بھٹکے ہوئے کیوں؟ محمد نور آسی چند دن پہلے کی بات ہے۔ ایک محترمہ مجھ سے ملنے آئیں ۔ ایک اچھےتعلیمی ادارے کی سربراہ ہیں اور کافی معروف شخصیت ہیں ۔ اب اتفاق کی بات کہ میرے پاس کچھ اورلوگ موجود تھے اور میں نے ان کے لئےکھانا منگوایا ہوا تھا۔ وہ محترمہ کہنے لگیں کہ وہ جلدی میں ہیں ۔ انہیں دو تین اہم باتیں کرنی ہیں ۔ میں نے اخلاقا انہیں بات کرنے کا موقع دیا ۔ اور ساتھ ہی کھانے کی بھی دعوت دی ۔ جو انہوں نے قبول نہیں کی اور کہنے لگیں کہ وہ بس دومنٹ اپنی بات کہ کر رخصت ہوتی ہیں ۔ میں نے مہمانوں سے معذرت کی کہ ذرا انتظار کریں میں ان کی بات سن لوں پھر کھانا کھاتے ہیں ۔ اب یہ تما م صورت حال ان محترمہ کے سامنے تھی ۔ کہنے لگیں مجھے احسا س ہے کہ اپ کا کھانا لگا ہوا ہے۔ میں زیادہ ٹائم نہیں لیتی بس مختصر سی بات کرنی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کم وبیش آدھا گھنٹہ گفتگو کی ۔ پھر بھی ان کی تسلی نہ ہوئی کہنے لگیں مجھ جلدی نہ ہوتی تو بات مکمل کرتی ۔ خیر پھر سہی۔ میرےمہمان یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے تھے۔ ان کے جانے کے بعد ایک صاحب نے کہا کہ ان کی گفتگو سوانے اپنی تعریف اور کچھ معاملات پر اپنی خواہشات کے مط...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی