Skip to main content

کورا ورق

وہ ایک کورا ورق سامنے لے آئی تھی

جس کی سفیدی میں ایک عجیب ہیبت تھی

جیسے کسی بے نام سمندر کا ٹھہراؤ

یا کسی ایسی صبح کا آغاز، جس کا سورج ابھی مٹھی میں ہو

وہ چاہتی تھی کہ میں لفظوں کی زِرہ پہنوں

اور اپنی انا کے حصار میں بیٹھ کر

اُس کی یادوں کے کچھ کتبے تراشوں


مگر میں نے لفظوں کی تجارت سے انکار کر دیا!

کیونکہ حرف تو وہ لکیریں ہیں جو حدیں مقرر کرتی ہیں

اور محبت... محبت تو وہ وسعت ہے جو سرحدوں کو نہیں مانتی

میں نے کاغذ کی اُس ہولناک چمک کو ویسا ہی رہنے دیا

اور آخری سطر کے نیچے، جہاں وجود کی انتہا ہوتی ہے

اپنے ہونے کا ایک دھندلا سا نشان چھوڑ دیا


یہ دستخط نہیں تھے!

یہ میری خودی کی آخری وصیت تھی

یہ اعلان تھا کہ میں نے اپنی تقدیر کا قلم

اُس کے ہاتھ میں تھما دیا ہے

اب وہ چاہے تو اس بنجر سفیدی پر

میری بربادی کے قصے رقم کرے

یا مِرے نام کے گرد، کسی مقتل کی دیوار کھینچ دے

میں نے خود کو اس کے 'خاموش فیصلے' کے حوالے کر دیا ہے


اب وہ کورا ورق، کورا نہیں رہا

وہ میری مکمل شکست کا ایک مستند اشتہار ہے

جس پر لکھا ہر وہ لفظ جو ابھی نہیں لکھا گیا

مِرا نصیب ہے!

میں نے اپنے آپ کو ایک ایسے قید خانے میں ڈال دیا ہے

جس کی چابی کسی دوسرے کے تخیل میں گم ہے!

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ

پہلا روزہ

پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں  اپنا ایک ادبی  شاہکار  اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم  سے  عنائت کریں  اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔  پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ  بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔  پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔  گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی  کی صورت میں دیے تو  دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...