کچھ راستے نقشوں پر نہیں، صرف ارادوں کی سلوٹوں میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ سفر جو ہم نے کبھی کیا ہی نہیں، دراصل وہی ہے جس نے ہمیں سب سے زیادہ تھکایا ہے۔ وہ ایک ایسا متوازی رستہ ہے جو ہمارے قدموں کے ساتھ ساتھ چلتا ہے، مگر جس پر کبھی ہمارے پاؤں کا نشان نہیں پڑتا۔
ہم اکثر ان ٹرینوں کا انتظار کرتے رہے جو کبھی پلیٹ فارم پر آئی ہی نہیں تھیں، اور ان ہوائوں کے اسیر رہے جن کا کوئی رخ نہ تھا۔ عجیب بات ہے کہ منزل تک پہنچنے والے تو سستانے بیٹھ گئے، مگر وہ جو کہیں روانہ ہی نہ ہوئے، ان کے اعصاب آج بھی کسی انجانی مسافت کی گرد سے اٹے ہوئے ہیں۔ یہ وہ سفر ہے جو ہم نے اپنی ممکنہ زندگی میں کرنا تھا۔ وہ انتخاب جو ہم نے نہیں کیے، وہ دروازے جو ہم نے نہیں کھولے، اور وہ لفظ جو ہم نے ہونٹوں کی دہلیز پر ہی روک لیے۔
کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اس جگہ سب سے زیادہ قیام پذیر ہوں جہاں ہم کبھی گئے ہی نہیں؟ شاید وہ ان دیکھا رستہ ہی ہماری اصل شناخت ہو، کیونکہ حاصل شدہ تو مٹی ہو جاتا ہے، مگر جو لا حاصل رہ جائے، وہ ہمیشہ تازہ رہتا ہے۔ کسی دن وقت ملے تو خاموشی سے خود سے پوچھیے گا کہ کیا آپ اس مسافر کو جانتے ہیں جو آپ کے اندر بیٹھا اس بستی کی جانب دیکھ رہا ہے جس کا نقشہ آپ نے خود ہی جلا دیا تھا؟
سفر جاری ہے، یا شاید وہ ٹھہراؤ ہمیں گھسیٹ رہا ہے جسے ہم نے غلطی سے سفر سمجھ لیا ہے۔
.jpg)
Comments
Post a Comment