Skip to main content

سفر جو کبھی کیا ہی نہیں گیا



کچھ راستے نقشوں پر نہیں، صرف ارادوں کی سلوٹوں میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ سفر جو ہم نے کبھی کیا ہی نہیں، دراصل وہی ہے جس نے ہمیں سب سے زیادہ تھکایا ہے۔ وہ ایک ایسا متوازی رستہ ہے جو ہمارے قدموں کے ساتھ ساتھ چلتا ہے، مگر جس پر کبھی ہمارے پاؤں کا نشان نہیں پڑتا۔
ہم اکثر ان ٹرینوں کا انتظار کرتے رہے جو کبھی پلیٹ فارم پر آئی ہی نہیں تھیں، اور ان ہوائوں کے اسیر رہے جن کا کوئی رخ نہ تھا۔ عجیب بات ہے کہ منزل تک پہنچنے والے تو سستانے بیٹھ گئے، مگر وہ جو کہیں روانہ ہی نہ ہوئے، ان کے اعصاب آج بھی کسی انجانی مسافت کی گرد سے اٹے ہوئے ہیں۔ یہ وہ سفر ہے جو ہم نے اپنی ممکنہ زندگی میں کرنا تھا۔ وہ انتخاب جو ہم نے نہیں کیے، وہ دروازے جو ہم نے نہیں کھولے، اور وہ لفظ جو ہم نے ہونٹوں کی دہلیز پر ہی روک لیے۔
کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اس جگہ سب سے زیادہ قیام پذیر ہوں جہاں ہم کبھی گئے ہی نہیں؟ شاید وہ ان دیکھا رستہ ہی ہماری اصل شناخت ہو، کیونکہ حاصل شدہ تو مٹی ہو جاتا ہے، مگر جو لا حاصل رہ جائے، وہ ہمیشہ تازہ رہتا ہے۔ کسی دن وقت ملے تو خاموشی سے خود سے پوچھیے گا کہ کیا آپ اس مسافر کو جانتے ہیں جو آپ کے اندر بیٹھا اس بستی کی جانب دیکھ رہا ہے جس کا نقشہ آپ نے خود ہی جلا دیا تھا؟
سفر جاری ہے، یا شاید وہ ٹھہراؤ ہمیں گھسیٹ رہا ہے جسے ہم نے غلطی سے سفر سمجھ لیا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر