Skip to main content

ایک سیاہ رات کی کہانی



ایک سیاہ رات کی کہانی 
حصہ دوم 
از: محمد نور آسی

اس سٹوری کے اصل کردار ان کے سامنے تھے۔
وہ ان کے منہ سے ۔۔۔۔

سنسی خیزانکشافات سننے کے انتظار میں تھے۔۔

بالاخر مولوی صاحب بولے۔۔ 
فجر کی نماز میں تھوڑا سا وقت ہے۔۔
یہ سب لوگ۔۔
اسد اور تنویر کے منہ سے واقعات کی تفصیل سننا چاہتے ہیں۔۔

اگر اسد بیٹا اب بہتر محسوس کررہا ہے تو
ساری بات بتائے تاکہ لوگ گھر جائیں اور نماز کی تیاری کریں

اسد سے پہلے تنویر بولا
جی مولوی صاحب
میں بتاتاہوں۔۔


ہم لوگ جب اکرم اور شہباز کو بتا کر نکلے تو ہمارے ذہن خوف سے خالی تھے۔
ہم بہت پر اعتماد انداز سے بھن پر پہنچ گئے۔۔۔
وہاں پہنچے تو ایک ہولناک۔۔خاموشی کا سحر
ہرسو طاری تھا۔۔
بھن کے ساتھ ہی واقع پہاڑی بہت بڑی ،
اپنے حجم سے بہت بڑی لگ رہی تھی۔۔
پھر ہوا چلنے لگی۔۔


سرسراتی ہوا۔۔
پھراچانک ہمیں ایسا لگا ۔۔۔
جیسے کچھ آوازیں آ رہی ہوں۔۔۔۔

جیسے کوئی بول رہا ہو-۔۔

پتہ نہیں کیوں ہمیں کچھ کچھ خوف محسوس ہوا۔۔

لیکن اسد نے بھن سے بیس قدم گن کر ڈنڈے کو زمین میں ایک پتھر لے کر دبا نا شروع کیا ۔۔۔

میں بھی اسد کے پاس ہی تھا۔۔

ہر سوگھپ اندھیرا۔۔۔

ہوا چل رہی تھی۔۔ اور
پتہ نہیں کیوں ایسے لگ رہا تھا۔۔ جیسے کوئی بول رہا ہے۔۔
کچھ کہ رہا ہے۔۔

میں نےاسد کو کہا ۔۔۔
جلدی کرو ۔۔ مجھے خوف محسو س ہو رہا ہے۔۔

اسد بولا۔۔۔
ہاں یا ر ۔۔۔ کچھ ایسا ہی مجھے بھی لگ رہا ہے۔۔۔

میں ڈنڈے کو زمیں میں گاڑ رہاہوں ۔۔۔ لیکن بہت مشکل ہورہی ہے۔
کچھ نظرہی نہیں آ رہا۔۔

میں نے کہا
زور زور سے پتھر کو ڈنڈے کے سر پر مارو۔۔۔

پھراسد نے ایسے ہی کیا۔۔

اور بولا
چلواب بھاگو یہاں سے

جیسے ہی میں نےقدم اٹھایا۔۔
اسد چیخا۔۔

تنویر۔۔۔ تنویر۔۔

مجھے کسی نے پیچھے سے پکڑ لیا ہے۔۔

مجھے جن نے پکڑ لیا ہے۔۔

مجھے۔۔۔مجھ۔۔۔

اور پھروہ خاموش ہوگیا۔۔

مجھے ایسے لگا۔۔

میرے پاوں کسی نے زمین سے باندھ دیے ہوں۔۔

اور پھر ۔۔

شاید میں بھی خوف سے بے ہو ش ہوگیا۔۔

………………………………..

مجھے ایسے لگا۔۔
میرے پاوں کسی نے زمین سے باندھ دیے ہوں۔۔
اور پھر ۔۔
شاید میں بھی خوف سے بے ہو ش ہوگیا۔۔۔


اب آگے کی کہانی بلکہ اصل کہانی میں سناتا ہوں۔۔۔ 
اچانک چچا سلطان کا بیٹا کاشف بولا۔۔۔

تم۔۔۔
تنویر، اسد کے ساتھ تقریبا سب ہی لوگ چونک کر بولے۔۔۔
مگر تم تو ہمارے ساتھ ہی وہاں گئے تھے۔۔

جی ہاں ۔۔۔۔ 
میں آپ لوگوں کے ساتھ ہی گیا تھا۔۔۔
اور ایک لمحے کو تو ۔۔۔۔ سچی بات ہے۔۔۔ میں بھی بہت ڈر گیا تھا۔۔۔

مگرپھر اللہ نے مجھے ہمت دی۔۔۔

اور میں بات کی تہ تک پہنچ گیا۔۔۔

کاشف نے بہت پرسکون انداز میں جواب دیا۔۔

اب لوگ کاشف کی طرف متوجہ ہوگئے۔۔۔

سب کی آنکھیں ۔۔

تجسس سے جیسے پھٹ رہی تھیں۔۔۔

--
کاشف دھیما سا مسکرایا۔۔۔ اور کہا۔۔


آپ سب لوگوں کے سامنے میں پہلے تنویر کو جو کہ اسد سے چند قدم پہلے گرا ہوا تھا۔۔ چیک کیا ۔۔ اور آپ لوگوں کو اٹھا نے کا کہا۔۔

پھر

جب میں نےاسد کو اٹھانے کی کوشش کی تو مجھے ایسے لگا

جیسے اسے پیچھے سے کسی نے پکڑا ہوا ہو۔۔

میں لالٹین منگوائی اور جب دیکھا۔۔

تو

اسد کی قمیص ڈنڈے کے ساتھ ہی زمیں میں گڑی ہوئی ۔۔

دراصل اندھیرے میں اسے پتہ نہ چلا۔۔ہوگا۔۔

یوں جب اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو اسے لگا کہ

اسے کسی نے پکڑ لیا۔۔۔

حالانکہ ایسی کوئی بات نہ تھی۔۔

یہ ذہن میں جاگزیں خوف تھا ۔۔۔

جس نے انہیں بے ہوش کردیا۔۔۔۔

سب حیرت سے منہ پھاڑے کاشف کو دیکھے جارہے تھے۔۔۔

-----------------------------------------

THE END

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر  

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون محمد نور آسی محترم قارئین آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا یہ مس کا لوجی کیا ہے؟ یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے مس کال اور لوجی یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے سب سے پہلے کس نے مس کال دی- اس کے بارے میں   کوئی مصدقہ حوالہ موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہ ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو دی ہوگی۔ راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟ مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔ بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ مس کا لیں دیتے دیتے اپنا بیلنس زیرو کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان ہو کر کہتے ہیں یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایمان ہیں ۔ ابھی کل ہی سوروپے بیلنس ڈلوایا تھا ایک دفعہ بھی بات نہیں کی اور بیلنس زیرو۔ لعنت ہو ۔۔۔۔ کمپنی...