Skip to main content

خالی سڑکیں

 اسلام آباد کی سڑکیں اور رمضان کی خاموشی ایک ایسا امتزاج ہے جو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے اس شہر کی رگوں میں دوڑتے لہو کو تھمتے دیکھا ہو۔ یہ شہر، جو عام دنوں میں فائل پٹختے بابوؤں، پروٹوکول کی سائرن بجاتی گاڑیوں اور سیکٹروں کی بھول بھلیوں میں گم مارکیٹوں کا نام ہے، رمضان کی دوپہروں میں اچانک کسی مراقبے میں اتر جاتا ہے۔ سڑکیں خالی نہیں ہوتیں، دراصل وہ لمبی تان کر سو جاتی ہیں۔ ایک ایسی نیند، جس میں شور نہیں ہوتا، صرف یادیں ہوتی ہیں۔


میں جب جناح ایونیو کی چوڑی سڑک پر سفر کرتا ہوں، تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اسفالٹ کی یہ سیاہ پٹی مجھ سے کلام کر رہی ہے۔ یہاں عام دنوں میں انسان نہیں، ضرورتیں دوڑتی ہیں۔ کوئی دفتر پہنچنے کی جلدی میں ہوتا ہے، کسی کو فائل پر دستخط کرانے کی فکر ہوتی ہے، اور کوئی ریڈ زون کے ہنگاموں میں اپنی شناخت ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔ مگر رمضان کی ان دوپہروں میں، جب سورج مارگلہ کی پہاڑیوں کے پیچھے سے جھانک کر شہر کا تپتا ہوا ماتھا چومتا ہے، تو یہ سڑکیں ایک عجیب سے تقدس میں نہا جاتی ہیں۔ خالی سڑکیں دراصل انسان کو اپنی ذات کے اندر جھانکنے کا راستہ دیتی ہیں۔ جب باہر کا ہنگامہ تھم جائے، تو اندر کی آوازیں اونچی ہو جاتی ہیں۔

اسلام آباد ایک مصنوعی شہر کہلاتا ہے، لیکن اس کی یہ 'مصنوعی' خاموشی اس قدر فطری لگتی ہے کہ انسان دنگ رہ جائے۔ بلیو ایریا کے بلند و بالا ٹاورز، جو عام طور پر سرمائے کی دوڑ کا استعارہ ہیں، ان دوپہروں میں کسی پرانے قلعے کی طرح خاموش کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان کے سامنے سے گزرتے ہوئے آپ کو اپنی گاڑی کے ٹائروں کی سڑک سے رگڑ کھانے کی آواز بھی واضح سنائی دیتی ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اسلام آباد اپنے حصار سے باہر نکلتا ہے۔ یہاں کے درخت، جو شاید اس شہر کے سب سے پرانے اور سچے شہری ہیں، سڑکوں پر جھک کر ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے ہیں۔ کچنار کی کلیاں اور املتاس کے پیلے پھول سڑک کے کنارے اس انتظار میں بکھرے رہتے ہیں کہ کوئی تھکا ہوا مسافر آئے اور ان کی خوبصورتی کو اپنی آنکھوں میں بھر لے۔

رمضان کی ان خالی سڑکوں پر چلتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ وقت تھم گیا ہے۔ شاید وقت بھی روزہ رکھ لیتا ہے۔ وہ بھاگتا نہیں، بس دھیرے دھیرے رینگتا ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے، جو روزی روٹی کے چکر میں سارا سال کولہو کے بیل کی طرح جتارہتا ہے، یہ خالی سڑکیں ایک نعمت ہیں۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ زندگی صرف پہنچنے کا نام نہیں ہے، بلکہ راستے کا لطف لینے کا نام بھی ہے۔ ان سڑکوں پر ٹریفک کا نہ ہونا دراصل اعصاب کا سکون ہے۔ کوئی ہارن نہیں بجاتا، کوئی اوور ٹیک نہیں کرتا، کوئی گالی نہیں دیتا۔ ایسا لگتا ہے جیسے سب نے خاموشی کا روزہ رکھا ہوا ہو۔ یہ ایک سماجی معجزہ ہے کہ ایک مہینہ پورے شہر کے مزاج کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔

مارگلہ کی پہاڑیوں پر بادلوں کی ٹولیاں جب نیچے اترتی ہیں اور خالی سڑکوں پر ہلکی سی بونداباندی ہوتی ہے، تو اسلام آباد کسی کلاسیکی ناول کا منظر پیش کرنے لگتا ہے۔ ہر موڑ پر ایک نیا احساس ہوتا ہے۔ ایف سکس اور سیون کی گلیوں میں جہاں عام طور پر اشرافیہ کی گاڑیوں کا تانتا بندھا ہوتا ہے، وہاں اب صرف سائے بولتے ہیں۔ پرندوں کی چہچہاہٹ جو شور میں دب جایا کرتی تھی، اب ایک مکمل نغمہ بن کر فضاؤں میں بکھرتی ہے۔ یہ وہ لمحے ہیں جب انسان کو اپنی اوقات سمجھ آتی ہے۔ ہم نے شہر بنائے، سڑکیں بچھائیں، انجن ایجاد کیے، لیکن ایک 'روزہ' ہمیں واپس اپنی اصل کی طرف لے جاتا ہے۔ پیاس اور بھوک کا احساس جب ان خالی سڑکوں کے سکون سے ملتا ہے، تو دل میں ایک ایسی گداز کیفیت پیدا ہوتی ہے جو الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔

اس خاموشی میں ایک گہرا دکھ بھی چھپا ہوتا ہے۔ ان خالی سڑکوں کے کنارے بیٹھے وہ مزدور، جو افطار کے انتظار میں اپنی تھالی سجائے بیٹھے ہوتے ہیں، ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ہوتی ہے۔ وہ سڑک جو سارا دن ان کے پسینے سے تر ہوتی ہے، اب ان کے لیے جائے نماز بن جاتی ہے۔ اسلام آباد کی سڑکیں صرف کنکریٹ کا ڈھیر نہیں ہیں، یہ ایک زندہ وجود ہیں۔ ان پر چلتے ہوئے آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ شہر بھی سانس لے رہا ہے۔ ایک لمبا، گہرا اور پرسکون سانس۔

کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ یہ سڑکیں ہمیشہ ایسی ہی رہیں۔ ان پر دوڑتی ہوئی زندگی کا شور کہیں دور نکل جائے اور صرف یہ پیڑ، یہ پہاڑ اور یہ خاموشی باقی رہ جائے۔ لیکن زندگی کا پہیہ تو چلنا ہے۔ افطار سے ذرا پہلے یہ سڑکیں اچانک جاگ اٹھتی ہیں۔ ایک جنون، ایک دیوانگی سی چھا جاتی ہے۔ ہر کوئی گھر پہنچنے کی جلدی میں ہوتا ہے۔ وہی سڑکیں جو دوپہر میں صوفی کا حجرہ بنی ہوئی تھیں، اب میدانِ جنگ بن جاتی ہیں۔ کھجوروں کے پیکٹ، سموسوں کی خوشبو اور دہی بھلوں کی دکانوں پر رش— یہ سب مل کر اس خاموشی کا سحر توڑ دیتے ہیں۔ لیکن وہ جو چند گھنٹے کی خلوت ان سڑکوں نے ہمیں دی تھی، وہ روح کے کسی کونے میں محفوظ رہ جاتی ہے۔

اسلام آباد کی خالی سڑکیں ہمیں سکھاتی ہیں کہ رکنا بھی ضروری ہے۔ بھاگنا ہی زندگی نہیں ہے۔ کبھی کبھی رک کر، خالی راستوں کو دیکھ کر اور اپنی تنہائی کو محسوس کر کے ہی انسان خود کو پا سکتا ہے۔ یہ سڑکیں ایک آئینہ ہیں جن میں ہم اپنے آپ کو دیکھ سکتے ہیں۔ جب کوئی دوسرا مسافر سڑک پر نہ ہو، تو آپ خود اپنے مسافر ہوتے ہیں اور خود ہی اپنی منزل۔ رمضان کا یہ مہینہ اس شہر کو اس کی روح واپس کر دیتا ہے، چاہے وہ چند گھنٹوں کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔

میں سوچتا ہوں کہ اگر یہ سڑکیں بول سکتیں، تو کیا کہتیں؟ شاید یہ ہمیں ہماری بے حسی کا طعنہ دیتیں۔ یہ کہتیں کہ دیکھو، جب تم خاموش ہوتے ہو تو میں کتنی خوبصورت لگتی ہوں۔ جب تمہاری انا کا شور کم ہوتا ہے، تو میری وسعت ظاہر ہوتی ہے۔ اسلام آباد کی سڑکیں رمضان میں ایک خاموش مبلغ کی طرح ہیں۔ وہ ہمیں صبر، سکون اور نظم و ضبط کا درس دیتی ہیں۔ ان خالی سڑکوں پر چلنا ایک عبادت کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسی عبادت جس میں مسجد کی دیواریں نہیں ہوتیں، بس آسمان کی چھت ہوتی ہے اور دل کی دھڑکن۔

جب عید کا چاند نظر آتا ہے، تو یہ سڑکیں پھر سے بدل جاتی ہیں۔ ان پر رونق لوٹ آتی ہے، لیکن وہ 'تقدس' کہیں کھو جاتا ہے۔ وہی سائرن، وہی ہارن اور وہی زندگی کی دوڑ۔ مگر اگلا رمضان آنے تک، ان خالی سڑکوں کی یاد ذہن میں ایک لوری کی طرح گونجتی رہتی ہے۔ وہ دوپہریں، وہ مارگلہ کا سحر، وہ خالی سگنلز اور وہ اپنی ذات سے ملاقات— یہ سب اسلام آباد کے اس خاص رنگ کا حصہ ہیں جو صرف رمضان میں نصیب ہوتا ہے۔

ایک عام آدمی کے لیے، جو سارا سال اس شہر کی سنگ دلی کا گلہ کرتا ہے، رمضان کی یہ سڑکیں ایک معافی نامہ ہیں۔ یہ اسے بتاتی ہیں کہ یہ شہر پتھر کا نہیں ہے۔ اس کے سینے میں بھی ایک دل دھڑکتا ہے، بس اسے محسوس کرنے کے لیے تھوڑی سی خاموشی اور تھوڑی سی بھوک کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں جب گھر پہنچ کر گاڑی کھڑی کرتا ہوں، تو ایک آخری بار اس خالی سڑک کو دیکھتا ہوں جو اب دھیرے دھیرے افطار کے شور میں ڈوب رہی ہوتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ سڑک بھی مجھے الوداع کہہ رہی ہے، اس امید کے ساتھ کہ کل پھر ہم اسی خاموشی میں ایک دوسرے سے ملیں گے۔

یہ خاموشی کوئی کمی نہیں ہے، بلکہ ایک کمال ہے۔ یہ خالی پن دراصل ایک بھر پور احساس ہے۔ اسلام آباد کی ان سڑکوں پر بکھرا ہوا یہ احساس ہی اس شہر کا اصل حسن ہے۔ جو اسے دیکھ لے، وہ پھر کبھی اسے مردہ شہر نہیں کہے گا۔ وہ اسے ایک ایسا زندہ وجود مانے گا جو سال میں ایک بار اپنی تھکن اتارنے کے لیے خاموشی کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب یہ شہر، شہر نہیں رہتا، ایک احساس بن جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

مختصر سی زندگی

مختصر سی زندگی محمد نور آسی زندگی بہت مختصر ہے یہ فقرہ تو ہم دن میں شاید کئی بار سنتے ہیں ۔ لیکن کبھی غور نہیں کیا ۔ مختصر کیوں ، کیسے؟ اگر کسی کی عمراللہ کریم نے 50 سال لکھی ہے ، 70 سال لکھی ہے یا 100 سال- تو وہ دنیا میں اتنے ہی سال گذار کر جائے گا۔ پھر مختصر کیوں ہے زندگی ؟ میں کوئی مذہبی سکالر نہیں ۔ لیکن ایک بات جو اپنی کم علمی کے اعتراف کے باوجود جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم جب اپنی گذشتہ زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے گذارے گئے دس ، بیس ، تیس سال تو گویا کل کی بات ہے۔ یوں گذرے گئے جیسے اک لمحہ گذرا ہو۔ اسی سے قیاس کرکے جب یہ سوچ ذہن میں آتی ہے کہ جب نزع کا عالم ہو گا تو ممکن ہے اس وقت ہمیں یہی محسوس ہو کہ ہماری 60، 70 زندگی یوں پلک چھپکتے گذر گئی کہ پتہ بھی نہ چلا۔ تو پھر شاید اسی لئے کہتے ہیں کہ زندگی مختصر ہے۔ ہاں سچ ہی تو کہتے ہیں۔ ذرا ایک لمحے کے لئے تصور کیجئے ۔ وہ پہلا دن جب آپ اسکول گئے۔ کل کی بات لگتی ہے نا۔ بے شک سر کے بال سفید ہوگئے یا سفیدی کی جانب سرک رہے ہیں لیکن محسوس ہوتا ہے ابھی تو ہم جوان ہیں۔ کوئی انکل بولے یا آنٹی تو حیرت سی ہوتی ہے۔ ہوتی ہے نا؟ اص...