زندگی کوئی مکمل پروگرام نہیں
زندگی کو اگر ایک systemسمجھ لیا جائے تو احساسات اس کے وہ پس منظر میں چلنے والےprocess ہیں جو دکھائی نہیں دیتے مگر پورے وجود کو متحرک رکھتے ہیں۔ ہر انسان اپنے اندر ایک وسیع ہارڈ ڈرائیو سنبھالے ہوئے ہے، جہاں بچپن کی ہنسی، ادھورے خواب اور ٹوٹے ہوئے یقین خاموشی سے store ہوتے جاتے ہیں۔ کچھ یادیں ایسی ہیں جو بار باربغیر بٹن دبائےopen ہوتی ہیں اور کچھ فائلیں وقت نے دانستہhidden (خفیہ) رکھی ہوتی ہیں، شاید اس لیے کہ انہیں کھولنے کی سکت ابھی پیدا نہیں ہوئی۔
دل جب کسی تجربے سے گزرتا ہے تو وہ محض ایک واقعہ نہیں رہتا، بلکہ پورے احساساتی ڈیٹاdata کو متاثر کرتا ہے۔ کبھی کوئی لفظ اندر اتر کر ایک خاموش وائرس کی طرح سوچ کے نظام میں سرایت کر جاتا ہے، اور انسان خود کو بدلتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ ایسے میں کوئی بیرونی اینٹی وائرس کارگر نہیں ہوتا؛ شفا صرف شعور کی آہستہ آہستہ اپ ڈیٹ سے آتی ہے، جو وقت اور برداشت کے ساتھ ممکن ہوتی ہے۔
رشتے دراصل نازک نیٹ ورک ہیں۔ ذرا سی بے توجہی ہو تو رابطہ کمزور پڑ جاتا ہے، اور باتیں ادھوری لوڈنگ میں اٹک جاتی ہیں۔؛ سگنل کمزور ہو تو غلط فہمیاں رابطوں کو ڈس کنیکٹ بھی کر دیتی ہیں- ہم ایک دوسرے کے دلوں میں داخل تو ہو جاتے ہیں، مگر مکمل ایکسیسaccess کم ہی ملتی ہے۔
ہم سب کسی نہ کسی کے دل میں ایک یوزر نیم رکھتے ہیں، مگر پاس ورڈ ہمیشہ مکمل نہیں ملتا۔ شاید یہی انسانی ربط کا حسن ہے۔
زندگی کوئی مکمل پروگرام نہیں، بلکہ ایک جاری پروسیس ہے، جو کبھی رک کر، کبھی چل کر، ہمیں آہستہ آہستہ خود سے متعارف کراتا رہتا ہے۔

0 Comments