چائے کی پیالی سے اٹھتی ہوئی بھاپ نے فضا میں ایک مبہم سا سوالیہ نشان بنایا اور پھر خاموشی کے مہیب غار میں اتر گئی۔ میز کے اس پار بیٹھا ہوا شخص شاید کچھ کہہ رہا تھا، اس کے لبوں کی جنبش سے لفظوں کے شکستہ ڈھانچے برآمد ہو رہے تھے، مگر سماعتوں کے پردے پر دستک دینے سے پہلے ہی وہ کہیں غائب ہو جاتے تھے۔
"دیکھو، اگر ہم اس
منصوبے کو اگلے ماہ تک..."
جملہ ابھی فضا میں معلق
تھا کہ کھڑکی سے آنے والی دھوپ کی ایک لکیر اچانک سنہری دھول میں بدل گئی۔ وہ جو
حال کی کرسی پر بیٹھا تھا، اس کے ہاتھ کی پوریں میز کی لکڑی کو چھو رہی تھیں، مگر
لمس کا احساس کسی قدیم کتبے کی ٹھنڈک میں بدلنے لگا۔ کمرے کی دیواریں یک لخت پگھلنے
لگیں اور ان کی جگہ نیلم کی ایک وسعت نے لے لی۔
وہاں، اس نیلی دھند کے
پار، ایک پرانی لکڑی کی سیڑھی تھی جس پر پیر رکھتے ہی کچ کچاہٹ کی آواز آتی تھی۔
یہ آواز آج کی نہیں تھی، یہ اس وقت کی تھی جب کیلوں میں زنگ نہیں لگا تھا اور لکڑی
کی خوشبو سانسوں میں گلاب کی طرح مہکتی تھی۔ پاؤں کے نیچے بچھے ہوئے قالین کے ریشے
اب گھاس کی پتیاں بن چکے تھے، جن پر شبنم کے قطرے کسی ادھوری دعا کی طرح ٹکے ہوئے
تھے۔
"تم سن رہے ہو نا؟
میرا خیال ہے کہ ہمیں بجٹ پر دوبارہ..."
آواز اب کسی کنویں کی
گہرائی سے آ رہی تھی۔ وہ شخص جو سامنے بیٹھا تھا، اب محض ایک سایہ تھا جس کے ہاتھ
میں موجود قلم کسی نوکیلے خنجر کی طرح چمک رہا تھا۔ لیکن وہ یہاں نہیں تھا۔ وہ اس
برآمدے میں تھا جہاں ایک کبوتر نے ابھی ابھی اپنے پر جھاڑے تھے اور ایک سفید پر
ہوا میں تیرتا ہوا اس کے ماتھے سے آ ٹکرایا تھا۔ ماتھے پر محسوس ہونے والی وہ
ٹھنڈک اتنی حقیقی تھی کہ اس نے لاشعوری طور پر اپنا ہاتھ اٹھایا۔
وہاں ایک پرانی صراحی
پڑی تھی جس کے گلے سے پانی ٹپکنے کی آواز ایک تسلسل کے ساتھ گونج رہی تھی۔ ٹپ...
ٹپ... ٹپ...۔ یہ آواز گھڑی کی سوئیوں سے زیادہ طاقتور تھی۔ ہر قطرے کے ساتھ ایک برس
بیت جاتا تھا۔ اس نے صراحی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو محسوس ہوا کہ اس کے ہاتھ کی جلد
بہت نرم اور چھوٹی ہے۔ ناخنوں پر مٹی کے نشان تھے، جیسے وہ ابھی ابھی کسی کیاری سے
جڑیں کھود کر آیا ہو۔
ہوا میں اچانک تلے ہوئے
مسالوں اور گیلی مٹی کی ملی جلی مہک ابھری۔ ایک مانوس پکار، جو نام لیے بغیر بھی
اس کے پورے وجود کو لرزا دیتی تھی، کہیں قریب سے گزری۔ اس نے مڑ کر دیکھنا چاہا،
مگر گردن کے پٹھے حال کی گرفت میں تھے۔ وہ ایک ایسے مقام پر تھا جہاں دو موسم ایک
ساتھ برت رہے تھے۔ دائیں ہاتھ میں گرم چائے کی پیالی کی حدت تھی اور بائیں ہاتھ
میں اس برفیلے اولے کی ٹھنڈک، جو اس نے بچپن میں صحن سے اٹھایا تھا اور جو اب تک
اس کی مٹھی میں پگھل رہا تھا۔
"تمہاری توجہ کہیں
اور ہے؟ کیا میں کچھ غلط کہہ رہا ہوں؟"
سامنے بیٹھے سائے نے اب
شکل اختیار کر لی تھی۔ وہ دفتر کا ایک عام سا کمرہ تھا، جہاں فائلیں کسی قید خانے
کی سلاخوں کی طرح ترتیب سے لگی تھیں۔ اس نے پلکیں جھپکائیں تو نیلا آسمان اور لکڑی
کی سیڑھی غائب ہو چکی تھی، مگر اس کے کوٹ کی آستین پر اب بھی اس سفید پر کا نشان
باقی تھا جو کبوتر نے گرایا تھا۔ اس نے میز پر رکھے ہوئے پانی کے گلاس کو دیکھا۔
گلاس کے اندر بننے والے بلبلے اسے بتاتے تھے کہ وقت ساکن نہیں ہے، لیکن وہ جانتا
تھا کہ وہ ابھی ابھی کسی ایسی گلی سے ہو کر آیا ہے جس کا راستہ تمام نقشوں سے مٹ
چکا ہے۔
حیرت کے ایک گہرے سمندر
نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس کے لبوں پر ایک لفظ آیا، جو اس گفتگو کا حصہ نہیں
تھا جس میں وہ ابھی شریک تھا۔
"وہ
صراحی..." اس نے دھیمی آواز میں کہا۔
"کون سی صراحی؟
یہاں تو صرف واٹر ڈسپنسر ہے،" سامنے والے شخص نے الجھن سے اسے دیکھا۔
وہ خاموش رہا۔ اس کے
اندر ایک دیوار گری تھی اور دوسری کھڑی ہو گئی تھی۔ اسے یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ
وہ یہاں واپس آیا ہے یا وہیں رہ گیا ہے، اور یہ جو سامنے بیٹھا شخص ہے، یہ کوئی
حقیقت ہے یا اس کے بیتے ہوئے کل کا کوئی ادھورا خواب۔ اس نے اپنی ہتھیلی کھولی،
وہاں پانی کی ایک بوند چمک رہی تھی۔ یہ پسینہ نہیں تھا، یہ اس اولے کا آخری حصہ
تھا جو اب حال کے درجہ حرارت میں اپنی شناخت کھو رہا تھا۔
میز پر رکھا ہوا فون
اچانک کسی کالی مچھلی کی طرح تھرکا اور پھر خاموش ہو گیا۔ وائبریشن کی وہ لہر اس
کے ہاتھ سے ہوتی ہوئی ریڑھ کی ہڈی تک گئی، مگر وہاں پہنچ کر وہ ایک تیکھی چبھن میں
بدل گئی— ایسی چبھن جو تب محسوس ہوتی ہے جب کوئی ننگے پاؤں کچے راستے پر دوڑتے
ہوئے کسی سوکھے کانٹے پر قدم رکھ دے۔ سامنے بیٹھے ہوئے سائے نے شاید کوئی فائل
کھولی تھی، جس کے کاغذات کے پلٹنے کی آواز اب کسی پرانے چھپر کے اڑتے ہوئے ٹین کی
طرح سنائی دے رہی تھی۔
"اگر ہم ان اعداد
و شمار کو دیکھیں تو پچھلے پانچ سالوں کا گراف..."
لفظ 'پانچ سال' اس کے
ذہن کے پردے پر کسی ٹوٹتے ہوئے ستارے کی طرح چمکا اور اسے اپنے ساتھ بہا لے گیا۔
وہ اس کرسی پر نہیں تھا۔ وہ تو اس جگہ تھا جہاں ابھی شام نے پوری طرح اپنے پاؤں
نہیں پھیلائے تھے اور آسمان کا رنگ کسی اداس بیوہ کے آنچل کی طرح سرمئی ہو رہا
تھا۔ سامنے ایک پرانا پیپل کا درخت تھا جس کے پتے ہوا کے بغیر بھی اس طرح ہل رہے
تھے جیسے کوئی خاموشی سے سرگوشی کر رہا ہو۔
وہاں ایک لڑکا کھڑا
تھا— وہی لڑکا جس کے ناخنوں میں مٹی تھی— وہ ایک لکیر کھینچ رہا تھا۔ گیلی زمین پر
لکڑی کی چھڑی سے کھینچی جانے والی وہ لکیر کوئی عام لکیر نہیں تھی، وہ اس کی
کائنات کی حد تھی۔ اس لکیر کے اس پار وہ بستی تھی جہاں چراغ جلنا شروع ہو گئے تھے
اور اس پار وہ ویرانہ تھا جہاں سے لوٹنے والے مسافروں کی کہانیاں سنا کر اسے ڈرایا
جاتا تھا۔
اچانک اسے محسوس ہوا کہ
اس کے بائیں کان میں کسی نے بہت قریب ہو کر سانس لی ہے۔ وہ سانس اتنی گرم تھی کہ
اس نے لاشعوری طور پر اپنا ہاتھ اٹھایا۔
"تم نے وہ لکیر
کیوں مٹائی؟"
ایک آواز آئی، جو ہوا
کی سرسراہٹ میں گندھی ہوئی تھی۔ اس نے مڑ کر دیکھنا چاہا مگر اس کا وجود اس وقت
'حال' کے دفتر کی مصلحتوں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس کی انگلیاں اب بھی اس چمڑے کے
فولڈر کو چھو رہی تھیں، مگر اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ چمڑا دراصل اس بوڑھے بیل
کی کھال ہے جو اس کے بچپن کے کھیتوں میں ہل چلاتے ہوئے مر گیا تھا۔ لمس کی یہ دوئی
اسے پاگل کر رہی تھی۔ ایک طرف ایئر کنڈیشنر کی یخ بستہ ہوا تھی اور دوسری طرف وہ
حبس، جو بارش سے پہلے مٹی کے سینے سے اٹھتا ہے۔
"سر! آپ ٹھیک تو
ہیں؟ آپ کی رنگت پیلی پڑ رہی ہے۔"
سامنے والا سایہ اب
پریشان تھا۔ اس کی آواز میں انسانی فکر کی رمق تھی، مگر وہ اس فکر کو سمجھنے سے
قاصر تھا۔ وہ تو اس وقت اس الجھن میں تھا کہ اس کے سامنے پڑے ہوئے گلاس میں جو
پانی ہے، وہ میٹھا ہے یا اس میں اس کنویں کی کڑواہٹ شامل ہے جس میں برسوں پہلے ایک
کالی بلی گر کر مر گئی تھی اور پورے محلے نے تین دن تک پانی نہیں پیا تھا۔
اس نے بے خیالی میں
اپنی قمیض کا بٹن ٹٹولا۔ وہاں بٹن نہیں تھا، بلکہ ایک دھاگا لٹک رہا تھا— وہی
دھاگا جو اس کی ماں نے اس کے گلے میں تعویذ پہنانے کے لیے باندھا تھا۔ وہ دھاگا اب
اس کی گردن کو گھونٹ رہا تھا۔ اسے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی۔ وہ جتنا خود کو
اس 'ماضی' سے نکالنا چاہتا تھا، اتنا ہی وہ دلدل کی طرح اسے کھینچ رہا تھا۔
اسے یاد آیا، ایک خاص
لمحہ... ایک دوپہر جب سورج سوا نیزے پر تھا اور وہ ایک ویران حویلی کے بند کمرے کے
باہر کھڑا تھا۔ اس کمرے کی دراڑ سے ایک ایسی خوشبو آ رہی تھی جو نہ تو چنبیلی کی
تھی اور نہ ہی صندل کی، وہ 'بیتے ہوئے وقت' کی خوشبو تھی۔ اس نے اس دراڑ میں آنکھ
لگا کر دیکھا تھا، تو اسے وہاں خود اپنا آپ نظر آیا تھا— لیکن وہ بوڑھا تھا، اس کے
بال سفید تھے اور وہ ایک میز پر بیٹھا کسی سائے سے بجٹ اور گراف کی باتیں کر رہا
تھا۔
خوف کی ایک لہر نے اسے
جھنجھوڑ دیا۔ اس نے آنکھیں زور سے میچ لیں۔ جب کھولیں تو سامنے وہی فائل کھلی تھی،
وہی اعداد و شمار تھے، مگر اب اسے لگ رہا تھا کہ وہ گراف دراصل اس کی زندگی کی
لکیریں ہیں جو اوپر نیچے نہیں ہو رہی تھیں، بلکہ اسے اس حویلی کے بند کمرے کی طرف
لے جا رہی تھیں۔
"میں... میں ذرا
تازہ ہوا میں جانا چاہتا ہوں،" اس نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا۔
"مگر سر، ابھی تو
پریزنٹیشن آدھی ہوئی ہے،" سائے نے احتجاج کیا۔
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے
قدموں کے نیچے قالین اب دھنس رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ وہ زمین پر نہیں، بلکہ
بادلوں کے ایک ایسے ڈھیر پر چل رہا ہے جو کسی بھی لمحے پگھل سکتے ہیں۔ وہ دروازے
کی طرف بڑھا، مگر جیسے ہی اس نے ہینڈل پر ہاتھ رکھا، ہینڈل غائب ہو گیا۔ وہاں صرف
ایک تالا تھا جس پر برسوں پرانی گرد جمی تھی۔
اس نے پیچھے مڑ کر
دیکھا۔ دفتر غائب ہو چکا تھا۔ وہاں صرف ایک وسیع و عریض میدان تھا جہاں وہ بیس
ٹیمیں نہیں، بلکہ بیس صدیاں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی تھیں۔ ہر صدی کے ہاتھ میں ایک
بلا تھا اور وہ 'حرف' کی گیند کو ہٹ کر رہی تھیں۔ وہ دنگ رہ گیا۔ کیا یہ وہی میدان
تھا جس کا تذکرہ اس نے کہیں پڑھا تھا؟ یا یہ اس کے اپنے ذہن کا وہ حصہ تھا جہاں
وقت نے خود کو قید کر لیا تھا؟
اس نے اپنی جیب میں
ہاتھ ڈالا تو وہاں سے چائے کا وہ ٹی بیگ نکلا جو اس نے ابھی چند منٹ پہلے پیالی سے
نکالا تھا، مگر اب وہ ٹی بیگ ایک چھوٹے سے کفن کی طرح لگ رہا تھا۔ اس نے اسے زمین
پر پھینک دیا، مگر وہ زمین پر نہیں گرا، بلکہ ہوا میں معلق ہو کر ایک ایسے پرندے کی
شکل اختیار کر گیا جس کے پر نہیں تھے، صرف آواز تھی۔
وہ آواز اسے پکار رہی
تھی... وہی پکار جو اسے ماضی کے اس خاص لمحے میں لے جانا چاہتی تھی جہاں اس نے
پہلی بار جھوٹ بولا تھا، یا شاید پہلی بار سچ سنا تھا۔
"تم واپس نہیں جا
سکتے،" وہ آواز گونجی۔
"کیوں؟" اس
نے خلا میں سوال کیا۔
"کیونکہ تم وہاں
سے کبھی آئے ہی نہیں تھے۔ تم تو اب بھی اسی صراحی کے پاس بیٹھے قطرے گرنے کا
انتظار کر رہے ہو۔ یہ دفتر، یہ فائلیں، یہ سائے... یہ تو اس اولے کی بھاپ ہے جو
تمہاری مٹھی میں پگھل گیا تھا۔"
اس کا سر چکرانے لگا۔
اسے محسوس ہوا کہ اس کا جسم دھیرے دھیرے کاغذ کی طرح مڑ رہا ہے۔ اسے یاد نہیں آ
رہا تھا کہ اس کا نام کیا ہے، یا وہ کس عہد کا باشندہ ہے۔ اس نے ایک بار پھر سامنے
دیکھا، وہاں وہ سایہ اب ایک دیو قامت آئینے میں بدل چکا تھا، جس میں اس کا عکس تو
تھا، مگر اس عکس کی آنکھیں غائب تھیں۔
وہ ساکت کھڑا رہا، حال
اور ماضی کے اس سنگم پر، جہاں نہ کوئی راستہ تھا اور نہ کوئی منزل۔ صرف ایک مسلسل
'ہونا' تھا، جو 'نہ ہونے' سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔
دروازے کے غائب ہونے
اور میدانِ کارزار کے نمودار ہونے کے درمیان جو سکتہ تھا، وہ مائع بن کر اس کے
پیروں کے گرد جمع ہونے لگا۔ اب اسے دفتر کی گھٹن محسوس ہو رہی تھی اور نہ ہی ماضی
کی وہ صندلی خوشبو؛ وہ اب ایک ایسے 'برزخ' میں تھا جہاں وقت کسی رکے ہوئے تالاب کی
طرح ساکن تھا، مگر اس کی سطح پر یادوں کے کنکر گرنے سے دائرے بن رہے تھے۔
وہ سامنے دیکھتا تو اسے
وہ بیس ٹیمیں نظر آتیں جن کے کھلاڑیوں کے چہرے دھندلے تھے، جیسے کسی نے گیلی
پینٹنگ پر ہاتھ پھیر دیا ہو۔ وہ ٹیمیں نہیں تھیں، وہ انسانی ارادوں کے مختلف روپ
تھے۔ کسی کے ہاتھ میں 'انا' کا بلا تھا، کوئی 'خوف' کی گیند کروا رہا تھا، اور
تماشائیوں کے کٹہرے میں وہ تمام لوگ بیٹھے تھے جنہیں وہ زندگی کے مختلف موڑ پر
چھوڑ آیا تھا۔ اس کی ماں، جس کے ہاتھ میں اب بھی وہی ادھورا تعویذ تھا؛ وہ دوست،
جس نے برسوں پہلے اسے ایک کتاب ادھار دی تھی اور وہ کبھی واپس نہ کر سکا؛ اور وہ
سایا، جو دفتر کی میز پر بیٹھا اب بھی بجٹ کے گراف گن رہا تھا۔
"کیا تم اب بھی
جیتنا چاہتے ہو؟"
ایک آواز، جو ہزاروں
سالوں کی گرد میں اٹی ہوئی تھی، اس کے کان کے عین اندر گونجی۔ اس نے مڑ کر دیکھا
تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ صرف ایک ہوا کا جھونکا تھا جو اس کی قمیض کے کالر کو چھو
کر گزر گیا۔ اس نے محسوس کرد کہ اس کے ہاتھ میں اب وہی 'اولہ' نہیں ہے، بلکہ ایک
قلم ہے— وہی قلم جو اس کے بچپن میں اس کی انگلیوں کو کالا کر دیتا تھا۔ مگر اس قلم
سے روشنائی نہیں، لہو کی ایک باریک دھار نکل رہی تھی جو سیدھی اس زمین میں جذب ہو
رہی تھی جہاں سے 'حرف' اگ رہے تھے۔
اچانک اسے احساس ہوا کہ
وہ گفتگو، جو وہ ابھی چند لمحے (یا چند صدیاں) پہلے کر رہا تھا، اب بھی جاری ہے۔
"سر، آپ کی خاموشی
ہمیں ڈرا رہی ہے۔ کیا آپ کو اسٹرٹیجی پسند نہیں آئی؟"
آواز اب بہت واضح تھی،
جیسے کوئی ریڈیو کی فریکوئنسی اچانک سیٹ ہو جائے۔ اس نے آنکھیں کھولیں تو وہ
دوبارہ اسی کرسی پر تھا۔ سامنے وہی شخص تھا، وہی فائل تھی، اور کھڑکی سے آنے والی
دھوپ کی لکیر اب تھوڑی اور ڈھل چکی تھی۔ مگر اس بار ایک تبدیلی تھی۔ اس کے سامنے
پڑے پانی کے گلاس میں اب وہ کالی بلی نہیں تھی، بلکہ اس میں وہ پورا میدانِ کرکٹ
قید تھا، جہاں کھلاڑی اب چیونٹیوں کی طرح رینگ رہے تھے۔
اس نے بولنا چاہا، مگر
اس کے گلے سے جو آواز نکلی، وہ اس کی اپنی نہیں تھی۔ وہ ایک بوڑھے، تھکے ہوئے
مسافر کی آواز تھی جو صدیوں کا سفر طے کر کے ابھی ابھی کسی سرائے میں پہنچا ہو۔
"ہمیں... ہمیں اس
لکیر کو نہیں مٹانا چاہیے تھا،" اس نے ہکلاتے ہوئے کہا۔
"کون سی لکیر سر؟
آپ بجٹ کی لائن کی بات کر رہے ہیں؟" سامنے والے نے الجھن سے پوچھا اور نوٹ بک
پر ایک لکیر کھینچ دی۔
اس لکیر کے کھینچتے ہی
اسے اپنے سینے پر ایک کاری زخم محسوس ہوا۔ جیسے کسی نے اس کے وجود کو دو حصوں میں
تقسیم کر دیا ہو۔ اس کا آدھا جسم اس دفتر میں تھا، جہاں فائلیں اسے جکڑے ہوئے
تھیں، اور باقی آدھا جسم اس پرانی حویلی کے اس بند کمرے میں تھا، جہاں وہ اب بھی
دراڑ سے اندر جھانک رہا تھا۔ اسے اب سمجھ آ رہا تھا کہ وہ 'جاگتے ہوئے ماضی میں'
نہیں جا رہا تھا، بلکہ وہ تو 'ماضی میں جاگ' رہا تھا، اور یہ جو حال ہے، یہ تو صرف
ایک لمبی نیند کا ایک مختصر سا خواب ہے۔
اس نے میز پر ہاتھ مارا
تو چائے کی پیالی الٹ گئی۔ گرم چائے سفید کاغذات پر پھیلنے لگی، بالکل اسی طرح
جیسے حلب اور غزہ کے نقشوں پر لہو پھیلتا ہے۔ اسے ان کاغذات میں ڈوبتے ہوئے اعداد
و شمار میں وہ بچے نظر آنے لگے جو ملبے تلے دبے تھے، وہ مسافر جو سمندر کی لہروں
میں رزق بن گئے تھے، اور وہ دانشور جن کے گلوں میں پھانسی کے پھندے اب بھی جھول
رہے تھے۔
وہ چیخنا چاہتا تھا،
مگر اس کی زبان پر 'قانونِ ملازمت' اور 'ای اینڈ ڈی رولز' کی زنجیریں لگی تھیں۔ اس
نے محسوس کیا کہ وہ خود بھی تو ایک 'حرف' ہے، جسے کسی بے رحم لکھاری نے ایک ایسے
جملے میں لکھ دیا ہے جس کا کوئی مطلب نہیں نکلتا۔
"وقت... وقت کیا
ہے؟" اس نے سامنے بیٹھے شخص کا گریبان پکڑ لیا۔
وہ شخص اب سایہ نہیں
رہا تھا، وہ تو ایک مشین بن چکا تھا جس کے ماتھے پر اعداد و شمار کی لائٹیں جل بجھ
رہی تھیں۔ اس نے سرد لہجے میں جواب دیا:
"وقت ایک ڈیڈ لائن
ہے سر، جو آپ ابھی مس کر چکے ہیں۔"
کمرے کی چھت اچانک غائب
ہو گئی۔ اوپر آسمان نہیں تھا، بلکہ ایک بہت بڑی 'ریت کی گھڑی' تھی، جس سے ریت کے
ذرے اس کے سر پر گر رہے تھے۔ ہر ذرہ ایک یاد تھا، ایک گناہ تھا، ایک ادھورا سچ
تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ ریت میں دب رہا ہے۔ اس نے ہاتھ پاؤں مارے، مگر ریت اسے
نگلتی جا رہی تھی۔
آخری لمحے میں، جب اس
کا چہرہ ریت میں چھپنے والا تھا، اسے وہی صراحی نظر آئی۔ وہ صراحی اب اس کے سامنے
میز پر پڑی تھی۔ اس کے گلے سے اب پانی نہیں ٹپک رہا تھا، بلکہ اس میں سے وہی سفید
پر نکل رہا تھا جو کبوتر نے گرایا تھا۔ اس نے اس پر کو پکڑنے کی کوشش کی، مگر اس
کی انگلیاں اب لکڑی کی بن چکی تھیں۔
دفتر کی لائٹیں بجھ
گئیں۔ ایک گہرا سناٹا چھا گیا۔ صرف ایک آواز باقی رہ گئی— گھڑی کے سیکنڈز کی ٹک
ٹک... یا شاید وہ اس کے اپنے دل کی دھڑکن تھی جو اب کسی پرانے مینار کی گونج میں
بدل رہی تھی۔
جب صبح ہوئی اور صفائی
کرنے والے عملے نے کمرہ کھولا، تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ میز پر صرف ایک چائے کی
پیالی الٹی پڑی تھی، کاغذات پر سیاہ چائے کا ایک بدنما دھبہ تھا جو بالکل ایک
انسانی نقشے جیسا لگتا تھا، اور واٹر ڈسپنسر کے نیچے ایک چھوٹا سا اولہ پڑا تھا،
جو فروری کی گرمی میں بھی پگھل نہیں رہا تھا۔
کھڑکی کے باہر، پیپل کے
درخت پر ایک کبوتر بیٹھا اپنے پر جھاڑ رہا تھا، اور ایک سفید پر ہوا میں معلق تھا،
جیسے کسی ایسے پتے کی تلاش میں ہو جو ابھی شاخ سے گرا نہ ہو۔

Comments
Post a Comment