وہ ایک کورا ورق سامنے لے آئی تھی
جس کی سفیدی میں ایک عجیب ہیبت تھی
جیسے کسی بے نام سمندر کا ٹھہراؤ
یا کسی ایسی صبح کا آغاز، جس کا سورج ابھی مٹھی میں ہو
وہ چاہتی تھی کہ میں لفظوں کی زِرہ پہنوں
اور اپنی انا کے حصار میں بیٹھ کر
اُس کی یادوں کے کچھ کتبے تراشوں
مگر میں نے لفظوں کی تجارت سے انکار کر دیا!
کیونکہ حرف تو وہ لکیریں ہیں جو حدیں مقرر کرتی ہیں
اور محبت... محبت تو وہ وسعت ہے جو سرحدوں کو نہیں مانتی
میں نے کاغذ کی اُس ہولناک چمک کو ویسا ہی رہنے دیا
اور آخری سطر کے نیچے، جہاں وجود کی انتہا ہوتی ہے
اپنے ہونے کا ایک دھندلا سا نشان چھوڑ دیا
یہ دستخط نہیں تھے!
یہ میری خودی کی آخری وصیت تھی
یہ اعلان تھا کہ میں نے اپنی تقدیر کا قلم
اُس کے ہاتھ میں تھما دیا ہے
اب وہ چاہے تو اس بنجر سفیدی پر
میری بربادی کے قصے رقم کرے
یا مِرے نام کے گرد، کسی مقتل کی دیوار کھینچ دے
میں نے خود کو اس کے 'خاموش فیصلے' کے حوالے کر دیا ہے
اب وہ کورا ورق، کورا نہیں رہا
وہ میری مکمل شکست کا ایک مستند اشتہار ہے
جس پر لکھا ہر وہ لفظ جو ابھی نہیں لکھا گیا
مِرا نصیب ہے!
میں نے اپنے آپ کو ایک ایسے قید خانے میں ڈال دیا ہے
جس کی چابی کسی دوسرے کے تخیل میں گم ہے!
Comments
Post a Comment