Skip to main content

دعا کی قبولیت کا یقین


رمضان کا مہینہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں ہے، یہ دراصل اس رب سے دوبارہ رشتہ جوڑنے کا نام ہے جس سے ہم سارا سال نادانی میں دور رہتے ہیں۔ لیکن اس پورے مہینے کا جو سب سے خوبصورت، سب سے نازک اور سب سے طاقتور پہلو ہے، وہ ہے "دعا"۔ اور دعا صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی، دعا تو اس یقین کا نام ہے کہ جب پوری دنیا کے دروازے بند ہو جائیں، تب بھی ایک در ایسا ہے جو کھلا رہتا ہے۔

ہم اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ہم دعائیں تو بہت مانگتے ہیں مگر وہ قبول نہیں ہوتیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم مانگتے ضرور ہیں، پر ہمیں یقین نہیں ہوتا۔ ہم بظاہر تو ہاتھ اٹھائے بیٹھے ہوتے ہیں لیکن دل کے کسی کونے میں یہ وسوسہ دبکا بیٹھا ہوتا ہے کہ "پتہ نہیں یہ کام ہوگا بھی یا نہیں"۔ بس یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہماری دعا کی تاثیر دم توڑ دیتی ہے۔ رمضان ہمیں اسی یقین کی تربیت دیتا ہے۔ ذرا سوچیے، جب افطار کے وقت سامنے ٹھنڈا پانی اور لذیذ کھانے موجود ہوتے ہیں، ہمیں پیاس بھی لگی ہوتی ہے اور بھوک بھی، لیکن ہم ہاتھ نہیں بڑھاتے۔ کیوں؟ کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ہمارا رب دیکھ رہا ہے اور اس کا حکم آنے والا ہے۔ جب ہمیں اس کے حکم پر اتنا یقین ہے، تو اس کے وعدوں پر یقین کیوں نہیں ہوتا؟

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں صاف فرما دیا: "جب میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں تو میں قریب ہی ہوں، پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں"۔ یہاں کسی واسطے کا ذکر نہیں، کسی لمبی چوڑی شرط کا ذکر نہیں۔ بس پکارنے والے کی پکار اور رب کا قرب۔

ہم نے دعا کو ایک رسمی کارروائی بنا لیا ہے۔ ہم چند عربی جملے رٹ لیتے ہیں یا چند مخصوص دعائیں مانگ کر فارغ ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ دعا تو ایک مکالمہ ہے۔ اپنے رب سے باتیں کرنا سیکھیے۔ اسے بتائیے کہ آپ تھک گئے ہیں، اسے بتائیے کہ آپ کے خواب ٹوٹ رہے ہیں، اسے بتائیے کہ آپ کو کس بات کا ڈر ہے۔ وہ تو شہ رگ سے زیادہ قریب ہے، وہ تو آپ کے آنسو گرنے سے پہلے آپ کے دکھ کو جان لیتا ہے۔

رمضان کی راتیں، سحری کا وہ خاموش وقت جب پوری دنیا سو رہی ہوتی ہے اور آسمان سے آواز آ رہی ہوتی ہے کہ "ہے کوئی مانگنے والا؟" اس وقت جب آپ تنہائی میں اپنے رب کے سامنے دامن پھیلاتے ہیں، تو وہ صرف آپ کی دعا نہیں سنتا، وہ آپ کے ٹوٹے ہوئے دل کی مرمت بھی کر رہا ہوتا ہے۔ یقین مانیے، جس دن آپ کو یہ احساس ہو گیا کہ آپ کا رب آپ کی باتیں سن کر مسکرا رہا ہے اور فرشتے آپ کی آمین پر مہر لگا رہے ہیں، اس دن آپ کی دعا مانگنے کا انداز ہی بدل جائے گا۔

ایک بہت بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ دعا کی قبولیت کا مطلب صرف وہی ہے جو ہم نے مانگا، وہی مل جائے۔ زندگی اتنی سادہ نہیں ہے۔ اللہ کے ہاں قبولیت کے تین طریقے ہیں۔ یا تو وہ وہی دے دیتا ہے جو ہم نے مانگا، یا اس دعا کے بدلے کوئی بڑی مصیبت ٹال دیتا ہے، یا پھر اسے آخرت کے لیے ذخیرہ کر لیتا ہے۔ اب ذرا سوچیے، اگر آپ کو وہ نہ ملا جو آپ نے مانگا، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے حق میں اس سے بہتر کچھ اور طے ہو چکا ہے۔ وہ رب جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، وہ اپنے بندے کو وہ چیز کیسے دے سکتا ہے جو اسے نقصان پہنچائے؟

 

ہماری مثال اس بچے جیسی ہے جو آگ سے کھیلنا چاہتا ہے کیونکہ اسے آگ خوبصورت لگتی ہے، لیکن ماں اسے روک دیتی ہے۔ بچہ روتا ہے، چیختا ہے اور سمجھتا ہے کہ ماں بری ہے۔ حالانکہ ماں اسے بچا رہی ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح جب ہماری کوئی دعا بظاہر پوری نہیں ہوتی، تو دراصل اللہ ہمیں کسی "آگ" سے بچا رہا ہوتا ہے۔

رمضان میں دعا کی قبولیت کے کچھ خاص اوقات ہیں۔ افطار سے چند منٹ پہلے کا وقت انتہائی رقت آمیز ہوتا ہے۔ جسم نقاہت میں ہوتا ہے مگر روح بیدار ہوتی ہے۔ اس وقت کی گئی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔ اسی طرح سحری کا وقت اور لیلۃ القدر کی تلاش۔ یہ وہ لمحات ہیں جب آسمان اور زمین کے فاصلے سمٹ جاتے ہیں۔

لیکن یاد رکھیے، دعا صرف اپنے لیے مانگنا کنجوسی ہے۔ دوسروں کے لیے مانگنا سیکھیے۔ جب آپ کسی دوسرے کے لیے دعا کرتے ہیں جس کا اسے علم بھی نہیں ہوتا، تو اللہ کا ایک فرشتہ آپ کے سرہانے کھڑا ہو کر کہتا ہے "آمین، اور اللہ تجھے بھی یہی عطا کرے"۔ یعنی آپ دوسروں کے لیے خیر مانگ کر اپنے لیے خیر کا دروازہ کھول لیتے ہیں۔

دعا کی قبولیت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہماری بے صبری ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ابھی ہاتھ گرنے سے پہلے مراد پوری ہو جائے۔ اللہ کو "الحلیم" کہا گیا ہے، وہ بردبار ہے۔ وہ وقت لیتا ہے کیونکہ وہ ہمیں تیار کرنا چاہتا ہے۔ بعض اوقات دعا کی قبولیت میں تاخیر اس لیے ہوتی ہے کہ اللہ کو اپنے بندے کا گڑگڑانا پسند آ جاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ بندہ تھوڑی دیر اور میرے در پر بیٹھا رہے، تھوڑی دیر اور مجھ سے باتیں کرے۔

رمضان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ صبر کیسے کیا جاتا ہے۔ پیاس لگی ہے مگر صبر ہے۔ اسی طرح دعا مانگ کر صبر کرنا سیکھیے۔ یہ یقین رکھیے کہ جس نے مانگنے کی توفیق دی ہے، وہ عطا کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ اگر اس نے آپ کی زبان پر دعا جاری کر دی ہے، تو سمجھ لیں کہ اس نے قبولیت کا فیصلہ بھی کر لیا ہے، بس تھوڑی سی دیر امتحان کی ہے۔

اس رمضان میں اپنی دعاؤں کو نئی زندگی دیجیے۔ رٹے رٹائے لفظوں سے باہر نکل کر اپنے رب سے دوستی کیجیے۔ اسے اپنی پریشانیاں بھی بتائیں اور اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھی۔ دعا کو بوجھ نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنائیں۔

یاد رکھیے، دعا وہ واحد چیز ہے جو تقدیر کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔ اور جب رمضان جیسا مہینہ ہو، رب کی رحمت جوش میں ہو، اور بندہ یقینِ کامل کے ساتھ ہاتھ اٹھائے، تو ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ بس شرط صرف اتنی ہے کہ مانگتے وقت آپ کا دل یہ گواہی دے رہا ہو کہ: "میرا رب سن رہا ہے، اور وہ مجھے کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹائے گا"۔

اس یقین کے ساتھ مانگیے کہ آپ کسی بادشاہ کے دربار میں نہیں، بلکہ شہنشاہوں کے شہنشاہ اور کائنات کے خالق کے سامنے بیٹھے ہیں جو ایک مچھر کے پر کے برابر بھی کسی کی محنت اور تڑپ کو ضائع نہیں کرتا۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر  

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون محمد نور آسی محترم قارئین آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا یہ مس کا لوجی کیا ہے؟ یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے مس کال اور لوجی یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے سب سے پہلے کس نے مس کال دی- اس کے بارے میں   کوئی مصدقہ حوالہ موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہ ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو دی ہوگی۔ راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟ مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔ بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ مس کا لیں دیتے دیتے اپنا بیلنس زیرو کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان ہو کر کہتے ہیں یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایمان ہیں ۔ ابھی کل ہی سوروپے بیلنس ڈلوایا تھا ایک دفعہ بھی بات نہیں کی اور بیلنس زیرو۔ لعنت ہو ۔۔۔۔ کمپنی...