Skip to main content

دسمبر کے شفق رنگ خواب

 دسمبر کے شفق رنگ خواب



دسمبر کی آمد ایک نرم، مرطوب چادر کی مانند ہوتی ہے۔ یہ وہ موسم ہے جب آسمان چھتوں سے اونچا ہو کر فضا میں کہیں پگھل سا جاتا ہے، دھند اور دھوپ کے درمیان ایک سُراغ نہ ملنے والی لکیر کھینچ دیتا ہے۔ ہوا میں کہر کی ململ بچھ جاتی ہے، جس سے دور دراز کے پہاڑ، گھنے آم کے باغ اور کھیتوں کی سرسبز لکیریں ایسے دکھائی دیتی ہیں جیسے کسی پرانے اور باریک آبی رنگ کے کینوس پر بنی ہوں۔

دسمبر کا موسم ہوا اور زمین کے درمیان ایک خفیف معاہدہ ہے۔ ہوا اپنی  سانس ایک رومانوی ٹھنڈک سمو لیتی ہے اور زمین اپنی گرمی کا آخری انبار سمیٹنے لگتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب فضا میں نہ تو برف کی سفاکی ہوتی ہے نہ خزاں کی اداسی، بلکہ ایک ٹھہرا ہوا، شفاف سا انتظار ہوتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کائنات نے اپنا ایک ورق الٹا ہے اور اس کے پیچھے سے مٹی اور ستاروں کی مخلوط خوشبو ابھر رہی ہے۔

یادوں کی پوٹلی کا دھاگہ کھلتے ہی سب سے پہلے آنکھوں کے سامنے وہ جھیل ابھرتی ہے، جو سردی میں سمٹ کر چاندی کی طرح چمک رہی ہوتی ہے۔ اس کا پانی ٹھنڈا ہوتا ہے مگر اس کی سطح پر شام کی شفق گرم رنگ بکھیرتی ہے۔ یہ رنگ کسی مصور کے ہاتھ سے نہیں، بلکہ ڈوبتے سورج کی اداس کرنوں سے نکلتے ہیں —جنگل کے درخت اس منظر کے خاموش محافظ بنے کھڑے ہیں۔ ان کی چھال ٹھنڈ سے سخت ہو گئی ہوتی ہے، مگر ان کی شاخیں آسمان کی طرف اٹھی ہوئی ایسے ہیں جیسے وہ شفق کے آخری ٹکڑوں کو تھامنا چاہتی ہوں۔

اور پھر آوازوں کا گرم دھاگہ اس منظر میں پرویا جاتا ہے۔ دوستوں کی گفتگو کی حرارت وہ واحد آگ ہے جو دسمبر کی یخ بستگی کو تمازت بخشتی  ہے

راتیں اپنا گہرا لباس اوڑھتی ہیں تو گرم کمبل صرف جسم کو نہیں، روح کو بھی لپیٹ لیتے ہیں۔ مونگ پھلی کے چھلکے کی کرختہ آواز، اخروٹ کی مٹھاس، کاجو کی خوشبو — یہ سب مل کر ایک ایسی حسیات کی موسیقی تشکیل دیتے ہیں جو صرف دسمبر کے ریزرو میں محفوظ ہے۔ ۔ دسمبر ہمارے وجود میں اترتی اس سردی کا نام ہے جس کی تہہ میں انسانی تعلق کی گرمی چھپی ہوتی ہے۔ یہ وہ قوس قزح ہے جو برف اور آگ کے درمیان کھینچی گئی ہے۔ یہ یاد نہیں، بلکہ یاد بننے کے لمحوں کا تسلسل ہے۔ ہر سانس کے ساتھ، ہر شفق کے ڈوبنے کے ساتھ، یہ منظر ہمارے اندر کی کسی دیوار پر ایک اور نقش چھوڑ جاتا ہے — ایک ایسا نقش جو کبھی پرانا نہیں ہوتا، بلکہ ہر نئے دسمبر میں تازہ رنگوں سے بھر جاتا ہے۔

م۔ن آسی

 

 

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر  

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون محمد نور آسی محترم قارئین آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا یہ مس کا لوجی کیا ہے؟ یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے مس کال اور لوجی یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے سب سے پہلے کس نے مس کال دی- اس کے بارے میں   کوئی مصدقہ حوالہ موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہ ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو دی ہوگی۔ راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟ مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔ بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ مس کا لیں دیتے دیتے اپنا بیلنس زیرو کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان ہو کر کہتے ہیں یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایمان ہیں ۔ ابھی کل ہی سوروپے بیلنس ڈلوایا تھا ایک دفعہ بھی بات نہیں کی اور بیلنس زیرو۔ لعنت ہو ۔۔۔۔ کمپنی...