Skip to main content

گندے کپڑے


گندے کپڑے

ایک نئے شادی شدہ میاں بیوی کرایہ دار کی حیثیت سے ایک نئے محلے میں آئے۔ 
صبح جب خاتون خانہ اٹھی تو اسکی نظر سامنے والے بلا ک کی طر ف گئی۔ اس نے دیکھا کہ سامنے والوں نے گندے کپٹرے دھوکر ٹیرس میں لٹکا ئے ہوئے تھے ۔ لیکن کیڑے میلے میلے نطر آرہے تھے۔
خاتون نے اپنے شوہر سے کہا " لگتا ہے سامنے والی خا تون کو کیڑے اچھی طرح دھونے نہیں آتے ۔ یا پھر وہ جو ڈٹرجنٹ استعما ل کررہی ہے وہ غیرمعیا ری ہے۔ "
خاوند بو لا " ممکن ہے"
دوسرے دن پھر خاتون کو سامنے ٹیرس میں کپڑے لٹکے نظر آئے تو اس نے پھر وہی تبصرہ کیا کہ
یا تو خاتون کو کیڑے دھونے نہیں آتے یا پھر ڈٹرجنٹ صحیح نہیں۔
خاوند خاموش رہا۔
تیسرے دن اسکے خاوند کو دفتر سے چٹھی تھی ۔
وہ لوگ لیٹ اٹھے ۔
خا تون جب جا گی تو اسکی نظر سا منے کی طر ف گئی ۔ لیکن وہ یہ دیکھ کر اچھل پڑی کہ آج
سامنے ٹیرس میں لٹکے ہوئے کپڑے بہت صاف ستھرے نظر آرہے تھے۔ بلکہ ان کے رنگ بھی بہت نما یا ں تھے۔
خاتون نے بہت جوشیلے انداز میں اپنے شوہر کو مخاطب کیا
" لگتا ہے سامنے والی عورت کو کپڑے دھونے کا ڈھنگ آگیا ہے یا اس نے معیاری ڈٹر جنٹ استعمال کر نا شروع کیا ہے۔ وہ دیکھو کپڑے کتنے صاف نظر آرہے ہیں "
شوہر نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور مسکر ا کر کہا
" دراصل آج میں ذرا جلدی اٹھ گیا تھا۔ اور میں نے وہ سامنے والی
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
کھڑکی
۔
۔
کا شیشہ صاف کر دیا تھا۔

Comments

  1. نہایت عمدہ تحریر
    آج کل ہمارا بلکل یہ ہی حال ہے کہ دوسروں کی غلطیاں نکالتے ہیں اپنی آنکھ کا میل نظر نہیں آتا

    ReplyDelete
  2. شکریہ سعود بھائی۔

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ

پہلا روزہ

پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں  اپنا ایک ادبی  شاہکار  اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم  سے  عنائت کریں  اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔  پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ  بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔  پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔  گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی  کی صورت میں دیے تو  دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...