Skip to main content

مزاحیہ نظم آپ کا یہ ہفتہ کیسے گزرے گا

 مزاحیہ نظم آپ کا یہ ہفتہ کیسے گزرے گا

ڈاکٹر عزیز فیصل
پیر کی یہ سہ پہر اچانک
تم کو مہنگی پڑ سکتی ہے
ناک شریف پہ کوئی دبوڑی لڑ سکتی ہے
چھیمو، رانو والے رقعے بیوی یکدم پھڑ سکتی ہے
بات سسر تک بڑھ سکتی ہے
نیلے کپڑوں والی بھکارن سے محتاط ہی رہنا
آج اسے کہہ دینا۔۔ بہنا۔۔۔
دفتر سے جب واپس گھر کو آنا
رستے بھر میں تم لاحول ہی پڑھتے جانا
منگل کے دن
کوئی شخص ڈبل شہ بن کر
ایک منٹ کے اندر تم کو ٹھگ سکتا ہے
کچھ داندان کو کیڑا مکوڑا لگ سکتا ہے
انڈا تمھارے منہ کے اندر پھنس سکتا ہے
عین چول سا بندہ تم پر ہنس سکتا ہے
بدھ کو دور کے پنڈ سے کوئی گیسٹ آئے گا
اپنے ساتھ سسر کے علاوہ
نو دس بچے بھی لائے گا
سارا ٹبر دسویں دن کو
شام کا کھانا کھا کر واپس گھر جائے گا
دائیں ہاتھ تمھارا یکدم
دروازے میں آ سکتا ہے
کوا تمھارے گنج کے اوپر اپنی بیٹ گرا سکتا ہے
شک پڑنے پر ہمسائی کا وہمی شوہر
تھانے میں بھی جا سکتا ہے
کوئی ریڈ کرا سکتا ہے
اور پولیس تمھارے دولت خانے پر بھجوا سکتا ہے
جمعرات کو شام کے ساڑھے چار بجے تک
کوئی تمھاری گندی وڈیو لیک کرے گا
بالکل ٹھیک کرے گا
آڈیو کال بھی منظر عام پہ آ سکتی ہے
مس معصومہ تمھارا سارا بھٹہ ہی بٹھوا سکتی ہے
تم کو شہر کے رنڈووں سے پٹوا سکتی ہے
اور تمھارا فون زنانی کولر میں ہی ڈبو سکتی ہے
یا پھر واشن مشین کے اندر دھو سکتی ہے
اور پھر اس نقصان کا باعٹ تم کو کہہ کر
پورے چھ گھنٹے تک زور سے رو سکتی ہے
جمعے کے دن تیز ہوا میں
تاش کی بازی پھِر سکتی ہے
گنج سے اڑ کر وگ بھی نیچے گر سکتی ہے
اک حجام سے جمعہ پڑھ کر
دائیں مونچھ پہ سنجیدہ سا جھگڑا ہو جائے گا
استرے والا پاگل تگڑا ہو جائے گا
گتھم گتھا ہو جانے پر
آدھی ناک بھی کٹ سکتی ہے
چائے والی گرم پیالی
آج تمھارے سوٹ پہ خوب الٹ سکتی ہے
ہفتے کی منحوس فضا میں
تم کو اپنی پڑی رہے گی
بیگم پونے سولہ گھنٹے لڑی رہے گی
یہ محترمہ کسی فضول ترین سی ضد پر اڑی رہے گی
گھر کے سارے بھانڈے آج بھی صاف کرو گے
بیگم کی ہر غلطی پھر بھی معاف کرو گے
پاوں پڑنے، منت ترلے کرنے ہوں گے
ورنہ گھر میں بیگم جان کے دھرنے ہوں گے
۔۔۔
اس اتوار کو بیگم تم پر وار کرے گی
جوتی بیڑا پار کرے گی
چوتھی پسلی سے بیلن ٹکرا سکتا ہے
سر سے خون بھی آسکتا ہے
دسواں دانت بھی ہل سکتا ہے
رات کے پونے تین بجے کو
کوئی شاعر تم سے آکر مل سکتا ہے
تم کو یہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے
بیگم کے ہمراہ کہیں بھی سیر کو جانا پڑسکتا ہے
کوئی تمھارے حقے میں تبدیلی کر سکتا ہے
تمباکو کی بجائے اس میں
کوئی پٹاخہ بھر سکتا ہے
اس ہفتے تم بزم سخن سے تھوڑا سا محتاط گزرنا
صدر کے جوتوں سے تقریبا پورا ڈرنا

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ

پہلا روزہ

پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں  اپنا ایک ادبی  شاہکار  اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم  سے  عنائت کریں  اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔  پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ  بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔  پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔  گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی  کی صورت میں دیے تو  دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...