Header Ads Widget

Responsive Advertisement
Showing posts from 2020Show all
 تعجب ہے کہ جو سردار بھی ہے
 چشمِ نم کوکبھی دریا نہیں ہونے دیں گے
جھیل کا مدعا سمجھتے ہیں
لفظ ہجرت پر کہے گئے اشعار
دہرے قوافی کے ساتھ ایک غزل
صدق میں بڑھ کر ہے سب سے مرتبہ صدیق کا
 کسی بھی عشق کے لمحے میں لکھ دیا جائے
بخشتا ہے عجب طلال مجھے
سچ بتا دے اے خوش جمال مجھے
ہمیں بھی قیس قبیلے میں لکھ دیا جائے
فطرت میں رہزنی ہے اور شوق رہبری کے
، تنگیء دل کا گلہ کیا
نعت خوانی تو محبت کا نشاں ہو تی ہے
ورنہ ان لوگوں کی جرات کیا ہے
تھیں دل کی دھڑکنیں بھی ہماری صدا کے ساتھ
ظالم کے ہاتھ اس لئے اب تک دراز ہیں
بے تیغ جاؤں گا نہ کبھی دشمن کے سامنے
جلنا بھی منحصر ہے اسی کی بقا کے ساتھ
گو عمر کے سفر میں بہت راہ کٹ گئی
 اپنے جیسے ہی فقط اسکو پسند آتے ہیں لوگ
 ورد کیا صلی علی مجھ کو ملا ہے بے مثال
 مررہے ہیں اگر کسی کے لئے
 مزدور ہجریار کو اجرت نہیں قبول
 خالق کو ہی معلوم ہے شاہکار کا عالم
کیسا رشتہ ہے خار پھولوں کا
 محبت گل کی خوشبو ہے ، محبت مثل شبنم ہے
ڈوبتا سورج، جھیل کنارہ
  سامنے پھیلا ہوا دیکھا ہے صحرا اب تک
 کبھی تو اپنی خودی کو مٹا کے دیکھو تم
  اداس رخ پہ تبسم سجا کے دیکھو تم
کیوں مجھ کو قیس ویس کا قصہ سنائیے
قید رکھتے ہیں میری سوچ کے جالے مجھ کو
 ہاتھ تھامے مرا اور آکے سنبھالے مجھ کو
اپنی آنکھوں کے فریموں میں سجا لے مجھ کو
رات وہ شور تھا اس جسم کے ایوانوں میں
اخلاص ہی عشاق کی پہچان رہے گا
 ضبط کی کب یہ مانتا ہے دل
چاندنی آتی جاتی رہی رات بھر
 غار کی چو ٹیوں سے اترتا ہوا
جھیل کے پرندوں نے مجھ سے آج پوچھا ہے
گھیرے رکھتا ہے کوئی یاد کا سایہ اب تک
 جب ذرا کھرچتے ہیں خون رسنے لگتا ہے
 آگ کی تپش سہ کر موم جب پگھلتا ہے
قریں دل کے جو آیا چاہتا ہے
 پھر بھلے اشک رہا یا سرمژگاں نہ رہا
بات کہتے ہوئے کیوں اٹکنے لگے
رائیگاں کیا ہمارا سفر جائے گا
 روشنی سے ہے ڈر، رات کا خوف ہے
 پہلے وہ ناز سے اک حسن ادا لکھے گی
ظلمت میں روشنی ہے سیرت رسول کی
 گداز ہجر جل کر دیکھتے ہیں
کل تک تو یہی شخص شجر کاٹ رہا تھا
انصاف کا کیا خوب ہے معیار تمھارا
 سروں کو کھڑے تھے کٹا نے کی خاطر
 لڑنا ہے تو پھر حوصلے درکار بہت ہیں