Skip to main content

سفرہی زندگی ہے


سفر کی سچائی قدموں کی تھکن میں نہیں، بلکہ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں چھپی ہوتی ہے جو ہمارے اندر جنم لیتا ہے۔ ہم منزل کو مرکزِ نگاہ بنا لیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ پاؤں تلے کچلی جانے والی مٹی، راستے میں ملنے والے اجنبی چہرے اور وہ پگڈنڈیاں جو اچانک ختم ہو گئیں، دراصل ہمیں نئے سرے سے تخلیق کر رہی تھیں۔
جس طرح دریا کا مقصد صرف سمندر میں گرنا نہیں، بلکہ اپنے وجود میں بننے والی لہروں، اٹھنے والے تھپیڑوں اور کنارے کی ریت سے مکالمہ کرنا ہے، اسی طرح انسانی جستجو بھی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ اگر آپ منزل تک نہیں پہنچ جائے تو بھی سفر ضائع نہیں ہوا۔ منزل تک نہ پہنچنا بھی دراصل ایک خاموش اشارہ ہے کہ آپ کا ظرف ابھی کچھ اور ان کہی سچائیوں کا منتظر ہے۔ راستہ جب اپنی طوالت سے ہمیں تھکاتا ہے، تو وہ دراصل ہماری انا کے فالتو بوجھ کو جھاڑ رہا ہوتا ہے۔ ہم جب گھر سے نکلتے ہیں تو کوئی اور ہوتے ہیں، اور جب کسی ناکام موڑ پر رکتے ہیں، تو ہماری آنکھوں میں وہ چمک ہوتی ہے جو صرف وہی پا سکتا ہے جس نے دھوپ اور دھول سے دوستی کی ہو۔
کون کہتا ہے کہ حاصل ہی سب کچھ ہے؟ کبھی کبھی نارسائی ہی ہمیں بے کراں وسعتوں سے آشنا کرواتی ہے۔
کیا معلوم، جسے ہم منزل سمجھ کر پانا چاہتے تھے، وہ محض ایک پڑاؤ ہو اور اصل کہانی ان ٹھوکروں میں لکھی ہو جنہوں نے ہمیں چلنے کا ہنر سکھایا؟

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر