Header Ads Widget

Responsive Advertisement

انوکھی یتیمی

 

انوکھی یتیمی

کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو شور نہیں کرتے، بس اندر ہی اندر انسان کو کھا جاتے ہیں۔ یہ وہ دکھ ہیں جو آنکھوں سے کم اور سانسوں سے زیادہ بہتے ہیں۔ بڑھاپا بھی انہی دکھوں میں سے ایک آئینہ ہے، جس میں انسان اپنی ساری عمر دیکھتا ہے—وہ عمر جو دوسروں کے لیے وقف رہی، مگر آخر میں خود کے لیے خالی رہ گئی۔
زندگی کے ابتدائی برس سہاروں میں گزر جاتے ہیں، اور جوانی ذمہ داریوں میں۔ انسان اپنے آپ کو پیچھے رکھ کر اولاد کو آگے بڑھاتا ہے۔ خواب ان کے نام، دعائیں ان کے حصے، اور محنت ان کے مستقبل کے لیے۔ یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہ سرمایہ ایک دن لوٹ آئے گا، کسی توجہ، کسی لمس، کسی حال پوچھنے کی صورت۔ مگر بعض اوقات وقت لوٹاتا کچھ نہیں، صرف خاموشی دے دیتا ہے۔
اصل تنہائی تب شروع ہوتی ہے جب آس پاس لوگ موجود ہوں مگر دل تک کوئی نہ پہنچے۔ جب عمر کے آخری موڑ پر انسان کو کسی بڑے سہارے کی نہیں، صرف ایک چھوٹی سی موجودگی کی ضرورت ہو—اور وہ بھی میسر نہ آئے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان خود کو دوبارہ بے سہارا محسوس کرتا ہے، جیسے زندگی نے اسے ایک بار پھر خالی ہاتھ چھوڑ دیا ہو۔
یہ دکھ کسی ایک شخص کا نہیں، یہ پورے معاشرے کی شکست ہے۔ ہم کامیابی کی تعریف بدل چکے ہیں، مصروفیت کو محبت پر ترجیح دے چکے ہیں، اور مستقبل بناتے بناتے ماضی کو تنہا کر دیا ہے۔ اس یتیمی میں نہ والدین کی موت ہوتی ہے، نہ رشتوں کا رسمی اختتام—بس اپنائیت آہستہ آہستہ رخصت ہو جاتی ہے۔
اور تب انسان سمجھتا ہے کہ سب سے گہرا دکھ تنہا ہونا نہیں، بلکہ اپنے ہوتے ہوئے تنہا چھوڑ دیا جانا ہے۔

Post a Comment

0 Comments