Skip to main content

بارود کی راکھ میں دبی عید اور امید کی کونپل

  

 

رمضان بیت گیا، عید گزر گئی اور فضاؤں میں اب بھی وہ سحر انگیز خوشبو باقی ہے جو صرف عبادت کی تھکن اور صلے کی مٹھاس سے کشید کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس بار کی عید، ماضی کی عیدوں سے ذرا مختلف تھی۔ دسترخوان پر سجی سویاں وہی تھیں، بچوں کے کرتوں پر لگی کلف کی کڑک بھی ویسی تھی، اور عید گاہوں سے اٹھنے والا اللہ اکبر کا غلغلہ بھی ویسا ہی تھا، مگر دل کے کسی نہاں خانے میں ایک عجیب سی کسک، ایک اَن کہی بے چینی اور ایک ہمدردانہ ٹیس سی لگی ہوئی تھی۔ شاید اس لیے کہ جب ہم اپنے پیاروں کے گلے مل رہے تھے، تو عین اسی وقت دنیا کے ایک نقشے پر مائیں اپنے بچوں کی میتوں سے لپٹ کر وداعی بوسے دے رہی تھیں ۔

رمضان المبارک کا مہینہ ہمیں صبر سکھاتا ہے، لیکن اس بار کا صبر صرف بھوک اور پیاس تک محدود نہ تھا، بلکہ یہ اس تماشائے اہل کرم کو دیکھنے کا صبر تھا جو سرحدوں کے پار انسانیت کا لہو بہتے دیکھ کر بھی خاموش تماشائی بنے رہے۔ عید کا چاند نظر آیا تو خوشی کے ساتھ ایک سوال بھی لایا کہ کیا یہ خوشی صرف ان کے لیے ہے جن کے گھر سلامت ہیں؟ یا ان کے لیے بھی جن کے گھروں کی چھتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور جن کے کپڑوں پر اب صرف لہو کے چھینٹے باقی ہیں؟

مجھے یاد ہے، بچپن کی عیدیں کتنی سادہ اور سچی ہوتی تھیں۔ نیا جوتا سرہانے رکھ کر سونا اور صبح صادق سے پہلے ہی جاگ کر عید کی تیاری کرنا ایک الگ ہی جنون تھا۔ تب دشمنی کا تصور صرف گلی کے کسی لڑکے سے  اس کے کھلونے توڑنے تک محدود تھا یا پھر کسی دوست سے ناراضی پر کٹی کر لینے تک۔ ہمیں کیا خبر تھی کہ بڑے ہو کر ہم ایسی دنیا کا حصہ بنیں گے جہاں کٹی کا مطلب میزائلوں کی گھن گرج اور ناراضی کا مطلب پوری کی پوری بستیوں کا مٹ جانا ہوگا۔

اس بار رمضان کے آخری عشرے میں جب اعتکاف کی گداز ساعتیں میسر تھیں، تو دعا کے لیے اٹھنے والے ہاتھ تھر تھرا جاتے تھے۔ دعا مانگیں تو کیا مانگیں؟ اپنی بخشش یا ان کی زندگی؟ اپنی عافیت یا ان کی پناہ؟ سچ تو یہ ہے کہ انسانیت جب تقسیم ہوتی ہے تو دعا کا لہجہ بھی شکستہ ہو جاتا ہے۔ ہم نے تیس روزے تو رکھ لیے، مگر کیا ہم اس پیاس کو محسوس کر سکے جو فرات کے کنارے بیٹھے ان بچوں کی تھی جنہیں پانی کے بدلے آنسو مل رہے تھے؟

جنگ ایک ایسی آگ ہے جو صرف لکڑیوں کو نہیں، خوابوں کو بھی جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ پچھلے کئی مہینوں سے افق پر بارود کے سیاہ بادل اس طرح چھائے ہوئے تھے کہ سورج کی روشنی بھی گہنا گئی تھی۔ اخبارات کی سرخیاں ہوں یا ٹی وی اسکرین پر چلنے والی پٹیاں، ہر طرف سے موت کی آہٹ سنائی دیتی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ انسانیت نے خود کشی کا فیصلہ کر لیا ہے اور اب واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔

لیکن، کہتے ہیں کہ رات جب سب سے زیادہ کالی ہوتی ہے، تو سحر کی پہلی کرن وہیں سے پھوٹتی ہے۔ عید کے ان دنوں میں، جہاں ایک طرف اداسی کا راج تھا، وہیں پسِ پردہ کچھ ایسی سرگوشیاں سنائی دیں جنہوں نے مردہ دلوں میں زندگی کی لہر دوڑا دی۔ مذاکرات کی میزوں پر جمی ہوئی برف پگھلنے کی خبریں آئیں۔ یہ شاید اس اجتماعی دعا کا اثر تھا جو رمضان کی طاق راتوں میں کروڑوں سسکتے ہوئے دلوں سے نکلی تھی۔

امید کی یہ کرن ابھی بہت نحیف ہے، بالکل ویسی ہی جیسے تند و تیز آندھی میں ایک چھوٹا سا چراغ۔ لیکن چراغ کی اوقات اپنی جگہ، اس کی جرات کی داد دینی پڑتی ہے کہ وہ اندھیرے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ جنگ کے بادل ابھی پوری طرح چھٹے نہیں ہیں، خطرات کے سائے اب بھی منڈلا رہے ہیں، مگر اب ایک بات طے ہے کہ انسانیت امن کے لیے بے چین ہو چکی ہے۔ اب لوگ سرحدوں پر لگی خاردار تاروں سے تنگ آ چکے ہیں، اب انہیں ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ نہیں بلکہ بانسری کی تان اور بچوں کے قہقہے سننا ہیں۔

ہمارے مزاج کے موسم بھی عجیب ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا ساتھی ملے جو ہمارے ہر رنگ کو سمجھے۔  ہماری بھی یہی خواہش ہے کہ

میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے خود سے کتنا سچ بولا ہے؟ ہم نے امن کی بات تو کی، مگر کیا ہم نے اپنے اندر کی نفرت کی جنگ ختم کی؟ ہم نے عید کی مٹھاس تو بانٹی، مگر کیا ہم نے اپنے پڑوس میں اس کڑواہٹ کو ختم کیا جو برسوں سے پنپ رہی تھی؟ یہ جنگیں باہر نہیں ہوتیں، یہ پہلے انسانی ذہنوں میں جنم لیتی ہیں۔ جب تک ہم اپنے اندر کے قبیلوں میں بٹے رہیں گے، تب تک دنیا کے نقشے پر کوئی نہ کوئی مقتل آباد رہے گا۔

اب جبکہ رمضان کا مقدس مہینہ بیت چکا ہے اور ہم اپنی معمول کی زندگیوں کی طرف لوٹ رہے ہیں، ہمیں اس امید کی کرن کو بجھنے نہیں دینا۔ یہ کرن ہمیں بتاتی ہے کہ نفرت جتنی بھی طاقتور ہو، محبت کا ایک لمحہ اسے شکست دے سکتا ہے۔ جنگیں نفرت سے شروع ہوتی ہیں لیکن ختم ہمیشہ امن کی میز پر ہی ہوتی ہیں۔ تو پھر کیوں نہ ہم اس میز تک پہنچنے کا راستہ مختصر کر دیں؟ کیوں نہ ہم بارود کی جگہ شعور کو دیں؟

عید کی گزرتی ہوئی شامیں ہمیں پیغام دے رہی تھیں کہ وقت ایک بہتا ہوا دریا ہے۔ جو ڈوب گیا وہ ماضی تھا، جو بچ گیا وہ مستقبل ہے۔ ہمیں اپنے مستقبل کو فرقوں کی بھینٹ نہیں چڑھانا

آئیے، اس بار ہم اپنے اختلافات سے بلند ہو کر انسان بننے کی کوشش کریں۔ اس امید کو پروان چڑھائیں کہ آنے والا سال، آنے والی عید، اور آنے والا ہر دن صرف ہمارے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے امن کا پیغامبر ہو۔

رمضان کی عبادتیں اگر ہمارے دلوں میں نرمی پیدا نہیں کر سکیں، تو ہمیں اپنی جبینوں کے نشانات پر غور کرنا ہوگا۔ عید کی خوشیاں اگر ہمیں دوسروں کے دکھ میں شامل نہیں کر سکیں، تو ہمیں اپنی خوشیوں کے معیار پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔ جنگ کے بادل چھٹ رہے ہیں، یہ اللہ کا احسان ہے، لیکن ان بادلوں کو دوبارہ جمع ہونے سے روکنا اب ہماری ذمہ داری ہے۔

محبت بکھیرنے کا وقت اب ہے، کل شاید بہت دیر ہو جائے۔ آئیے، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں، تلخیوں کو بھلا دیں اور اس سچائی کو تسلیم کر لیں کہ ہم سب ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں۔ اگر کشتی ڈوبی تو سب ڈوبیں گے، اور اگر پار لگی تو ساحل سب کا مشترکہ ہوگا۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ