدر کی سب سے بڑی جنگ 'نیند اور بیداری' کے درمیان ہوتی ہے۔ وہ ہر شعر پر ایسے سر ہلاتے ہیں جیسے کوئی خودکار کھلونا ہو، حالانکہ ان کے دماغ میں اس وقت صدارتی خطبے کے بجائے گھر کی بیگم کا غصہ اور ٹھنڈا ہوا کھانا گھوم رہا ہوتا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ جب تک ان کی باری آتی ہے، ہال میں سامعین کے نام پر صرف 'خالی کرسیاں' اور 'سویا ہوا چوکیدار' باقی بچتا ہے۔
مشاعرہ ختم ہونے کے بعد "سلفی برگیڈ" حرکت میں آتی ہے۔ اب مشاعرے کی کامیابی کا معیار کلام نہیں، بلکہ "سیلفی ود لیجنڈ" ہے۔ وہ شاعر جو ابھی اسٹیج پر اپنی بیماری کا رونا رو رہا تھا، کیمرہ دیکھتے ہی ایسا ہشاش بشاش ہو جاتا ہے جیسے اس نے ابھی ابھی کوئی توانائی بخش شربت پی لیا ہو۔ یہ سلفی کلچر دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ اب ہمیں ادب سے دلچسپی نہیں، بلکہ 'ادب کے ساتھ نظر آنے' سے دلچسپی ہے۔ تصویر کھنچوانے کے بعد شاعر اور سامع ایک دوسرے کو ایسے بھول جاتے ہیں جیسے وہ کبھی ملے ہی نہ ہوں۔
آخر میں باری آتی ہے اس 'چائے پانی' کی جس کا انتظام منتظمین نے بطورِ 'انعام' مشاعرے کے بالکل آخری کونے میں چھپا کر رکھا ہوتا ہے۔ نقیبِ محفل پورے مشاعرے میں سامعین کو چائے کی خوشخبری سنا کر یرغمال بنائے رکھتا ہے۔ سامعین جو رات کے دو بجے تک تھک کر چور ہو چکے ہوتے ہیں، وہ صرف اس ایک پیالی کی خاطر صاحبِ صدر کا طویل خطبہ ایسے خاموشی سے سنتے ہیں جیسے وہ کوئی الہامی کلام ہو۔ جوں ہی لنگر خانہ کھلتا ہے، وہ سامعین جو ابھی 'فلسفہِ خودی' پر سر دھن رہے تھے، اچانک 'خودی' بھول کر چائے کی ٹرالی پر ایسے ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے وہ چائے کی پیالی نہیں، بلکہ کوئی نایاب نسخہ ہو۔ سرسری مشاہدہ تو یہ ہے کہ اگر کسی دن مشاعرے سے یہ آخری ضیافت غائب ہو گئی، تو شاید آدھے سے زیادہ ادبی ٹھکانے 'خالی قبرستان' کا منظر پیش کرنے لگیں گے
Comments
Post a Comment