دیوار کی پپڑیوں سے جھڑتا ہوا چونا میز پر بچھے ان سفید کاغذوں پر ایک باریک گرد کی صورت جمع ہو رہا تھا جن پر ہاشم گھنٹوں سے لکیریں کھینچ رہا تھا۔ یہ لکیریں آپس میں گتھم گتھا تھیں، کہیں سیدھی، کہیں دائروں کی صورت مڑتی ہوئی اور کہیں ناخنوں سے کریدی گئی خراشوں جیسی۔ باہر گلی میں کسی نے بھاری بوٹوں سے چلتے ہوئے لوہے کے گیٹ کو تھپتھپایا تو ہاشم کے ہاتھ میں تھمی پنسل کا سکہ کاغذ کے ساتھ جھٹکا کھا کر کڑک سے ٹوٹ گیا۔
"کتنی بار کہا ہے، اس دروازے کی زنجیر بدلوا دیں،" ثریا کی آواز کچن کی دھاتی آوازوں کے درمیان سے ابھری۔ "یہ چڑچڑاہٹ اب ہڈیوں میں اترنے لگی ہے۔"
ہاشم نے جواب نہیں دیا۔ اس کی نظریں پنسل کے ٹوٹے ہوئے سکے پر جمی تھیں جو کاغذ پر گرے ہوئے کوئلے کے ایک ذرے کی طرح لگ رہا تھا۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ نیم کے بوڑھے درخت کی ٹہنیاں ہوا کے دوش پر کسی نوحہ گر کے ہاتھوں کی طرح ہل رہی تھیں۔ نیچے گلی میں کھڑے میونسپلٹی کے نلکے سے پانی ٹپکنے کی آواز ایک باقاعدہ ترتیب سے گونج رہی تھی۔ ٹپ۔۔۔ ٹپ۔۔۔ ٹپ۔۔۔ یہ آواز اسے اس دوپہر میں لے گئی جب بادلوں کا رنگ بالکل ایسا ہی گہرا سرمئی تھا جیسا آج کی شام کا ہے۔
اس روز بھی حبس ایسا ہی تھا کہ سانس سینے میں قید ہو کر رہ جاتی۔ وہ سامنے والی حویلی کی دوسری منزل پر کھڑی تھی، اس کے ہاتھ میں ایک پرانی کتاب تھی جس کے صفحات ہوا سے پھڑپھڑا رہے تھے۔ اس نے ہاشم کی طرف نہیں دیکھا تھا، لیکن اس کے وجود کی خاموشی گلی کے شور پر بھاری تھی۔ ہاشم کو یاد تھا کہ اس وقت اس کے پیروں کے نیچے کی زمین کیسی تپ رہی تھی، جیسے وہ کسی مٹی پر نہیں بلکہ دہکتے ہوئے کوئلوں پر کھڑا ہو۔
"چائے ٹھنڈی ہو کر رنگ بدل چکی ہے، بالکل آپ کی باتوں کی طرح،" ثریا اب کمرے میں تھی، اس کے ہاتھ میں پکڑی ٹرے پر رکھے کپ لرز رہے تھے۔ اس نے میز پر پھیلے ہوئے کاغذوں کو ایک حقارت آمیز نظر سے دیکھا۔ "ان لکیروں میں کیا ڈھونڈتے ہیں آپ؟ جو راستہ ایک بار بند ہو جائے، وہاں کے نقشے بنانا دیوانگی نہیں تو اور کیا ہے؟"
ہاشم نے سر اٹھایا۔ اس کی عینک کے شیشوں کے پیچھے چھپی آنکھیں زرد پڑ چکی تھیں۔ "کچھ راستے بند نہیں ہوتے ثریا، وہ بس اندر کی طرف مڑ جاتے ہیں۔ میں تو صرف اس مٹی کا حساب لگا رہا ہوں جو ہم نے اپنے پیروں سے جھاڑی تھی، مگر وہ روح کے مساموں میں جذب ہو گئی۔"
وہ خاموشی سے ٹرے رکھ کر چلی گئی۔ ہاشم نے کھڑکی کے پٹ ذرا اور کھول دیے۔ گلی میں کچرا جلنے کی بو کے ساتھ ساتھ اب مٹی کے تیل کی ایک ہلکی سی لہر بھی شامل ہو گئی تھی۔ سامنے والی حویلی کا صدر دروازہ جو برسوں سے مقفل تھا، اب اس کے کواڑ ذرا سے کھلے ہوئے تھے۔ اندھیرے کے اس جھروکے سے ایک سحر انگیز سناٹا باہر جھانک رہا تھا۔ اسے لگا جیسے وہاں کوئی کھڑا ہے، کوئی ایسا جس کے پیروں کی چاپ سنائی نہیں دیتی، مگر جس کی موجودگی ہوا کے دباؤ کو بدل دیتی ہے۔
زویا نے تب بھی یہی کہا تھا، جب وہ آخری بار اس نیم کے نیچے کھڑے تھے۔ "ہاشم، تم شہروں کے نام بدل سکتے ہو، گلیوں کے نمبر تبدیل کر سکتے ہو، لیکن اس لمحے کو کہاں رکھو گے جو ہم نے اس مٹی پر گزارا؟ کیا تمہارے پاس کوئی ایسا خانہ ہے جہاں تم اس مہک کو قید کر سکو؟"
ہاشم کے پاس تب بھی کوئی جواب نہیں تھا، اور آج جب اس کی انگلیاں پنسل کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے کو کاغذ پر رگڑ رہی تھیں، تب بھی اس کی زبان گنگ تھی۔ اس نے دیکھا کہ کاغذ پر کھینچی گئی لکیریں اب ایک عجیب و غریب شکل اختیار کر رہی تھیں۔ یہ کوئی نقشہ نہیں تھا، یہ ایک انسانی چہرہ تھا جس کی آنکھیں خلا کی طرح خالی تھیں اور جس کے لبوں پر خاموشی کی تہیں جمی تھیں۔
مسجد کی بلند مینار سے اذان کی آواز اٹھی تو پرندوں کا ایک جھنڈ شور مچاتا ہوا افق کی طرف اڑ گیا۔ ہاشم کو محسوس ہوا جیسے وہ خود بھی اس جھنڈ کا ایک حصہ ہے، مگر اس کے پر کسی نادیدہ ڈور سے بندھے ہوئے ہیں جو اسے بار بار اسی میز، اسی کاغذ اور اسی ادھوری لکیر کی طرف واپس کھینچ لاتی ہے۔
"کب تک؟" اس نے خود سے سوال کیا۔
کمرے کے کونے میں پڑا ہوا پرانا صندوق، جس پر پیتل کے پھول بنے تھے، اب اندھیرے میں ڈوب چکا تھا۔ اس صندوق میں وہ سب خطوط اور وہ خشک پھول پڑے تھے جنہیں وقت کی دیمک چاٹ چکی تھی، مگر ان کی خوشبو ہاشم کے دماغ کے کسی بند خانے میں اب بھی تازہ تھی۔ اسے لگا جیسے صندوق کا ڈھکن ذرا سا ہلا ہو۔ جیسے ماضی کے مردہ اجسام سانس لینے کی کوشش کر رہے ہوں۔
اس نے لرزتے ہاتھوں سے ماچس کی تیلی جلائی۔ ننھی سی لو نے کمرے کے بھوت پریتوں کو دیواروں پر رقص کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس نے تیلی کاغذ کے قریب کی، جیسے وہ ان تمام لکیروں کو جلا ڈالنا چاہتا ہو، مگر پھر اس کا ہاتھ رک گیا۔ جلنا تو ان راستوں کا مقدر تھا جن پر کوئی چلنے والا نہ رہا ہو، مگر یہ لکیریں تو اس کے لہو سے سینچی گئی تھیں۔
نیچے گلی میں کسی بچے کے رونے کی آواز آئی، پھر ایک عورت کی جھڑکی اور پھر سب کچھ خاموش ہو گیا۔ یہ خاموشی لاہور کی اس پرانی بستی کا خاصہ تھی، جہاں ہر دیوار کے پیچھے ایک کہانی دم توڑ رہی ہوتی ہے۔ ہاشم نے اپنے دھندلے ہوتے ہوئے بصارت سے دیکھا کہ کاغذ پر بنا ہوا وہ چہرہ اب اسے دیکھ کر مسکرا رہا ہے۔ وہ مسکراہٹ جس میں زہر بھی تھا اور تریاق بھی۔
اس نے لمبا سانس لیا۔ ہوا میں اب بارش کی پہلی بوندوں کی خوشبو رچ گئی تھی۔ مٹی کی وہ تڑپ جو برسوں کے سوکھے کے بعد جاگتی ہے، ہاشم کے پوروں میں سرایت کرنے لگی۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کا اپنا وجود بھی مٹی کا ایک ڈھیر ہے جس پر وقت کی بارش ہو رہی ہے، اور وہ دھیرے دھیرے گھل کر ان لکیروں میں شامل ہو رہا ہے جو اس نے خود کھینچی تھیں۔
"تم نے کہا تھا کہ جغرافیہ بدل جائے گا،" اس نے اس خالی کمرے میں سرگوشی کی، "مگر دیکھو، میں آج بھی اسی موڑ پر کھڑا ہوں جہاں تم نے میرا ہاتھ چھوڑا تھا۔"
کمرے کا دروازہ نیم وا تھا، اور باہر راہداری میں ثریا کے چلنے کی چاپ اب تھم چکی تھی۔ ہاشم اکیلا تھا، مگر اس تنہائی میں ہزاروں یادوں کا ہجوم تھا۔ اس نے پنسل کا دوسرا سرا اٹھایا اور کاغذ پر ایک نیا نقطہ لگایا۔ یہ نقطہ اس کی بستی کا نہیں تھا، یہ اس کے اپنے اندر کا وہ مقام تھا جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ملتا۔
ہاشم نے لرزتے پوروں سے میز کی سطح پر جمی خاک کو ہٹایا تو پنسل کی لکیریں مزید واضح ہو گئیں۔ کاغذ کے اس ٹکڑے پر ابھرنے والا ہیولیٰ کسی بستی کا خاکہ کم اور کسی ادھورے بدن کا نوحہ زیادہ لگ رہا تھا۔ باہر بارش اب باقاعدہ ردھم میں ڈھل چکی تھی۔ پرنالوں سے گرتا پانی گلی کے پتھروں سے ٹکرا کر ایک عجیب سی موسیقی پیدا کر رہا تھا، وہی موسیقی جو برسوں پہلے اس نے زویا کے قہقہے میں سنی تھی۔
دراز کے ایک کونے میں پڑی وہ چھوٹی سی ڈبیا، جس کی لکڑی اب نمی سے پھول چکی تھی، ہاشم کی نظروں کے سامنے آئی۔ اس نے اسے نکالا۔ اندر وہی پرانا، زنگ آلود چاندی کا چھلا تھا جو کبھی زویا کی تیسری انگلی کی زینت بنا تھا۔
"یہ چھلا اب میری قید بن گیا ہے ہاشم،" زویا نے کہا تھا۔ اس وقت اس کے لہجے میں سرد راتوں جیسی ٹھنڈک تھی۔
"قید تو وہ ہوتی ہے جس کی دیواریں نظر آئیں،" ہاشم نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے جواب دیا تھا، "یہ تو صرف ایک دائرہ ہے، اور دائرے کا نہ آغاز ہوتا ہے نہ انجام۔"
زویا نے اپنی بڑی بڑی اداس آنکھیں اس کے چہرے پر ٹکا دی تھیں۔ "دائرے ہی تو سب سے بڑی قید ہوتے ہیں، تم ایک ہی نقطے کے گرد گھومتے رہتے ہو اور تمہیں لگتا ہے کہ تم سفر میں ہو۔"
آج تیس برس بعد ہاشم کو اس بات کی تپش اپنی روح میں محسوس ہو رہی تھی۔ ثریا نے جب کمرے میں قدم رکھا تو اس کی سانسوں میں الائچی اور لونگ کی مہک رچی تھی، جو کچن کی مصروفیت کا پتا دے رہی تھی۔ اس نے ہاشم کے ہاتھ میں وہ چھلا دیکھا تو اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
"ابھی تک اسی دائرے میں قید ہیں؟" اس نے ٹرے میز پر پٹختے ہوئے کہا۔ اس کی آواز میں وہ کاٹ تھی جو صرف ایک ایسی عورت کے پاس ہوتی ہے جس نے عمر بھر ایک ایسی مرد کے ساتھ گزارا ہو جس کا دل کہیں اور دھڑکتا تھا۔ "آپ کو لگتا ہے کہ آپ اس خاموشی سے مجھے دھوکہ دے رہے ہیں؟ میں نے ان دیواروں کے پیچھے آپ کی آہیں سنی ہیں، ہاشم۔ آپ نے اس گھر کو صرف ایک ٹھکانہ سمجھا، کبھی اسے اپنا جغرافیہ نہیں بنایا۔"
ہاشم نے سر نہیں اٹھایا۔ وہ جانتا تھا کہ ثریا کی شکایتیں جائز ہیں، مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ کچھ سچائیاں اتنی کڑوی ہوتی ہیں کہ انہیں زبان پر لانا خود کشی کے برابر ہوتا ہے۔
"ثریا، کچھ نقشے ہم خود بناتے ہیں اور کچھ ہمیں وراثت میں ملتے ہیں۔ میرا یہ نقشہ میری مرضی سے نہیں بنا، یہ تو ان قدموں کے نشانات ہیں جو پیچھے رہ گئے،" اس نے دھیمی آواز میں کہا۔
ثریا ایک زوردار قہقہہ لگا کر کمرے سے باہر نکل گئی، مگر اس کے قہقہے کی گونج دیواروں میں جذب ہونے کے بجائے ہاشم کے کانوں میں زویا کی آخری ہچکی بن کر لوٹنے لگی۔
وہ اٹھ کر دوبارہ کھڑکی کے پاس چلا گیا۔ سامنے والی حویلی کا وہ ادھ کھلا دروازہ اب اندھیرے میں بالکل غائب ہو چکا تھا، مگر اسے وہاں روشنی کی ایک باریک سی لکیر نظر آئی۔ جیسے کوئی موم بتی لے کر ان خالی کمروں میں بھٹک رہا ہو۔ کیا وہ واقعی کوئی تھا، یا یہ اس کے اپنے شعور کی پرچھائیاں تھیں؟
اس کا ذہن اس دن کی طرف مڑا جب زویا کے گھر کے باہر ہجوم جمع تھا۔ وہی مٹی کا تیل، جس کی بو اسے آج بھی محسوس ہو رہی تھی، اس وقت فضا میں زہر کی طرح پھیلی ہوئی تھی۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ حادثہ ہے، مگر ہاشم جانتا تھا کہ جب محبت کے جغرافیے میں جگہ کم پڑ جائے تو انسان خود کو آگ کے سپرد کر دیتا ہے تاکہ اس کی راکھ ہواؤں میں پھیل کر اس زمین کا حصہ بن جائے جہاں اسے جینے کا حق نہیں ملا تھا۔
ہاشم نے پنسل اٹھائی اور کاغذ پر موجود اس ہیولے کی آنکھوں میں ایک گہرا سیاہ نقطہ ڈال دیا۔ اسے لگا جیسے کاغذ کی سطح سے ایک سرد لہر نکل کر اس کے پورے بدن میں سرائیت کر گئی ہے۔
"تم نے کہا تھا کہ تم مجھے کبھی نہیں بھول پاؤ گے،" ایک سرگوشی سی سنائی دی۔
ہاشم کے ہاتھ کانپنے لگے۔ "میں نے تمہیں بھلایا کب ہے زویا؟ میں تو روز تمہاری یاد کے ملبے تلے دب کر مرتا ہوں اور پھر جی اٹھتا ہوں تاکہ اگلی شام تمہارا نقشہ مکمل کر سکوں۔"
کمرے میں موجود پرانی کتابوں کی بو، بارش کی نمی اور اس کی اپنی تنہائی مل کر ایک ایسا مرکب بن گئے تھے جو اسے مدہوش کر رہا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کا کمرہ اب کمرہ نہیں رہا، بلکہ وہ پرانی حویلی بن گیا ہے جس کے ہر کونے میں زویا کے دوپٹے کی سرسراہٹ موجود ہے۔
اس نے کاغذ پر اپنی انگلیوں سے وہ لکیریں مٹانے کی کوشش کی جو اس نے ثریا کے ساتھ گزرے ہوئے سالوں کی کھینچی تھیں۔ مگر مٹی ہوئی لکیریں اور بھی گہری ہو کر سامنے آ رہی تھیں۔ محبت کا جغرافیہ اتنا سادہ نہیں تھا جتنا اس نے سمجھا تھا۔ اس میں ان لوگوں کے بھی حصے تھے جنہیں اس نے کبھی چاہا ہی نہیں، مگر جن کے ساتھ اس نے اپنی زندگی بانٹ لی تھی۔
رات کا پچھلا پہر شروع ہو چکا تھا۔ گلی میں پہرے دار کی سیٹی کی آواز دور سے سنائی دی، جو خاموشی کو چیرتی ہوئی گزر گئی۔ ہاشم نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں تھما ہوا پنسل کا ٹکڑا اب ختم ہونے کو تھا۔ اس نے میز پر رکھے ایک پرانے چراغ کو جلایا۔ اس کی لرزتی ہوئی روشنی میں کاغذ پر بنی لکیریں زندہ ہو کر رقص کرنے لگیں۔
اچانک اسے محسوس ہوا کہ سامنے والی حویلی کا وہ ادھ کھلا دروازہ اب پوری طرح کھل چکا ہے۔ وہاں سے نکلنے والی ٹھنڈی ہوا اس کے کمرے تک پہنچ رہی تھی۔ اس ہوا میں کسی کے آنے کی چاپ نہیں تھی، مگر ایک ایسی کشش تھی جو اسے پکار رہی تھی۔
"ہاشم! تم وہاں کیا دیکھ رہے ہو؟" ثریا کی آواز اس بار کمرے کے باہر سے آئی، مگر اس میں بیزاری کی جگہ ایک انجانا خوف تھا۔
ہاشم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا ہوا بالکونی کی طرف گیا۔ اس کی نظریں اس جھروکے پر جمی تھیں جہاں سے اسے کوئی پکار رہا تھا۔ اس نے محسوس ہوا کہ اس کے پیروں کے نیچے سے فرش غائب ہو رہا ہے اور وہ ان ہواؤں میں تیر رہا ہے جو ماضی اور حال کے درمیان بہتی ہیں۔
اس نے سوچا، کیا یہ ممکن ہے کہ ایک انسان ایک ہی وقت میں دو الگ الگ جغرافیوں میں جی سکے؟ کیا وہ ثریا کا ہاشم بھی رہ سکتا ہے اور زویا کا وہ لڑکا بھی جو آج بھی اس نیم کے نیچے کھڑا اس کا انتظار کر رہا ہے؟
بارش اب تھم چکی تھی، مگر درختوں سے ٹپکنے والے قطرے اب بھی وہی داستان سنا رہے تھے۔ ہاشم نے بالکونی کی منڈیر پر ہاتھ رکھا۔ لکڑی کی سردی نے اسے حقیقت کا احساس دلایا، مگر اس کا دل اس حقیقت کو ماننے سے انکاری تھا۔
اس نے میز کی طرف مڑ کر دیکھا جہاں وہ ادھورا نقشہ پڑا تھا۔ اسے لگا کہ اب وہ نقشہ مکمل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ مگر اس کی تکمیل کے لیے اسے ان سرحدوں کو پار کرنا تھا جنہیں اس نے خود اپنے گرد کھینچا تھا۔
"ایک آخری لکیر،" اس نے بڑبڑاتے ہوئے پنسل اٹھائی۔
یہ لکیر اس نے کاغذ پر نہیں، بلکہ اپنی روح کے اس حصے پر کھینچی جہاں درد اور سکون ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے۔
رات کا آخری پہر تھا، جب شہر کی آوازیں ایک گہرے سحر انگیز سکوت میں بدل جاتی ہیں اور صرف وہ آہٹیں سنائی دیتی ہیں جن کا تعلق زمین سے نہیں ہوتا۔ ہاشم کی انگلیاں اب پنسل کے اس آخری ٹکڑے پر جمی تھیں جو گھستے گھستے اس کے پوروں کا حصہ بن چکا تھا۔ چراغ کی لو آخری ہچکیاں لے رہی تھی، جس سے دیواروں پر بننے والے سائے کبھی پھیلتے اور کبھی سکڑ کر ہاشم کے وجود میں سما جاتے۔
میز پر بچھا وہ کاغذ اب سفید نہیں رہا تھا۔ اس پر کھینچی گئی لکیریں، نقطے اور خراشیں ایک ایسا جال بن چکی تھیں جس میں تیس برسوں کی مسافتیں قید تھیں۔ ہاشم نے دیکھا کہ نقشے کے ایک کونے میں ثریا کے گھر کی دہلیز تھی، جہاں ٹھنڈی چائے کے کپ اور بیزاری کے لہجے بکھرے تھے، اور دوسرے کونے میں وہ حویلی تھی جس کے کواڑ اب بھی اس کے خوابوں میں چرچراتے تھے۔ ان دونوں کے درمیان جو فاصلہ تھا، وہی اس کی زندگی کا اصل جغرافیہ تھا۔
باہر گلی میں ہوا کا ایک تیز جھونکا چلا، جس نے کمرے کے ادھ کھلے کواڑ کو زور سے دیوار کے ساتھ ٹکرایا۔ ٹھیک اسی لمحے ہاشم کو محسوس ہوا کہ اس کے نقشے پر بنا ہوا وہ سیاہ نقطہ ۔۔ جسے اس نے زویا کی آنکھ قرار دیا تھا، پھیلنے لگا ہے۔ وہ سیاہی کاغذ کے ریشوں میں اس طرح سرایت کر رہی تھی جیسے خشک مٹی پر خون گرے۔
اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ سامنے والی حویلی کے اس پراسرار جھروکے میں اب روشنی نہیں تھی، مگر ایک عجیب سی لرزش تھی۔ اسے لگا جیسے حویلی کی دیواریں آہستہ آہستہ سرک رہی ہیں، جیسے وہ کائی زدہ اینٹیں اب اس کی اپنی گلی کی طرف بڑھ رہی ہوں۔ ہاشم کا سانس اکھڑنے لگا۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ جس کرسی پر بیٹھا ہے، وہ اب زمین پر نہیں بلکہ اس خلا میں معلق ہے جہاں وقت کی کوئی سمت نہیں ہوتی۔
"ہاشم! کیا تم اب بھی وہیں ہو؟" ثریا کی آواز اب بہت دور سے آتی محسوس ہوئی، جیسے وہ کسی گہرے کنویں کے دوسرے سرے سے پکار رہی ہو۔
ہاشم نے جواب دینے کی کوشش کی، مگر اس کے گلے سے صرف ایک خشک سسکی نکلی۔ اس نے اپنی میز پر پڑے اس چاندی کے چھلے کو اٹھایا اور نقشے کے عین وسط میں رکھ دیا۔ جہاں چھلا رکھا گیا، وہاں کاغذ پر کھینچی گئی تمام متوازی لکیریں آپس میں مل گئیں۔ وہ تمام راستے جو اسے بھٹکاتے رہے تھے، اب ایک ہی مرکز کی طرف مڑ گئے تھے۔
اچانک چراغ کی لو گل ہو گئی۔ مکمل اندھیرا۔ اس اندھیرے میں ہاشم کی بصارت نہیں، بلکہ اس کی بصیرت جاگ اٹھی۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ اب اس میز پر نہیں بیٹھا۔ اس کے پیروں تلے وہ کچی مٹی تھی جس پر بارش کی پہلی بوندیں گر رہی تھیں۔ اس کے نتھنوں میں وہی نیم کے پتوں کی کڑواہٹ اور زویا کے دوپٹے کی خوشبو رچی تھی۔
"تم نے دیر کر دی ہاشم،" ایک آواز آئی۔ یہ آواز کانوں سے نہیں، بلکہ اس کے اپنے سینے کے اندر سے ابھری تھی۔ "تم نقشے بناتے رہے، جبکہ زمین بدل چکی تھی۔"
ہاشم نے اندھیرے میں ہاتھ مارا تو اس کی انگلیاں کسی کھردرے، کائی زدہ ستون سے ٹکرائیں۔ یہ وہی حویلی تھی؟ یا اس کا اپنا گھر؟ اسے اب کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ جغرافیے کی سرحدیں ٹوٹ چکی تھیں۔ ثریا کی بیزاری اور زویا کی اداسی ایک دوسرے میں پیوست ہو کر ایک ایسا احساس بن گئی تھیں جسے کوئی نام نہیں دیا جا سکتا تھا۔
اس نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ اسے لگا کہ وہ کسی اونچی ڈھلوان سے نیچے اتر رہا ہے۔ ہوا میں اڑتے ہوئے اسے وہ تمام چہرے نظر آئے جو اس کی زندگی کے نقشے پر نقطوں کی صورت بکھرے ہوئے تھے۔ اس نے دیکھا کہ ثریا ایک کونے میں کھڑی وہی چاندی کا چھلا ڈھونڈ رہی ہے، اور زویا دوسرے کونے میں کھڑی وہی نقشہ جلا رہی ہے جو ہاشم نے عمر بھر میں بنایا تھا۔
"بے لوث محبت کا کوئی جغرافیہ نہیں ہوتا ہاشم،" آواز دوبارہ گونجی، "یہ تو وہ لا حاصل مسافت ہے جو انسان خود اپنے اندر طے کرتا ہے۔"
صبح کی پہلی پو پھٹنے کو تھی جب لاہور کی اس پرانی بستی میں زندگی نے دوبارہ کروٹ لی۔ ثریا جب ہاشم کے کمرے میں داخل ہوئی تو وہاں عجیب سی خاموشی تھی۔ کھڑکی کے پٹ پوری طرح کھلے تھے اور باہر نیم کا درخت ہوا میں آہستہ آہستہ جھول رہا تھا۔
میز پر کاغذات کا وہ ڈھیر بکھرا پڑا تھا، مگر ان پر کوئی لکیر موجود نہیں تھی۔ وہ سب سفید تھے، جیسے کسی نے ان پر سے تمام یادیں کھرچ دی ہوں۔ پنسل کا وہ آخری ٹکڑا فرش پر گرا تھا اور اس کے پاس چاندی کا وہ چھلا پڑا تھا جس کا چاندی اب کالا پڑ چکا تھا۔
ثریا نے بالکونی کی منڈیر پر ہاتھ رکھا اور نیچے گلی کی طرف دیکھا۔ گلی بالکل خالی تھی۔ صرف میونسپلٹی کے نلکے سے پانی ٹپکنے کی آواز آ رہی تھی۔ ٹپ۔۔۔ ٹپ۔۔۔ ٹپ۔۔۔
اس نے مڑ کر ہاشم کی خالی کرسی کو دیکھا۔ وہاں کوئی نہیں تھا، مگر کمرے میں پھیلی ہوئی وہ پرانی خوشبو جو مٹی کے تیل، نمی اور چنبیلی کا مرکب تھی ، اب پہلے سے کہیں زیادہ گہری تھی۔
سورج کی پہلی کرن جب میز پر پڑی تو وہاں پڑے سفید کاغذ ہوا سے اڑ کر فرش پر پھیلنے لگے۔ ثریا نے انہیں سمیٹنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ بس وہیں کھڑی رہی، اس ادھ کھلے دروازے کو دیکھتی ہوئی جو سامنے والی حویلی میں اب پوری طرح بند ہو چکا تھا، یا شاید ہمیشہ کے لیے کھل گیا تھا۔
جغرافیہ بدل چکا تھا۔ لکیریں مٹ چکی تھیں۔ صرف ایک ان مٹ خاموشی تھی جو اب اس گھر کا نیا نقشہ تھی۔
Comments
Post a Comment