کائنات کی پہلی آواز کیا تھی؟ شاید کسی ستارے کے
ٹوٹنے کی گونج، یا پہلی بارش کے قطرے کی زمین سے ہم آغوشی۔ مگر انسانی تہذیب کی
پہلی آواز یقیناً دھڑکنا تھی۔ ماں کے پیٹ میں بچے نے موسیقی کا پہلا سبق اس کے دل
کی دھڑکن سے سیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسان نے ہوش سنبھالا، تو اس نے کائنات کے اس
تال (Rhythm) کو نقل کرنے کی کوشش
کی۔ کہیں بانس کی پوروں میں سوراخ کر کے ہوا کو قید کیا گیا، تو کہیں لکڑی کے
کھوکھلے تنے پر جانور کی کھال منڈھ کر ایک ایسی صدا پیدا کی گئی جس نے صدیوں تک
انسانی روح کو تڑپائے رکھا۔
موسیقی محض سروں کا مجموعہ نہیں ہے، یہ کسی بھی
قوم کا وہ شناختی کارڈ ہے جو لفظوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ آپ جاپان کے کوتو (Koto) کی
تاروں کو چھیڑیں تو آپ کو وہاں کی برف پوش چوٹیوں کی خاموشی محسوس ہوگی۔ آپ سپین
کے فلیمنگو گٹار کی تپش سنیں تو اندلس کی تاریخ کا جلال اور جمال آنکھوں میں رقص
کرنے لگے گا۔ لیکن صاحب! اگر آپ نے زندگی کے اصل جوہر، اس کی کچی سچائی اور کائنات
کی قدیم ترین نبض کو محسوس کرنا ہے، تو کبھی افریقہ کے جنگلوں، صحراؤں اور بستیوں
سے اٹھنے والے ان ڈھولوں کی آواز سنیں، جو زمین کی دھڑکن بن کر گونجتے ہیں۔
افریقی موسیقی کے بارے میں یہ سمجھنا کہ یہ محض
چند لوگوں کا مل کر شور مچانا ہے، ایک فکری مغالطہ ہے۔ افریقہ میں ڈھول بجایا نہیں
جاتا، ڈھول بات کرتا ہے۔ وہاں ایک قدیم صنف ہے جسے ٹاکنگ ڈرم (Talking Drum) کہا جاتا ہے۔ یہ لکڑی اور چمڑے کا وہ جادو ہے جو انسانی آواز کے
اتار چڑھاؤ کی ہو بہو نقل کرتا ہے۔ قدیم دور میں جب پیغام رسانی کے ذرائع نہیں
تھے، تو یہ ڈھول ہی تھے جو ایک قبیلے سے دوسرے قبیلے تک خوشی، غمی، جنگ یا امن کا
پیغام پہنچاتے تھے۔ ڈھول کی ایک مخصوص تھاپ کا مطلب ہوتا تھا 'بچہ پیدا ہوا ہے'
اور ایک خاص تال بتاتی تھی کہ 'دشمن سرحد پر ہے'۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ افریقی موسیقی سنتے
ہی انسان کے پاؤں خود بخود کیوں تھرکنے لگتے ہیں؟ اس کی وجہ بہت گہری ہے۔ افریقی
موسیقی پولی رِدم (Polyrhythm) پر مبنی ہوتی ہے۔
یعنی ایک ہی وقت میں کئی مختلف تالیں ایک ساتھ چل رہی ہوتی ہیں۔ یہ بالکل ویسا ہی
ہے جیسے انسانی جسم کے اندر دل الگ دھڑکتا ہے، سانس کی اپنی رفتار ہے، پلک جھپکنے
کا اپنا وقت ہے اور خون کی گردش کا اپنا ایک بہاؤ۔ جب افریقی ڈھول بجتا ہے، تو وہ
آپ کے شعور سے نہیں بلکہ آپ کے ڈی این اے (DNA) سے
گفتگو کرتا ہے۔ وہ آپ کو اس عہدِ رفتہ کی یاد دلاتا ہے جب انسان اور فطرت کے
درمیان کوئی مصنوعی دیوار نہیں تھی۔
موسیقی کبھی قید نہیں رہتی۔ جب افریقہ سے
انسانوں کو غلام بنا کر بحری جہازوں میں لاد کر امریکہ اور یورپ لے جایا گیا، تو
وہ اپنے ساتھ مال و دولت تو نہ لے جا سکے، مگر وہ اپنا تال ساتھ لے گئے۔ ان کی
زنجیروں کی جھنکار میں بھی افریقی ڈھول کی تھاپ شامل تھی۔ اسی کرب اور اسی تال کے
ملاپ سے وہ موسیقی پیدا ہوئی جسے آج دنیا جاز (Jazz)، بلوز
(Blues) اور راک اینڈ رول کے
نام سے جانتی ہے۔ آج آپ مغرب کا کوئی بھی پاپ گانا سن لیں، اس کے پیچھے جو بیٹ (Beat) چل
رہی ہے، اس کا سرا کہیں نہ کہیں کسی افریقی قبیلے کے ڈھول سے جا ملتا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ ہم اس جدید دور میں ان قدیم
ڈھولوں کی طرف کیوں لوٹنا چاہتے ہیں؟ اس لیے کہ ہماری زندگی میں شور تو بہت بڑھ
گیا ہے مگر آواز کھو گئی ہے۔ ہم نے ڈیجیٹل آلات کے ذریعے موسیقی کو اتنا صاف ستھرا
اور پرفیکٹ بنا دیا ہے کہ اس میں سے زندگی کی وہ کچی مہک ختم ہو گئی ہے جو مٹی سے
جڑے سازوں میں ہوتی ہے۔ افریقی ڈھول کی آواز میں ایک قسم کی کھردراہٹ ہوتی ہے، ایک
ایسی بے ساختگی جو آپ کو یہ بتاتی ہے کہ زندگی ہمیشہ ہموار نہیں ہوتی، مگر وہ
بہرحال خوبصورت ہے۔
افریقی موسیقی میں ساز، بجانے والا اور سننے
والا الگ الگ نہیں ہوتے۔ وہاں رقص تماشائی کا کام نہیں بلکہ عبادت کا درجہ رکھتا
ہے۔ جب ڈھول بجتا ہے، تو پورا قبیلہ ایک وحدت بن جاتا ہے۔ وہاں کوئی اسٹیج نہیں
ہوتا، پوری زمین ہی اسٹیج ہے۔ یہ منظر انسانی انا کی نفی کا منظر ہے۔ جب آپ کسی
افریقی محفلِ موسیقی کا حصہ بنتے ہیں، تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ محض ایک فرد
نہیں بلکہ اس کائنات کے ایک عظیم رقص کا حصہ ہیں۔
کبھی تنہائی میں بیٹھ کر جمبے (Djembe) کی آواز سن کر دیکھیے۔ یہ ایک پیالہ نما ڈھول ہے جس کے بارے میں
افریقیوں کا ماننا ہے کہ اس میں تین روحیں بستی ہیں: درخت کی روح (جس سے لکڑی لی
گئی)، جانور کی روح (جس کا چمڑا استعمال ہوا) اور بنانے والے کی روح۔ جب یہ تینوں
روحیں بجانے والے کے لمس سے جاگتی ہیں، تو ایک ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے جسے الفاظ
میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں موسیقی ختم ہوتی ہے اور وجدان شروع
ہوتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے اپنے برصغیر کی موسیقی اور افریقی تال میں ایک عجیب سی مماثلت ہے۔ ہماری دھمال اور افریقی بیٹ میں وہ جو ایک خاص قسم کا جنون ہے، وہ انسانی روح کی اسی پکار کا تسلسل ہے جو اسے لافانی بناتی ہے۔ ہم نے ڈھول کو صرف شادی بیاہ یا جشن تک محدود کر دیا، جبکہ افریقیوں نے اسے زندگی کا فلسفہ بنا لیا۔ انہوں نے سکھایا کہ جب حالات مشکل ہوں، جب بوجھ زیادہ ہو جائے اور جب لفظ ساتھ چھوڑ دیں، تو بس ڈھول اٹھاؤ اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاؤ۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ افریقی ڈھول سننے کے
بعد ایک عجیب سی توانائی کیوں محسوس ہوتی ہے؟ کیونکہ وہ آپ کو حال میں لے آتا
ہے۔ وہ آپ کو ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے خوف سے نکال کر اس ایک لمحے میں قید
کر دیتا ہے جہاں صرف آپ ہیں اور ایک لافانی تال ہے۔
تو صاحب! اگلی بار جب آپ کا دل کسی انجانی اداسی
سے بوجھل ہو، جب آپ کو لگے کہ زندگی کے فاصلے ختم نہیں ہو رہے اور ایڑیاں چل چل کر
تھک گئی ہیں، تو ایک کام کیجیے۔ تمام دنیاوی ہنگاموں سے کٹ کر، آنکھیں بند کر کے
کسی افریقی فنکار کے ڈھول کی تھاپ سنیے گا۔ شاید وہ ڈھول آپ سے وہ بات کہہ دے جو
آج تک کوئی انسان نہ کہہ سکا ہو۔ شاید وہ آپ کو بتا دے کہ زندگی کی اصل خوبصورتی
منزل تک پہنچنے میں نہیں، بلکہ اس تال کے ساتھ قدم ملا کر چلنے میں ہے جو کائنات
کے پہلے دن سے گونج رہی ہے۔
Comments
Post a Comment