Skip to main content

اندر کی آواز

اندر کی آواز


آج کل کی دوڑ میں ہم نے وقت تو بچا لیا ہے، مگر لمحوں کا حسن کہیں گم کر دیا ہے۔ نگاہیں اسقدر اسکرینوں میں جکڑی ہیں کہ سامنے بیٹھے انسان کی آنکھوں میں اترنے کی فرصت ہی نہیں۔
یہ المیہ نہیں، آزمائش ہے۔ جب بے حسی عام ہو تو حساسیت انقلاب بن جاتی ہے۔ جب جلدبازی قابض ہو تو ایک گہری سانس بغاوت بن جاتی ہے۔ جب سچ تلخ لگے تو ایک مہربان لہجہ شہد بن جاتا ہے۔
ہر صبح کی پہلی کرن یہ پیغام لے کر آتی ہے کہ اندھیرا ہمیشہ کا مہمان نہیں ہوتا۔ ہمارے اندر کی روشنی، باہر کے سناٹے کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بس اپنے وجود کے چراغ کو پہچاننے کی دیر ہے۔
آج اپنے اندر کی آواز سنیں، شاید وہی دوسروں کے لیے امید کی پکار بن جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر