Skip to main content

معاف کرنا کیوں مشکل ہے؟


زندگی  کے سفر میں ہمیں مسلسل لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ کہیں محبت کے پھول کھلتے ہیں، تو کہیں نفرتوں کے کانٹے ہماری راہوں میں بچھ جاتے ہیں۔  یہی اس زندگی کی خوب صورتی ہے۔ ہم اگر ایک معتدل رویہ رکھتے ہوئے اس سفر کو جاری رکھیں تو زندگی ایک تحفہ بن جاتی ہے ورنہ ایک عذاب ۔

آپ جانتے ہیں کہ ہم نے خود کو تحفظ دینے کے لیے جو دیواریں تعمیر کی ہیں، ان میں سے سب سے مضبوط دیوار "انا" کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ معاف کر دینا کمزوری کی علامت ہے، کہ اگر ہم نے کسی کو معاف کر دیا تو سامنے والا اسے ہماری ہار سمجھے گا، یا شاید ہم خود اپنی نظروں میں گر جائیں گے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟

معاف نہ کرنے کے پیچھے سب سے بڑی رکاوٹ ہماری 'انا' ہے۔ یہ وہ خود ساختہ بت ہے جس کی ہم دن رات پوجا کرتے ہیں۔ جب کوئی ہمارا دل دکھاتا ہے، ہمیں تکلیف پہنچاتا ہے، تو ہماری انا زخموں پر نمک چھڑکتی ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دیکھو، تمہاری تذلیل کی گئی ہے، تمہارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ چنانچہ ہم انتقام کی آگ میں جلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ انتقام کی آگ میں جلنے والا شخص پہلے خود کو بھسم کرتا ہے، بعد میں سامنے والے تک اس کی تپش پہنچتی ہے۔

معافی مانگنا تو درکنار، معاف کر دینا بھی ہمیں ایک پہاڑ سر کرنے جیسا لگتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ معاف کرنے سے ہم اس شخص کو یہ اجازت دے رہے ہیں کہ وہ دوبارہ ہمارے ساتھ ایسا سلوک کرے۔ حالانکہ معافی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم اس شخص کے غلط عمل کو درست مان لیں، یا اپنی حدود کا تقدس کھو دیں۔ معافی کا مطلب ہے اپنے دل سے اس زہر کو نکال باہر کرنا جو ہمیں اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔

جس شخص کو ہم معاف نہیں کر پاتے، ہم درحقیقت اسے اپنے ذہن کی ایک ایسی کوٹھری میں قید کر لیتے ہیں جس کا دروازہ ہم نے خود اندر سے بند کر رکھا ہوتا ہے۔ ہم صبح سو کر اٹھتے ہیں تو وہی چہرہ، وہی تلخ الفاظ، وہی واقعہ ہماری یادوں کے پردے پر دستک دیتا ہے۔ ہم ایک ایسی قید میں جی رہے ہوتے ہیں جہاں قیدی تو ہم خود ہیں، لیکن ہم نے زنجیریں اس شخص کی یادوں کی پہن رکھی ہیں۔

ایک عام آدمی کی زندگی اتنی چھوٹی اور مسائل سے اتنی بھری ہوئی ہے کہ اس میں نفرتوں کا بوجھ ڈھونا ایک حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ ہم اپنے کندھوں پر ان لوگوں کا وزن کیوں اٹھائیں جنہوں نے ہماری روح کو زخمی کیا؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم ان یادوں کو ایک پرانی کتاب کی طرح بند کر دیں، اس پر دھول جمنے دیں اور آگے بڑھ جائیں؟

حقیقت یہ ہے کہ معاف کرنا سامنے والے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے لیے ضروری ہے۔ یہ ایک ایسا تحفہ ہے جو ہم خود کو دیتے ہیں۔ یہ سکون کا وہ جزیرہ ہے جہاں پہنچ کر انسان دوبارہ سانس لینا سیکھتا ہے۔ جب ہم کسی کو معاف کرتے ہیں، تو ہم دراصل اپنی روح کو اس قید سے آزاد کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم کائنات کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ اب فلاں واقعہ یا فلاں شخص کا میرے ذہنی سکون پر کوئی اختیار نہیں ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے حکماء، انبیاء اور صوفیاء نے معافی کو ہی انسانیت کا اصل جوہر قرار دیا ہے۔ جو انسان اپنے دشمن کو معاف کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے، وہ دراصل اس دشمن سے ہزار گنا بلند مقام پر فائز ہو جاتا ہے۔ معاف کرنا اس بات کا اعلان ہے کہ ہماری انسانیت، ہماری محبت اور ہمارا سکون کسی دوسرے کے برے عمل سے زیادہ قیمتی ہے۔ ہمارے سامنے سب سے بڑی مثال فتح مکہ اور خطبہ حجتہ الوداع ہے۔  آپ کبھی سیرت کے یہ ابواب پڑھیے اور ضرور پڑھیے ۔ پڑھ چکے ہیں تو دوبارہ پڑھیے ۔ 

معاف کرنا ایک ریاضت ہے۔ یہ ایک دن میں نہیں آتا۔ اس کے لیے اپنے دل کی زمین کو ہموار کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ سامنے والا بھی انسان ہے، خطا کا پتلا ہے۔ شاید اس کے اپنے تجربات، اس کی اپنی مجبوریاں، یا اس کا اپنا ماضی ایسا رہا ہو جس نے اسے تلخ بنا دیا ہو۔ جب ہم دوسروں کی جگہ خود کو رکھ کر سوچتے ہیں، تو غصہ خود بخود ٹھنڈا پڑنے لگتا ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ کسی کو معاف کر دینے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اس شخص کے ساتھ دوبارہ وہی تعلق بحال کر لیں، یا اسے اپنی زندگی میں دوبارہ وہی جگہ دیں۔ معافی اور "تعلق کی بحالی" دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ آپ معاف کر کے فاصلہ بھی رکھ سکتے ہیں۔ یہ آپ کا حق ہے۔ لیکن دل کے اندر سے کینہ اور نفرت نکال پھینکنا، یہ آپ کا فرض ہے ۔ 

ایک دن ہم سب نے اس دنیا سے رخصت ہو جانا ہے۔ جب ہم آخری سانس لے رہے ہوں گے، تو کیا ہمارے پاس یہ وقت ہوگا کہ ہم ان لوگوں کا حساب رکھیں جنہوں نے ہمیں دکھ دیا؟ کیا تب ہمیں یہ یاد رہے گا کہ کس نے ہمیں نیچا دکھایا؟ نہیں۔ تب صرف یہ یاد رہے گا کہ ہم نے کتنا پیار دیا، کتنی خوشیاں بانٹیں، اور کتنا سکون اپنے ساتھ لے کر گئے۔

معاف کر دینا زندگی کی خوبصورتی کو بڑھا دیتا ہے۔ یہ ہمیں وہ روشنی دیتا ہے جس سے ہم اندھیروں کے پار دیکھ سکتے ہیں۔ آج، ابھی، کسی ایسے شخص کا نام سوچیں جسے آپ نے برسوں سے دل میں بسا رکھا ہے ۔۔۔ لیکن ایک بوجھ کی طرح۔ اسے معاف کر دیں۔ اس کے لیے نہیں، اس کے حق کے لیے نہیں، صرف اپنے سکون کے لیے، اپنی زندگی کی خاطر۔

معاف کرنا مشکل ضرور ہے، لیکن یہ ناممکن نہیں۔ اور یقین مانیے، جب آپ معاف کر دیں گے، تو آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کے کندھوں سے ایک ایسا پہاڑ اتر گیا ہے جسے آپ برسوں سے اٹھائے پھر رہے تھے۔ یہی جینے کا ہنر ہے، یہی انسانیت کی معراج ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر  

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون محمد نور آسی محترم قارئین آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا یہ مس کا لوجی کیا ہے؟ یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے مس کال اور لوجی یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے سب سے پہلے کس نے مس کال دی- اس کے بارے میں   کوئی مصدقہ حوالہ موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہ ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو دی ہوگی۔ راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟ مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔ بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ مس کا لیں دیتے دیتے اپنا بیلنس زیرو کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان ہو کر کہتے ہیں یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایمان ہیں ۔ ابھی کل ہی سوروپے بیلنس ڈلوایا تھا ایک دفعہ بھی بات نہیں کی اور بیلنس زیرو۔ لعنت ہو ۔۔۔۔ کمپنی...