Header Ads Widget

Responsive Advertisement

پہاڑوں پر جمی برف کے دکھ

 پہاڑوں پر جمی برف کے دکھ

پہاڑ کی خاموش چھاتی میں جمی برف محض پانی نہیں، ایک طویل صبر کی داستان ہوتی ہے۔ جب یہ پگھلتی ہے تو قطرہ قطرہ اپنے اندر چھپے دکھ کو آزاد کرتی ہے، اور یہی دکھ دریا بن کر بہنے لگتا ہے۔ دریا شور نہیں کرتا، احتجاج نہیں لکھتا، وہ بس چلتا رہتا ہے۔۔۔اپنے سینے میں زمانوں کی تھکن، صدیوں کی ان گنت بھولی ہوئی دعائیں اور بیتے وقت کی ٹوٹی ہوئی قسمیں سمیٹے ہوئے۔ اس کا ہر موڑ کسی سوال کی طرح ہوتا ہے، جس کا جواب کہیں اور رکھا گیا ہو۔
دریا آخرکار سمندر میں اتر جاتا ہے، مگر وہاں پہنچ کر بھی اس کی پیاس ختم نہیں ہوتی۔ اتنی وسعت، اتنی گہرائی، پھر بھی ایک انجانی تشنگی۔ شاید کہ ایسی تشنگی جو پانی سے نہیں بجھتی،جیسے کچھ خلا جو مقدار سے نہیں، معنی سے بھرتے ہیں۔ انسان بھی تو اسی سمندر جیسا ہے؛ خواہشوں کی وسعت کے باوجود اندر کہیں ایک بنجر کنارہ رہ جاتا ہے، جہاں کوئی خیال اترنے سے پہلے ٹھٹھک جاتا ہے۔
ان دیکھے، ان چھوئے لفظ بھی اسی بہاؤ کا حصہ ہیں۔ وہ زبان پر نہیں آتے، مگر دل کی تہوں میں گونجتے رہتے ہیں۔ یہ وہ لفظ ہیں جو لکھے نہیں جاتے، جئے جاتے ہیں۔ اگر ہم انہیں سننا سیکھ لیں تو شاید بہتے دریا اور پیاسے سمندر کے بیچ کھڑی اپنی ذات کو بھی سمجھ سکیں۔۔۔۔
اور یہی سمجھ، اصل سیرابی ہے۔

Post a Comment

0 Comments