Skip to main content

دنیا کی سب سے خوبصورت عورت


دنیا کی سب سے خوبصورت عورت



جی ہاں دنیا کی سب سے خوبصورت عورت کون ہو سکتی ہے؟
مجھے نہیں پتہ آ پ کیا جواب دیں گے۔
میرے نزدیک دینا کی سب سے خوبصورت عورت " میری ماں " ہے۔
میری ماں میرا سب کچھ
میری دنیا
میری جنت
میرے ذہن میں محفوظ اپنی ماں کا سب سے پہلا عکس جو ابھر تا ہے وہ ایک شفیق، مہربان ، اور خوبصورت چہرے کا ہے
جو میری آنکھو ں کو ٹھنڈ ک بخشتا ہے۔ جو میری روح تک کو سرشار کر دیتا ہے۔
میری یاداشت میں مجفوظ ایک منظر صبح دم آنکھ کھلنے اور " گھوں گھوں" کی ایک مسحورکن آواز کا ہے
یہ آواز پتھر کی بنی چکی سے نکلتی تھی۔ اور صبح دم میرے بچپن میں مجھے بیدار کر تی تھی میں جب سردیوں کی صبح کو اپنا سر رضاتی سے با ہر نکالتا تو مجھے سامنے اپنی ماں چکی کو گھماتے نظر آتی ۔ میں پتہ نہیں کتنی دیر تک اپنی ماں کو دیکھتا رہتا اور چکی کی " گھوں گھوں" کو سنتے سنتے پتہ نہیں کب میری آنکھ دوبارہ لگ جا تی۔
اس دور میں ہمارے گھر میں گھر کی گندم کے روزانہ تازہ پسے ہوئے آٹے سےاور اپنے ماں کے مہربان ہاتھوں سے پکے ہوئےپراٹھے ملتے ۔ ان پراٹھوں جیسی لذت بھر زند گی بھر کسی پراٹھے میں نہ ملی۔
میری ماں صبح سویرے اٹھتی ۔ نمار پڑھتی اور پھر روزانہ کی ضرورت کا آٹا خود پیستی ۔ گاوں میں مشینی چکی تھی مگر میری ماں نے ہمیشہ اپنے ہاتھ سے پسے ہوئے آٹے کو ترجیح دی۔

دوسرا منظر جو میری یا داشت میں محفو ظ ہے وہ قران کی تلاوت کا ہے۔ جیسے ہی سورج کی پہلی کرن نکلتی ہمارے صحن میں سب سے پہلے داخل ہوئی۔ کھلا صحن جس میں ایک دیوار کے ساتھ چار پانچ چار پائیاں رکھی ہوتیں- محلے بھر کے بچے ، بچیاں آتے اور ان چارپائیوں پر بیٹھ جاتے۔ میری ماںگھر کے کا موں سے فارغ ہوتیں اور بچوں کے پاس آجا تیں۔ میں بھی ہاتھ میں قاعدہ پکڑے انہی بچوں کے بیچ بیٹھ جاتا۔ پھر میری بہت دیر تک ان بچوں کو پڑھاتی رہتیں۔

تیسرا منظر ماں کے کندھے پر سر رکھے گاوں کی گلیوں میں گھومنے کا ہے۔ میری ماں جب " نا لے پار" محلے میں اپنے رشتہ داروں کے پاس جاتی تو میں ضد کر کے انکے ساتھ جاتا اور راستے میں تھک جانے کا بہانہ کر تا۔ میری ماں مجھے اٹھا کر کندھے سے لگا لیتیں۔ اور میں اپنے گاوں کو اپنی ماں کے کندھے سے دیکھتا اور لوگوں کو ، ڈھور ڈنگروں کو ایسے چلتے پھرتے دیکھنا بہت اچھا لگتا۔

میں نے پہلی بار دینا کو ماں کے کندھوں سے دیکھا۔

اور اسکے بعد تو مناظر اتنے ہیں کہ کیا کیا بیان کریں۔۔۔
میری ماں نے مجھے اتنا پیار دیا ، اتنی دعائیں دیں کہ دنیا کی کوئی ماں کیا دے گی۔؟
اسی لئے میری ماں مجھے دنیا کی سب سے خوبصورت عورت دکھائی دیتی ہے۔

میری جب شادی ہوئی تو میں اسلام آبا د میں جاب کر رہا تھا۔ والد صاحب میری شادی سے دوسال پہلے فوت ہو گئے تھے۔
مجھے ماں نے کہا " اپنی بیگم کو اسلام آبا د لے جائو۔"
میں نے کہا " صرف ایک شرط ہے کہ آپ بھی ہمارے ساتھ آئیں گی"
بہت دلائل دیے میری ماں نے۔ کہا تمہارے بڑے بھا ئی کی فیملی ادھر ہے۔ میری ساری رشتہ داری ادھر ہے۔ گھر بار حویلی ، ڈنگر سب کچھ تو ادھر ہے۔ میری بوڑھی ہڈیوں میں اب اتنا دم نہیں کہ اسلام آباد جاوں۔
مگر میری ضد کے آگے بالا خر ہار مان لی ۔اور ایسی مانی کہ سالوں گذ ر گئے ابھی تک میرے پاس ہی ہیں۔
میرے بچوں کو دیکھ کر جیتی ہیں اور میں انکو دیکھ کر
چند سال پہلے سیڑھیوں سے گریں تو ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔ بہت تکلیف دیکھی۔ الحمد للہ ہڈی جڑگئی اور چلنے بھرنے کے قا بل ہو گئیں۔ انکی عمر 90 سال کے لگ بھگ ہے ۔ کہتی ہیں چلنے پھر تے موت آ ئے یہی رب سے دعا ہے۔
مجھے انکی خد مت کا اتنا موقع ملا کہ رب العالمین کا شکر گذار ہوں۔
روزانہ صبح جب گھر سے نکلتا ہوں ۔ زیا رت کرکے ، دعائیں لے کے نکلتا ہوں

میں کئی دفعہ انکے سامنے بیٹھ کے انہیں دیکھتا رہتا ہوں ۔ انکے جھریوں بھر ے چہرے کا حسش مجھے مسحور کردیتا ہے۔
انکے سلوٹوں بھرے ہاتھ اتنے نفیس ہیں کہ میں چوم کر آنکھو ں کو لگا تا ہوں۔
تومیں کیوں نہ کہوں
دنیا کی سب سے خوبصورت عورت " میری ماں" ہے

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر