Skip to main content

جسے سناتے ہوئے عمر کاٹ دی میں نے


جسے سناتے ہوئے عمر کاٹ دی میں نے 


جسے سناتے ہوئے عمر کاٹ دی میں نے

وہ ایک بات بھی  پوری کہاں کہی میں نے

یوں حرف و لفظ کی سیکھی ہے ساحری میں نے

کہ بات کہنے سے پہلے ،بہت سنی میں نے

محال سانس بھی لینا جہاں کیا گیا تھا

یہ کم نہیں ہے وہاں عمر کاٹ دی میں نے

نہیں ہے کوئی سزاوار اب سماعت کا

صدا لگا کے بھی دیکھا گلی گلی میں نے

ملے گا وقت تو جانیں گے کیا نواح میں ہے

ابھی تو اس کو بھی دیکھا ہے سرسری میں نے

اداس بیٹھا تھا ، پھر ایک بسرے لمحے کو

بہت لطیف سی کردی ہے گدگدی میں نے

روئیں روئیں میں دکھوں سے ہراک کٹاؤ بھرا

اور ایک شال بھی اوڑھی ہے ساحلی میں نے

تمارے شہر میں چشمے کہاں سے لا تا میں

سو اپنے اندر ہی کھودی ہے باؤلی میں نے

ملائمت سی جو لہجے میں ہے ، جواز تو ہے

زمانے بھر سے سنی ہے جلی کٹی میں نے

عجب نہیں ہے کہ جنگل میں وہ سنائی دے

وہ  بات جو کبھی پہلے نہیں سنی میں نے

مرے دروں میں کوئی لو ہے جو جھلکتی ہے

کہاںکسی سے بھی مانگی ہے روشنی میں نے

میں پہلے  سانس کی آری سے ریاض کرتا رہا

پھر اس کے بعد خریدی تھی بانسری میں نے

کہاں یہ چھاؤں سی ٹھنڈک مرے وجود میں تھی

بہت رکھی ہے درختوں سے دوستی میں نے

میں اپنی ساری سپہ ، سارے خوف چھوڑ آیا 

کہ اب کے لڑنی تھی اک جنگ آخری میں نے

وہ گھر میں آیا اچانک ، سو ایسی عجلت میں

کہیں چراغ، کہیں چاندنی دھری میں نے

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر