Skip to main content

Posts

Showing posts from March, 2016

بیگم ورژن 1۔0۔1

بیگم ورژن 1۔0۔1- ٹیکنکل سپورٹ  ماخوذ: تحریر ۔ محمد نور آسی محترم جناب ٹیکنیکل ایکسپرٹ صاحب آج سے کچھ عرصہ پہلے میں نے گرل فرینڈ ورژن 0۔7 کو اپ گریڈ کروا کر بیگم ورژن 1۔0۔1 لیا تھا۔لیکن کچھ عرصہ بعد ہی پراگروم نے unexpected error دینا کرنی شروع کردیں۔ اور ہر سال ایک عدد نیا سوفٹ ویر بے بی کیوٹ جنریٹ کرنا شروع کردیا۔ اسکے ساتھ بیگم 1۔0۔1 نامی اس پروگرام نے مزید کئ سوفٹ ویرخود بخود انسٹال کرلیے جیسے سالا 420، ساس 302 وغیرہ اور ہر پروگرام کی بہت کڑی نگرانی کا فریضہ بھی سرانجام دینا شروع کردیا ۔ جیسے دفتر1۔9، تاش2۔3، ہوٹل 5۔1، پارک6۔7، اور سرکاری دورہ8۔1 ان پروگرام کی موجودگی میں جو سب سے بڑی مشکل پیش آرہی ہے وہ یہ کہ  موجود ہ سوفٹ ویر گرل فرینڈ وژن 7۔1 کو بالکل ایکسپٹ نہیں کر رہا۔ بلکہ   ہر دفعہ لاگ ان ہونے پر سوفٹ ویر تمام ایسسیریز کو سکین کرتا ہے۔ اگر کہیں کوئی فائل جسکی ایکسٹیشن بال، لپ سٹک یا خوشبو ہو تو پوراسسٹم ہینگ ہو جاتا ہے اور پورے سسٹم کو نئے سرے سے ری سٹارٹ کرنا پڑتا ہے۔ مجھے اپنی پسندیدہ اپلی کیشن کو چلاتے وقت یہ بالکل پسند نہیں کہ بیک گ...

دو ٹانگوں والے کتے اور اخلاقی انقلاب

دو ٹانگوں والے کتے اور اخلاقی انقلاب محمد نور آسی بچیاں سکول جانے لگیں تو میں نے کہا " بیٹے ۔ سکول جاتے ہوئے ۔ دھیان رکھنا۔ راستے میں آوارہ کتے ہوتے ہیں " بڑی بیٹی نے مجھے مسکرا کر دیکھا اور کہا " ابو ۔ آٌپ تو جانتے ہیں یہ کینٹ کا علاقہ ہے۔ یہاں آوارہ کتے نہیں ہوتے" " میں ان کتوں کی بات نہیں کر رہا بیٹے ۔ میں دوٹانگوں والے کتوں کی بات کررہا ہوں" " دو ٹانگوں والے کتے" میری بیٹی چلتے چلتے ایک دم رک گئی اور حیرت سے مجھے دیکھنے لگی " جی بیٹا" وہ کچھ دیر سوچتی رہی پھر جھینپ کر بولی " جی ابو! وہ تو ہوتے ہیں" " بس بیٹا ۔ ایسے کتے بھونکتے رہتے ہیں ۔ ان کی طرف دھیان نہ دینا" یہ باتیں ویگن میں بیٹھا ایک بزرگ اپنے ساتھی کے ساتھ کر رہا تھا۔ دراصل بات کچھ شروع ایسے ہوئی کہ ایک سواری کنڈکٹر سے الجھ پڑی ۔ بات کرائے کی تھی۔ سواری کا موقف تھا کہ کرایہ کم بنتا ہے لیکن کنڈکٹر یہ بات سننے کو تیا ر نہ تھا۔ یوں باتوں باتوں میں ایک صاحب کہنے لگے " یہ اسلام آباد ہے یہاں پبلک ٹرانسپورٹ کا یہ حال ہے تو ب...

قصہ قیس سے ملاقات اور پلاٹ کی بکنگ کا

قصہ قیس سے پہلی ملاقات  محمد نور آسی بہت عرصہ سے یہ شعر سن رکھا تھا قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو خوب گذرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو سو قیس کی تنہائی کا تصور ہمیں بھی جذباتی کرتا تھا کہ چلیں مل لیں اک بار۔ دیکھ لیں کس حال میں ہے۔ ایک دو دفعہ اسی خیال سے گھر سے نکل بھی پڑے تھے لیکن رستے میں بھوک اور پیا س نے ستایا تو پلٹ آئے ۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب عمر کی ابتدائی سیڑھیوں پر تھے۔  پھر کچھ اور لوگوں سے پتہ چلا کہ جنگل میں صرف قیس نہیں کچھ جانور بھی ہوتے ہیں ۔  خوف محسو س ہوا ۔ ایسا نہ ہو قیس کے بجائے کسی لگڑ بھگے سے واسطہ پڑ جائے ۔ بچپن میں تو سوچ بھی خام تھی ۔ سو قیس سے ملاقات ایک خواہش تک محد ود رہی ۔ پھر وقت کی رفتار تیز سے تیز تر ہوتی گئی اور قیس سے ملنے کی خواہش بھی کہیں خواہشوں کے انبار تلے دب گئی ۔ یہ آج سے کچھ دن پہلے کی با ت ہے ایک پرانے دوست سے ملاقات ہوئی اور بہت عرصہ بعد ہوئی سو ساری مصروفیات چھوڑ کر چند دن اس کی معیت میں گذارے کہ اے داغ کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا بہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سے چونکہ بچپن ایک ایسے علاقے میں گذرا ہے جہ...