Skip to main content

لفظ ہجرت پر کہے گئے اشعار




لفظ ہجرت پر کہے گئے اشعار


یہ اشعار انحراف انٹرنیشنل فورم میں لکھے گئے تھے

یہ خانہ بدوشی سے الگ اور ہی دکھ ہے
ہجرت کو فقط نقل مکانی نہیں سمجھو
٭٭٭٭٭
اپنے گھر سے نکلنا پڑتا ہے
ہجرتیں بیٹھ کر نہیں ہوتیں
٭٭٭٭٭
ان کو رکنے کا حکم ہو سائیں
پاؤں ہجرت پہن کے بیٹھے ہیں
٭٭٭٭٭
اونٹوں کی اک قطار تھی ، صحرا کی دھوپ تھی
ہجرت کی دوپہر کسی سوہنی کا روپ تھی
٭٭٭٭٭
گلیاں، گھر ، چوبارے، سارے خواب بھی چھوڑنے پڑتے ہیں
ہجرت کرنے والے دل میں لاکھوں قبریں ہوتی ہیں
٭٭٭٭٭
حسرت سے آنکھ دیکتھی تھی جب پڑاؤ کو
ہجرت نے مسکرا کے اشارہ کیا مجھے
٭٭٭٭٭
ہجرت کی ابتدا تو خدا جانے کب ہوئی
یثرب سے جب حسین چلے، انتہا ہوئی
٭٭٭٭٭
کون تھا جو ہجرت کا سوچتا مدینے سے
بات تھی شریعت کی حوصلہ حسینی تھا
٭٭٭٭٭
میری طرح سے یہ ہجرت پسند ہوتے ہیں
اسی لئے تو پرندوں سے پیار ہے مجھ کو
٭٭٭٭٭
ہجرت کے دکھ سہنے والے اس کی عظمت جانتے ہیں
ہجرت ایک ریاضت بھی ہے ہجر ت ایک سعادت بھی
٭٭٭٭٭
مجھے حیرت سے کیوں تم دیکھتے ہو
یہ موسم ہیں جو ہجرت کررہے ہیں
محمد نور آسی
2019

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر