Skip to main content

زندگی کوئی مکمل پروگرام نہیں

 زندگی کوئی مکمل پروگرام نہیں


زندگی کو اگر ایک systemسمجھ لیا جائے تو احساسات اس کے وہ پس منظر میں چلنے والےprocess ہیں جو دکھائی نہیں دیتے مگر پورے وجود کو متحرک رکھتے ہیں۔ ہر انسان اپنے اندر ایک وسیع ہارڈ ڈرائیو سنبھالے ہوئے ہے، جہاں بچپن کی ہنسی، ادھورے خواب اور ٹوٹے ہوئے یقین خاموشی سے store ہوتے جاتے ہیں۔ کچھ یادیں ایسی ہیں جو بار باربغیر بٹن دبائےopen ہوتی ہیں اور کچھ فائلیں وقت نے دانستہhidden (خفیہ) رکھی ہوتی ہیں، شاید اس لیے کہ انہیں کھولنے کی سکت ابھی پیدا نہیں ہوئی۔
دل جب کسی تجربے سے گزرتا ہے تو وہ محض ایک واقعہ نہیں رہتا، بلکہ پورے احساساتی ڈیٹاdata کو متاثر کرتا ہے۔ کبھی کوئی لفظ اندر اتر کر ایک خاموش وائرس کی طرح سوچ کے نظام میں سرایت کر جاتا ہے، اور انسان خود کو بدلتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ ایسے میں کوئی بیرونی اینٹی وائرس کارگر نہیں ہوتا؛ شفا صرف شعور کی آہستہ آہستہ اپ ڈیٹ سے آتی ہے، جو وقت اور برداشت کے ساتھ ممکن ہوتی ہے۔
رشتے دراصل نازک نیٹ ورک ہیں۔ ذرا سی بے توجہی ہو تو رابطہ کمزور پڑ جاتا ہے، اور باتیں ادھوری لوڈنگ میں اٹک جاتی ہیں۔؛ سگنل کمزور ہو تو غلط فہمیاں رابطوں کو ڈس کنیکٹ بھی کر دیتی ہیں- ہم ایک دوسرے کے دلوں میں داخل تو ہو جاتے ہیں، مگر مکمل ایکسیسaccess کم ہی ملتی ہے۔
ہم سب کسی نہ کسی کے دل میں ایک یوزر نیم رکھتے ہیں، مگر پاس ورڈ ہمیشہ مکمل نہیں ملتا۔ شاید یہی انسانی ربط کا حسن ہے۔
زندگی کوئی مکمل پروگرام نہیں، بلکہ ایک جاری پروسیس ہے، جو کبھی رک کر، کبھی چل کر، ہمیں آہستہ آہستہ خود سے متعارف کراتا رہتا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر