Skip to main content

آخری سرحد کا سکوت


شہر کی آخری حد پر بنے اس پرانے مکان کی چھت سے جب سورج ڈھلتا تھا، تو دیواروں پر پڑنے والے سائے کسی نوحے کی طرح طویل ہو جاتے تھے۔ زویا نے کھڑکی کے پٹ بند کیے تو لکڑی کی چرچراہٹ نے کمرے کے سناٹے میں ایک لرزہ پیدا کر دیا۔ باہر سڑک پر ٹریفک کا شور مدھم پڑ چکا تھا، مگر اس کے اندر کی دنیا میں ایک ایسی خاموشی تھی جو کسی بھی شور سے زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے۔

میز پر رکھے تانبے کے گلدان میں مرجھائے ہوئے پھول اپنی آخری خوشبو چھوڑ چکے تھے۔ زویا نے ان کی پتیوں کو چھوا۔ وہ خشک ہو کر جھڑ رہی تھیں۔ اسے لگا وہ خود بھی ان پتیوں جیسی ہے، جو شاخ سے ٹوٹنے کے بعد زمین کی مٹی ہونے کا انتظار کر رہی ہیں۔ لیکن نہیں، مٹی ہونا تو تسلیمِ خم ہے، اور وہ ابھی اس مقام پر نہیں پہنچی تھی۔

تین سال پہلے جب وہ اس گھر میں آئی تھی، تو وہ موم جیسی تھی۔ اتنی نرم کہ سامنے والے کی ایک آہ پر پگھل جاتی۔ وہ حارث کی خوشی کے سانچے میں خود کو ڈھالنے کے فن سے واقف تھی۔ حارث کو چائے میں چینی کم پسند تھی، تو زویا نے اپنی زندگی سے مٹھاس کم کر دی۔ اسے اونچی آواز ناپسند تھی، تو زویا نے اپنی ہنسی کو سرگوشیوں میں بدل لیا۔ یہ اس کی کمزوری نہیں تھی، یہ اس کی محبت کا وہ پھیلاؤ تھا جو کائنات کو اپنی آغوش میں لینا چاہتا تھا۔ وہ پگھلتی رہی تاکہ تعلق کی اس حرارت کو برقرار رکھ سکے جس کے بغیر زندگی محض ایک میکانکی عمل بن کر رہ جاتی ہے۔

حارث اکثر کہتا، "زویا، تم اتنی نرم ہو کہ کبھی کبھی مجھے ڈر لگتا ہے کہ تم کہیں مٹ ہی نہ جاؤ۔"

زویا مسکرا دیتی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ موم کا پگھلنا دراصل خود کو فنا کرنا نہیں بلکہ دوسرے کو روشن کرنے کی ایک سعی ہوتی ہے۔ لیکن دنیا، اور خاص طور پر وہ مرد جو طاقت کو صرف سختی میں تلاش کرتے ہیں، اس ہنر کو فطری کمزوری سمجھ بیٹھتے ہیں۔ حارث نے بھی یہی کیا۔ اسے لگا کہ زویا ایک ایسی مٹی ہے جسے وہ جب چاہے، جس شکل میں چاہے، گوندھ سکتا ہے۔ اس نے اس کے صبرو تحمل کو اس کی مجبوری سمجھ لیا۔

پھر ایک شام آئی، جب سردی کی لہر ہڈیوں تک اتر رہی تھی۔ حارث دیر سے گھر لوٹا۔ اس کے لہجے میں وہ کڑواہٹ تھی جو انسان تب نکالتا ہے جب وہ باہر کی دنیا سے ہار کر گھر آتا ہے۔ اس نے معمولی سی بات پر طوفان کھڑا کر دیا۔ زویا خاموش رہی۔ وہ ہمیشہ کی طرح موم بن کر اس کی غصے کی آگ کو پی جانا چاہتی تھی۔ مگر اس رات حارث نے وہ حد پار کر لی جہاں سے واپسی کا کوئی رستہ نہیں ہوتا۔ اس نے زویا کے وجود کی تذلیل کی، اس کی انا کی ان تہوں کو کریدا جو اس نے محبت کے لبادے میں چھپا رکھی تھیں۔

"تمہاری اپنی کوئی پہچان ہے بھی؟" حارث نے حقارت سے کہا تھا۔ "تم تو ایک سائے کی طرح ہو، جس کا اپنا کوئی وجود نہیں۔ میں جو چاہوں، تم وہی بن جاتی ہو۔ تم تو محض ایک مادہ ہو، جسے میں نے شکل دی ہے۔"

اس پل زویا کے اندر کچھ ٹوٹا نہیں، بلکہ کچھ جم گیا۔ وہ جو موم کی طرح پگھل رہی تھی، اچانک ایک نقطے پر تھم گئی۔ اسے احساس ہوا کہ وہ ارادہ ہے، مادہ نہیں ہے۔ وہ ایک ایسی قوت ہے جو اپنے وجود کے موسم خود تخلیق کرتی ہے۔ اس نے حارث کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں اب وہ پرانی لچک نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی چمک تھی جو برف کی سلوں میں ہوتی ہے۔

اگلے کئی مہینے ایک عجیب سے سکوت میں گزرے۔ حارث کو لگا کہ شاید زویا مزید دب گئی ہے، لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اپنے اندر کی اس خاموش چٹان کو بیدار کر رہی ہے جسے کوئی تیشہ نہیں کاٹ سکتا۔ عورت جب پتھر بننے کا ارادہ کر لے، تو زمانے بھر کے آنسو اور واسطے اس کی سختی میں دراڑ نہیں ڈال سکتے۔

آج وہی شام تھی۔ حارث سامنے صوفے پر بیٹھا تھا۔ اس کا چہرہ اترا ہوا تھا، آنکھوں میں وہ پشیمانی تھی جو اکثر فاتحین کو شکست کے بعد ہوتی ہے۔ وہ گزشتہ ایک گھنٹے سے بول رہا تھا۔ وہ معافی مانگ رہا تھا، واسطے دے رہا تھا، پرانی یادوں کی دہائی دے رہا تھا۔

"زویا، مجھے معاف کر دو۔ میں جانتا ہوں میں نے غلطی کی۔ تم تو اتنی نرم دل ہو، تم کیسے اتنی سخت ہو سکتی ہو؟ دیکھو، میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑ رہا ہوں۔"

زویا نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔ حارث کو لگا وہ کسی دیورا سے باتیں کر رہا ہے۔ وہ زویا جسے ایک آنسو تڑپا دیتا تھا، آج ایک سمندر کے سامنے بھی ساکت تھی۔

"حارث،" اس کی آواز اتنی سپاٹ تھی کہ حارث کو اپنے وجود کی نفی محسوس ہوئی۔ "تم نے مجھے پتھر کہا تھا نا؟ شاید تم درست تھے۔ لیکن تم یہ بھول گئے کہ پتھر خود نہیں بنتا۔ اسے تراشا جاتا ہے۔ تم نے اپنے رویوں کی چھیلنی سے مجھے اتنا تراشا کہ اب جو بچا ہے، وہ صرف چٹان ہے۔ تم اسے اپنی انا کی حفاظت کہو یا میری بے حسی، مگر اب اس سرحد کو پار کرنا تمہارے بس میں نہیں۔"

حارث نے اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی، مگر زویا نے ہاتھ پیچھے کر لیا۔ اس کا لمس برف جیسا ٹھنڈا تھا۔

"انسانوں کے درمیان تلخی اکثر اس لیے پیدا ہوتی ہے،" زویا نے دھیمے لہجے میں کہا، جیسے وہ خود سے کلام کر رہی ہو، "کہ ہم ایک آدمی سے جو امید قائم کر لیتے ہیں، وہ اس پر پورا نہیں اترتا۔ تم نے مجھ سے ہمیشہ موم بنے رہنے کی امید رکھی۔ اور میں نے تم سے ایک سائبان بننے کی امید رکھی تھی۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو غلط خانوں میں رکھا تھا۔ آج میں نے اپنا خانہ بدل لیا ہے۔"

حارث کھڑا ہو گیا۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ اس عورت کو کھو چکا ہے جو کبھی اس کے ایک اشارے پر اپنی ہستی وار دیتی تھی۔ وہ اب کسی صفت کی محتاج نہیں تھی۔ وہ خود اپنا عنوان بن چکی تھی۔

"تم کیا چاہتی ہو؟" حارث نے ہارے ہوئے لہجے میں پوچھا۔

"میں کچھ نہیں چاہتی،" زویا نے کھڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، جہاں اب مکمل اندھیرا چھا چکا تھا۔ "میں بس اپنے وجود کے اس موسم میں رہنا چاہتی ہوں جسے میں نے خود تخلیق کیا ہے۔ تسلیم کرنا میرا ظرف تھا، جسے تم نے میری مجبوری سمجھا، اور اب یہ خاموشی میری حفاظت ہے، جسے تم میری انا کہہ رہے ہو۔"

حارث کمرے سے باہر نکل گیا، مگر زویا وہیں کھڑی رہی۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کی روح پر جو بوجھ تھا، وہ اب ہلکا ہو چکا ہے۔ وہ پتھر بن کر بھی آزاد تھی۔ اسے اب کسی کے واسطوں کی ضرورت نہیں تھی، نہ ہی کسی کی طلب میں خود کو ڈھالنے کی تڑپ۔

رات کی سیاہی میں اس گھر کا سکوت اور گہرا ہو گیا تھا۔ زویا نے ایک موم بتی جلائی۔ اس کی لو کانپ رہی تھی، مگر وہ بجھی نہیں۔ زویا کو لگا کہ یہ لو اس کے اندر کی اس سچائی جیسی ہے جو تمام تر طوفانوں کے باوجود اپنا راستہ بناتی ہے۔ اس نے اپنے ہاتھ دیکھے۔ وہ اب بھی وہی تھے، مگر اب ان میں وہ لرزش نہیں تھی جو دوسروں کے سہارے کی محتاج ہوتی ہے۔

وہ جانتی تھی کہ کل جب سورج نکلے گا، تو وہ ایک نئی زویا ہوگی۔ ایک ایسی عورت جسے کسی خانوں میں تقسیم کرنا اب ناممکن ہوگا۔ وہ مادہ نہیں تھی، وہ ایک ارادہ تھی—ایک ایسی آخری سرحد، جسے اب صرف وہ خود پار کرنے کی اجازت دے سکتی تھی۔

باہر جنگل کی ہواؤں میں بھیڑیوں کی دور دراز چاپ سنائی دے رہی تھی، مگر اسے اب ڈر نہیں تھا۔ کیونکہ جس نے اپنی روح پر پتھر کا لبادہ اوڑھ لیا ہو، اسے جنگل کی تنہائی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ ایک ایسی کہانی بن چکی تھی جو ایک ہزار راتوں تک کہی جا سکتی تھی، اور جس کا ہر لفظ اس کی اپنی خودداری کا گواہ تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ