Skip to main content

فلیٹ خریدنا ہوا آسان ۔



فلیٹ خریدنا اب ہوا آسان

جی اسی قسم کے فقرے سے سادہ لوح گاہکوں کو متوجہ کیا جاتا ہے
مکان کے کرائے سے تنگ لوگ اکثر اس سوچ میں ہو تے ہیں کہ
جیسے بھی ہو ایک آدھ فلیٹ لے لیں تو کرائے کے خرچے اور مالکوں کی
چخ چخ سے جان چھوٹے
لیکن وائے افسوس ۔۔۔۔
فنکاروں کی فنکاریوں سے اکثر مار ہی کھا جاتے ہیں۔۔۔
ذیل میں کچھ مشہور ومعروف دعوے جو اکثرتعمیراتی کمپنیاں کرتی ہیں
ان پر ہلکے انداز میں تبصرہ امید ہے آپ کو حقیقت پسندانہ محسوس ہوگا

کم قیمت کے لگژری فلیٹ

جی ہاں قیمت صرف  16لاکھ علاوہ قرضہ ۔بظاہر تو خوش کن ہی ہے

ہاؤس بلڈنگ کا قرضہ صرف 25 لاکھ
جسے آپ کی آنے والی نسلیں بھی اداکرتی رہیں گی۔

شہر سے صرف پانچ منٹ کی مسافت پر

بشرطیکہ آپ سفر خلائی راکٹ سے کریں
ٹھنڈے اور گرم پانی کی لائنیں

ہم صرف لائنیں دیں گے۔۔۔ گرم ٹھنڈا پانی آپ کو خود ڈالنا ہوگا

ٹیلی فون کنکشن، سوئی گیس ، بجلی

ہا ہا ہا۔۔۔۔ کوئی ماننے والی بات کریں یار

سیکورٹی کا اعلی انتظام

گارڈز کی تنخواہیں تو ضرور آپ سے ہی وصول کی جائیں گی لیکن گارڈز کو سلیمانی ٹوپی پہناکر
ڈیوٹی پر کھڑا کیا جائے گا۔۔۔ تاکہ کسی کو بھی نظر نہ آئیں

وقت پر قبضہ ملنے کی گارنٹی

پانچ سات سال کی تاخیر پر پیشگی معذرت۔۔۔ اتنا تو ہوتا ہے

مضبوط اور معیاری طرز تعمیر

دیوار میں کیل ٹھونکنے سے احتیاط کریں۔۔۔ پڑوس میں لوگ زخمی بھی ہوسکتے ہیں ۔۔ دیوار گرنے سے





Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر